قومی تعلیمی پالیسی اس صدی کاانقلاب ہے:گورنر تھاور چند گہلوت

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔کرناٹک کی کوئمپو یونیورسٹی میں بیک وقت میں دو یوم تاسیس یعنی کانوکیشن کا انعقا دکرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کرنے جارہی ہے۔اس موقع پر کرناٹک کے گورنر تھاور چند گہلوت نے کانوکیشن کی صدارت سنبھالی ۔  یونیورسٹی نے سال رواں6/اہم شخصیات کو اعزازی ڈاکٹریت  سے نوازاجس میں سابق اسپیکر ڈی ایچ شنکر مورتی،گیتانارائنن،بی ایم شری کنٹھا،ٹی وی کٹی منی،مہانتیش جی اور بی ایس اروندا شامل ہیں۔ اس دفعہ سب سے زیادہ گولڈمیڈل حاصل کرنے والی طالبہ ایم اے کنڑاکی پرنیتاہیں،جنہوں نے8گولڈمیڈل اور دو نقد پرائز حاصل کئے ہیں۔شعبۂ اردو میں عبدالفتح نے3 گولڈمیڈل حاصل کیے جبکہ جرنلزم کے شعبے میں انجم بصیر صاحب نے3گولڈمیڈل حاصل کئے ہیںاورعائشہ فرحین شیخ نے بی ایڈ میں3گولڈمیڈل اور ایک نقدانعام حاصل کیاہے۔اسی طرح سے اس یوم تاسیس کے موقع پر129 محققین کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دی گئی ہے ۔ اس موقع پر گورنر نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت میں اسٹارٹ اپ پالیسی بیرونی ممالک کو یہاں تجارت کرنے کیلئے مائل کررہی ہے ۔ ین ای پی اس صدی میں تعلیمی انقلاب لانے والاقدم ہے جو ہر مرحلے میں بھارت کو اونچائی تک پہنچائیگا ، خاص طورپر تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کود کو بھی نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے جس سے ہماری نسلیں عالمی سطح پر کھیلوں کا حصہ بن سکتے ہیں ۔ مہمان خصوصی کے طورپر سی یف ٹی آر آئی کی ڈائرکٹر شری دیوی سنگھ نے تاسیسی خطبہ پیش کیا اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ویر بھدراپا ، رجسٹرار انورادھا ، نوین کمار وغیرہ موجود تھے ۔کوئمپو یونیورسٹی کے شعبے اردو کے ماتحت اس دفعہ6 محققینکو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی ہے۔اس موقع پر شعبے کے سربراہ ڈاکٹر سید ثناء اللہ نے خوشی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ یہ ہمارے باعث فخرہے کہ یونیورسٹی میں مختلف موضوعات پر اردو میں تحقیقی مقالے لکھے جارہے ہیں۔اس دفعہ جنمحققیننے ڈاکٹریٹ حاصل کی ہے،اُن میں ڈاکٹر تمیم احمد نے تمل ناڈو کے منتخب شعراء کے کلام کا تنقیدی جائزہ ،عنوان پر مقالہ لکھاہے،ڈاکٹرمحمد عارف اللہ نے علاقۂ ملناڈ کے نمائندہ شعراء و ادباء کی ادبی خدمات پرمقالہ لکھاہے،ڈاکٹرشبیر احمد خان نے کرناٹک کے شعری ادب میں انسانی اقدار پر مقالہ لکھا،ڈاکٹر محمدمنظور نعمان نے روزنامہ سالار کے ادبی ایڈیشن کی تنقیدی اہمیت ( دھوپ چھاؤں کے حوالے سے 2009-2014)، ڈاکٹر رضیہ بی نے ریاست کرناٹک میں نعت گوئی 1960 تا 2010اور ڈاکٹر سیدہ ریحانہ بانو نے کرناٹک میں طنزیہ و مزاحیہ ادب کی روایت کے عنوان پر مقالہ لکھتے ہوئے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔