شیموگہ بھی بنگلوروکی رفتار چلا،ایک ہی دن میں755 کورونا پازیٹیو کیس،5لوگوں کی موت

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں نیشنل نیوز

ضلع اسپتال میں نہیں ہے کوئی مریضوں کیلئے جوابدہ،مریض اندر،رشتہ دارباہر،مرنے کے بعد ہی مل رہی ہے اطلاع

شیموگہ:۔کوروناوباء کی لہر روزبروز بڑھتی ہی جارہی ہے ، ریاست کے مختلف اضلاع میں کوروناکی وباء جہاں تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے،وہیں شیموگہ بھی بنگلوروکی رفتار میں چلنے لگاہے۔آج شیموگہ میں کوروناپازیٹیو تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔آج 755 کوروناپازیٹیو کے معاملات درج کئے گئے ہیں اور5 لوگوں کی موت بھی درج کی گئی ہے ۔ شیموگہ میگان اسپتال میں مریضوں کاآناجانالگاہواہے،جو مریض زیادہ بیمارہیں انہیں کوہی اسپتال میں داخل کیاجارہا ہے جبکہ بقیہ معمولی نشانیاں رکھنےو الے مریضوں کو گھر بھیجا جارہاہے۔سب سے خطرناک صورتحال اُن مریضوں کی ہے جو شدید بیماری کی حالت میں اسپتال میں داخل ہوئے ہیں ، اُن مریضوں کے احوال کے تعلق سے کوئی جوابدہ نہیں ہے ، مریضوں کے آنے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کردیا جارہاہے لیکن اُن کے حال احوال کے سلسلے میں کسی کو کسی طرح کی اطلاع نہیں دی جارہی ہےاور صرف اُنہیں مریضوں کی اطلاع باہر آرہی ہے جوآخری سانسیں لے رہے ہیں یا پھر ہلاک ہورہے ہیں۔اس صورتحال میں مریضوں کیلئے مزید پریشانیاں ہونے لگی ہیں۔اطلاعات کے پانچ افراد کی موت پچھلے چوبیس گھنٹوں میں واقع ہوچکی ہےاور اب بھی کئی مریض سرکاری وخانگی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔نجی اسپتالوں میں کوروناکے مریضوں کو اے ٹی ایم بنالیا گیا ہے ۔ فی دن 12 ہزار روپئے سے25 ہزارروپئے تک کی فیس وصولی جارہی ہے۔لوگ موت کے ڈرسے پیسوں کی پرواہ کئے بغیر نجی اسپتالوں میں اپنی جانیں بچانے کیلئے دوڑ رہے ہیں۔ہر طرف نفسی نفسی کا عالم دکھائی دے رہاہے۔ضلع انتظامیہ کے پاس کوئی معقول جواب بھی نہیں ہے۔شیموگہ میگان اسپتال میں داخل مریضوں کے رشتہ داروں کا کہناہے کہ اسپتال کےا ندر انفارمیشن سینٹر بنایاجائے تاکہ وقتاًفوقتاً مریضوں کے احوال جاننے میں آسانی ہو یاپھر مریضوں تک فون کی رسائی ہو۔اس سلسلے میں ملی وسماجی تنظیموں کی جانب سے بھی ضلع انتظامیہ اور اسپتال انتظامیہ پر دبائو ڈالنے کی ضرورت ہے۔