پی باشاہ کی 24 سال کی محنت رنگ لائی ؛ مقدمے کو جیتنے کیلئے دعا کی درخواست
شیموگہ : شہرکے سب سے متنازعہ اوقافی املاک میں شمارہونے والے وینائکا ٹالکیس یعنی گارڈ ن ایر یا قبرستان کے مقدمے کو نئی جان ملی ہے، جسمقدمہ کو سپریم کورٹ میں کرناٹک وقف بورڈ کو شکست حاصل ہوئی تھی اب وہی مقدمہ پی آئی یل کے ذریعے سے دوبارہ کرناٹک وقف ٹریبونل میں سنوائی کے لئے قبول کرلیا گیا ہے اور اس مقدمے کی نمائندگی کرنے والے پی باشاہ نے بڑی کامیابی مانی ہے ۔ انہوںنے اس سلسلے میں روزنامہ کو اس معاملے کی پوری تاریخ کا خلاصہ دیتےہوئے کہا کہ یہ قبرستان نیا نہیں بلکہ 1871 سے زیراستعمال ہے، اس وقت اس 2 ایکر 17گونٹے زمین کا کھاتا محمد قاسم ولد محمد صاحب مسلمان قبرستان کے نام سے تھا اور اس قبرستان میں حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کے توپ خانے کے کئی فوجی مدفون ہیں لیکن 1974 میں اس زمین کا تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب اس وقت کے ڈی سی نے اس زمین کو میونسپل کائونسل کے حوالے کرنے کی گزارش کی تھی ۔ اس وقت سارے شہر کےعمائدین اس گزارش کو مسترد کرچکے تھے لیکن اس دور کے چار خود ساختہ مسلم لیڈروں نے قبرستان کی زمین کو میونسپل کائونسل کے حوالے کرنے کے لئے اپنی تحریری رضامندی ظاہر کی تھی جس میں کانگریس کے مرحوم سینیر لیڈر میر عزیز احمد ، مرحوم ابراہیم خان ، مرحوم محیب اور رشید خان شامل ہیں ۔ انکے گمراہ کن معاہدے کی وجہ سے مسلمانوں کی اوقافی زمین مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گئی تھی ۔ لیکن جب اس سلسلے میں شہریان شیموگہ کو اطلاع ملی تو انہوںنے شدید مخالفت کرتے ہوئے قبرستان کی بازآباد کاری کا سلسلہ شروع کیا ۔ اس وقت وقف بورڈ سے رجو ع کیا لیکن وقف بورڈ میں دستاویزات درست نہ ہونے کی وجہ سےیہ معاملہ سیشن کورٹ میں وقف بورڈ کے خلاف ہوا تھا ، اسکے بعد ضلعی عدالت نے بھی معاملے کو مسلمانوں کے خلاف ہی ٹہرایا ، اسی طرح سے ہائی کورٹ میں بھی وقف بورڈ کو کامیابی نہیں ملی بلاآخر معاملے کو لے سپریم کورٹ میں گئے وہاں پر اس مقدمے کو خارج کردیا گیا تھا۔ ان تمام فیصلوں کے بعد شیموگہ کے مسلمان ناامید ہوچکے تھے ، لیکن پھر ایک مرتبہ قانونی ماہرین کا سہارا لیا گیا جس میں کرناٹک ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس جواد رحیم کے مشورے پر شیموگہ کے معروف وکیل یم آر ستیانارائن کے تعاون لیا گیا ۔ اسی دوران شہر کی اس وقت کی سنی جمیعت العلماء کمیٹی جن میں کئی مخیرین شامل تھے انہوںنے اس مقدمے کو آگے لے جانے کا فیصلہ کیا اور اس مقدمےکی نمائندگی کے لئے مجھے یعنی پی باشاہ کو منتخب کیا گیا ۔ قریب دو سالوںکی شدید مشقت اور قربانیوں کے بعد اس مقدمے سے جڑے ہوئے دستاویزات اکھٹا کئے گئے جو کہ کوئی معمولی بات نہیں تھی ۔ سال 1998 میں دوبارہ اس معاملے کی سنوائی عوامی مفادعامہ کے ماتحت شیموگہ کورٹ میں درج مقدمہ درج کیا گیا جہاں پر عدالت نے پورے 13 سالوں تک سنوائی کرنے کے بعد مقدمے کو خارج کردیا جس کے فوری بعد میونسپل کائونسل نے قبرستان کی احاطہ بند ی کردی تھی۔ اس کے بعد دوبارہ سال 2019 میں اس معاملے کو کرناٹکا وقف ٹریبونل میں درج کیا گیا جو کووڈ و دیگر وجوہات کی بناء پر فوری سماعت کے لئے تیار نہیں ہواہے ۔ اب اس معاملے کی سنوائی شروع ہونے کے بعد وقف ٹریبونل نے معاملے کی سنوائی کے لئے منظوری دے دی ہے ۔ اس موقع پر مقدمے میں پی باشاہ کے ساتھ رہنے والے محمد ارشادپاشاہ سابق صدر ٹیپومسجد نے کہا کہ جو مقد مہ سپریم کورٹ تک جاکر مسلمانوں کے ہاتھ نہ آیا اسےپی باشاہ صاحب کی 24 سالوں کی محنت سے نئی جان ملی ہے ، یہ بہت بڑی بات ہے ، اس وقت کی سنی جمعیت العلماء کمیٹی کے سکریٹری محبوب خان کی دور اندیشی و مثبت سوچ کی وجہ سے گارڈن ایریا کے قبرستان کو بچانے کے لئے پی باشاہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا ، پی باشاہ صاحب نے اس قبرستان کو بچانے کی خاطر اپنی ذاتی املاک سے لاکھوں روپئے خرچ بھی کئے ہیں جس کا بدلہ وہ اللہ سے چاہتے ہیں ۔ ہم شہریان شیموگہ کے تمام لوگوں کے مشکور ہیں جنہوںنے اس کار خیر میں تعاون کیا ہے ،حالانکہ اس معاملے کو بگاڑنے میں اپنے ہی لوگوں کا ہاتھ رہاہے اور اب بھی کئی لوگ اس کام میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں لیکن اسکی پرواہ کئے بغیر ہم اس املاک کو قوم کے لئے حاصل کرنا چاہ رہے ہیں ۔ اس مقدمے میں پی باشاہ صاحب کے علاوہ مرحوم محبوب خان ، محمد یٰسین بن عبد البشیر ، سید عنایت اللہ بن سید عبد الرحمٰن ، محمد رضاعلی خان بن محبوب خان ، یس نثار احمد بن احمد جان، حسن علی خان آفریدی ،افضل بیگ بن غوث بیگ بھی پارٹی ہیں ۔ متحدہ محاذ کے سکریٹری اقبال احمد قادری نے وقف ٹریبونل میں اس معاملے کی سنوائی پر اطمینان کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ اب تک کی لڑائی میں جن لوگوںنے ساتھ دیا ہے وہ قابل مبارکباد ہیں ، اب آگے کی جدوجہد نہایت سخت اور مشکل ہے ، اسکے لئے عوامی تعاون ، دعائوں اور نیک خواہشات کی ضرورت ہے ، اسکے علاوہ جہاں کہیں بھی مسلمانوں کی اوقافی املاک ہے اس املاک کو بچانے کے لئے دستاویزات درس کریں تاکہ مستقبل میں کسی بھی طرح کی پریشانی نہ ہو۔
