شیموگہ : مسلمانوں میں باصلاحیت افراد کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن افسوس اس بات کاہے کہ ان باصلاحیت مسلمانوں کو شناخت دینے ، انکی ہمت افزائی کرنے اور اعزاز سے نوازنے کے لئے خود مسلمان پیچھے ہیں جس کی وجہ سے باصلاحیت مسلمان مسلم سماج سے علیحدہ ہوتے جارہے ہیں ۔ ہر سال یس یس یل سی ، پی یو سی ، ڈگریوں میں کئی مسلم طلباء نمایاں نمبرات کے ساتھ کامیاب ہوتے ہیںاور کئی طلباء ریاستی و قومی سطح پر رینک بھی حاصل کرتے ہیں لیکن ان طلباء کی ہمت افزائی کرنے کے لئے نہ تو مسلمانوں کی ملّی تنظیمیں تیار ہیں نہ ہی سماجی تنظیموں کو اس بات کا جذبہ ہے۔ اسی طرح سے کئی مسلمان فوج سے سبکدوش ہونے کے بعد گمنامی کی زندگی بسر کرتے ہیں جبکہ کھلاڑیوں کی بھی بڑی تعداد ہے جو قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں مگر انکی ہمت افزای کرنے کے لئے بھی کسی کے پاس وقت نہیں ہے ۔ ڈاکٹروں کی بڑی تعداد موجود ہے اسی طرح سے سرکاری محکموں میں بڑے عہدوں پر فائز شدہ افسران کو بھی مسلمان شناخت دینے میں کوتاہی کرتے ہیں ۔ وہیں دوسری جانب غیروں کو شناخت دینے ، اعزازات سے نوازنا اور تہنیت پیش کرنے کو افضل سمجھا جاتاہے اور اس پر انکی سوچ ہے کہ غیروں کو اچھا رکھا جائے تو وہ ہمیں یاد رکھیں گے ،مسلم رہنماء شاید بھول جاتے ہیں کہ غیر وں کے اسٹیج پر شاید ہی کسی باصلاحیت مسلمان کو بلاکر انہیں اعزازات سے نواز ا جاتاہے ۔ ہر قوم انکی اپنی قوم کے باصلاحیت ڈاکٹر ، انجنیئر ، رائٹرز ، جرنلسٹ ، اسٹوڈینٹس اور کھلاڑیوں کو پہلے اہمیت دیتی ہے لیکن مسلمان ہی ایک ایسی قوم ہے جو دوسروں کو خوش کرنے کی دوڑ میں لگی ہوتی ہے ۔ کئی مسلمان جنہوںنے اپنی محنت و لگن سے کوئی کارنامہ انجام دیے ہوتے ہیں وہ خود اپنی قوم کی جانب سے نظر انداز کئے جانے پر خود کو سماج سے علیحدہ کرنے لگےہیں ، ایسے میں مسلمانوں کی سماجی ، ملّی اور دینی تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ باصلاحیت مسلمانوں کی ہمت افزائی کریں ، انہیں اعزاز و تہنیت سے نوازیں تاکہ دوسروں کو بھی پیغام ملے کہ باصلاحیت افراد کے پیچھے انکے اپنے بھی ہیں
