دہلی :۔تمل ناڈو میں دراوڑ مونیتر کجھ گم (DMK) نے حال ہی میں اپنے شہری اداروں کے نمائندوں کے ساتھ ایک میٹنگ کی۔ میٹنگ میں مرکز اور ریاستوں کے حقوق پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ میں ڈی ایم کے لیڈروں نے مرکزی حکومت کے طرز حکمرانی پر خوب برسے۔ چیف منسٹر اسٹالن نے اپنے مقامی نمائندوں کو بھی خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ لوگ بھی ایسے کام کرتے ہیں جس سے حکومت اور وزیر اعلیٰ کی شبیہ کو نقصان پہنچے تو آپ کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ڈی ایم کے ایم پی اے راجہ نے مرکز پر حملہ کیا اور علیحدہ ریاست کا مطالبہ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن بھی موجود تھے جب اے راجہ پارٹی کے مقامی رہنماؤں کی میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ اے راجہ نے اس دوران بہت سی متنازعہ باتیں کہ ڈالی۔ اپنے خطاب میں اے راجہ نے کہا کہ ہمیں علیحدہ ملک کا مطالبہ کرنے پر مجبور نہ کریں۔ پارٹی کے بانی پیریار مرتے دم تک الگ ملک کا مطالبہ کرتے رہے، لیکن ڈی ایم کے نے جمہوریت اور ملک کے اتحاد کی خاطر ان مطالبات کو ایک طرف رکھ دیا۔ اسی لیے میں ایک درخواست کرتا ہوں۔ میں اپنے وزیر اعلیٰ سے درخواست کرتا ہوں، جو اس وقت انا دورئی کے راہ پر ہیں، انہیں پیریار کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہ کریں۔ ریاست کو خود مختاری اور آزادی دیں۔اہم بات یہ ہے کہ اپنے قیام کے ابتدائی سالوں میں ڈی ایم کے کے اہم مطالبات میں سے ایک ہندوستان سے الگ دراوڑ ناڈوکا مطالبہ بھی تھا۔ پیریار اور انا دورئی نے یہ مطالبہ طویل عرصے تک اٹھایا، تاہم 1962 میں جب جواہر لعل نہرو کی قیادت والی حکومت نے علیحدگی پسندی کو کالعدم قرار دیا، تمل ناڈو کی علیحدہ ریاست کا مطالبہ آہستہ آہستہ ختم ہو گیا۔ تاہم ڈی ایم کے میں کئی بار دراوڑ ناڈو کی حمایت کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ کافی عرصے بعد ایک بار پھر اے راجہ نے الگ ملک کے مطالبے کی بات کرکے اس مطالبے کو بڑھانے کا کام کیا ہے۔ اے راجہ نے لسانی اختلاف کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کہتے ہیں کہ ہندی کو ہندوستان کی ایک زبان ہونا چاہئے اور ملک کو متحد رکھنے کے لئے ہندی کا استعمال ضروری ہے، کیا ایک زبان ملک کو متحد کرے گی؟راجہ نے قیام پاکستان اور جناح کے ساتھ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان الگ ہوا تو اس ملک کے بانی شمالی پاکستان ڈھاکہ گئے ہوئے تھے جب وہ وہاں اردو میں تقریر کر رہے تھے تو ایک نوجوان لڑکا کھڑا ہو گیا۔ اور کہا کہ وہ صرف بنگلہ جانتے ہیں، اردو نہیں، اس کے باوجود جناح اردو میں بولتے رہے، بعد میں یہی پاکستان کی تقسیم کی وجہ بنی۔ڈی ایم کے ایم پی نے کہا کہ ہندوستان کو ریاستوں کے اتحاد کے طور پر قائم کرنا خود بی آر امبیڈکر کے لیے ایک مشکل کام تھا، کیونکہ کانگریس اس وقت اقتدار میں تھی، اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ امبیڈکر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اے راجہ نے کہا کہ لفظ بھارتم کو آئین میں زبردستی شامل کیا گیا تھا ،نہ کہ ان کی مرضی سے۔ آئین پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں اختیارات کی تین اقسام کی تقسیم کا ذکر ہے ۔ مرکز کے اختیارات، ریاست کے اختیارات اور ہم آہنگی کے اختیارات۔ اے راجہ نے کہا کہ مرکزی حکومت کو اس میں سب سے زیادہ اختیار حاصل ہے۔ڈی ایم کے کی بنیاد پیریار نے رکھی تھی اور وہ موجودہ سی ایم ایم کے اسٹالن اور ان کے والد کروناندھی پیریار کے حامی رہے ہیں۔ا ے راجہ نے 1962 میں نہرو حکومت کے علیحدگی پسندی کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ انادورئی کو 1962 میں علیحدہ ’دراوڑ ناڈو‘ کا مطالبہ ترک کرنا پڑا کیونکہ علیحدگی پسندی کو دبانے کے لیے ایک قانون لایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ انہیں علیحدہ ملک کا مطالبہ کرنے پر مجبور نہ کریں۔
