ساگر: ۔بچوں کی شادی قانون کے تحت قابل سزا جرم ہے۔اگر کم عمر لڑکی کی شادی بغیر کچھ سوچےکردی جاتی ہے تو اس کا مستقبل خوبصورت نہیں ہو گا۔ان باتوں کا اظہار چیف سینئرسویل جج ریحانہ سلطانہ نے کیا ہے۔انہوں نے تعلقہ کی سرکاری اردو ہائی اسکول میں منگل کے دن تعلقہ لیگل سروس کمیٹی، بار اسوسیشن، پبلک ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور گورنمنٹ اردو ہائی ا سکول کے اشتراک سے منعقدہ چائلڈ میرج ایکٹ سے متعلق قانونی آگاہی پروگرام کے افتتاح کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔غربت، ناخواندگی اور معاشی مسائل سمیت مختلف وجوہات کی بناء پر بچپن کی شادی کی جاتی ہیں یہ ایک سماجی مسائل بن چکا ہے اور اس میں کئی گنا اضافہ بھی ہورہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے لڑکیاںبوجھ ہوتی ہیںاس بارے میں والدین کا رویہ اورسوچ بدلنا ہوگا۔انہوں والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ لڑکیوں کو اچھی تعلیم دیں اورشادی کی عمر ہونے کے بعدہی ان کی شادی کر دیں۔ اگرکہیں کم عمری کی شادی کی جارہی ہے جس کی معلومات آپ کوہے توفوراً ہیلپ لائن نمبر 1098 پر کال کردیں ، اس عمل کے نتیجے میں متعلقہ محکمہ جگہ پر پہنچ کر شادی کو روک دی جائے گی۔اس موقع پرگورنمنٹ اردو ہائی اسکول کے سربراہ دتاترے بھٹ نے تقریب کی صدارت کی، معلمہ شہناز خانم نے بچوں کی شادی کے عنوان پر ایک خطاب کیا۔ اس موقع پر وکلاء شراوتی، کویتا، اسکول ڈیولپمنٹ کمیٹی کے صدر الطاف احمد، سماجی کارکن ابراہیم اور دیگر موجود تھے۔
