راون راج۔ رام راج

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
اذان پر پابندی ، برقعے پر پابندی ، بڑے جانوروں کے گوشت پر استعمال پر پابندی ، مدرسوں پر پابند ی ، مسجدوں پر شکنجہ کسنا ، عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے عوام کو غیر ضروری مدعوں میں پھنسائے رکھنا ، قدرتی وسائل ہوتے ہوئے بھی اسکا سہی استعمال نہ کرنا ، سرکاری املاک کو گروی رکھنا ، غیر ضروری قرضہ جات کو لے کر سیاستدان اپنی تجوریاں بھرنا یہ سب سری لنکا میں عام ہوچکا تھا اور سری لنکا کے پکسے برادران نے سری لنکا کو اپنی ذاتی املاک بنانا شروع کردیا تھا جس کی وجہ سے آج سری لنکا پوری طرح سے تباہ وبرباد ہوچکا ہے ، وہاں کی معیشت زمین دوز ہوچکی ہے اور عوام سڑکوں پر اتر کر سری لنکاکی حکومت کا تختہ پلٹ دیاہے ۔ جو نمونہ اور جو حالات سری لنکا میں دیکھے گئے ہیں بالکل وہی حالات اس وقت بھارت میں دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ سری لنکا جہاں کی تاریخ میں راون کی وجہ سے راون راج کہا جاتاہے اور جس ملک میں راون کی پوجا کی جاتی ہے اس راون راج کی لنکا کو اب سری لنکا کی عوام نے آگ لگاکر بھلے ہی سیتا کو آزاد نہ کرایا ہو لیکن اس ملک کو بچانے کے لئے پکسے برادران کو اقتدار سے دو ر ضرور کر دیا ہے ۔ بھارت میں بھی مودی حکومت ملک کی معاشی حالات ، اقتصادی صورتحال اور بے روزگاری کو دور کرنے کے لئے مناسب اقدامات اٹھانے کے بجائے یہاں کی عوام کو ہندو مسلم کے کھیل میں الجھا رکھا ہے ۔ بے روزگاری بڑھنے لگی ہے ، ملک قرضداری کے بوجھ سے متاثر ہورہاہے اور ملک کی معیشت بھی کمزور ممالک کے برابر ہونے لگی ہے ۔ ترقی کے معاملے میں بھارت 193 ممالک کی فہرست میں سے 164مقام پر پہنچ گیا ہے جس سے یہ بات واضح ہونے لگی ہے کہ جس طرح سے راون راج میں عوام نے تختہ پلٹاہے اسی طرح سے بھارت جسے بھارتیہ جنتاپارٹی رام راجیہ بنانا چاہتی ہے وہاں پر بھی عوام کا غصہ بھڑک سکتاہے ۔ اس وقت کے حالات کو دیکھا جائے تو بھارت کی حکومت ، حکومت چلانے کے لئے نہیں ہیں بلکہ اپنے ہندوتوا ایجنڈوں کو نافذ کرنے کے لئے ملک پر قابض ہے، انہوںنے رام راج کا مطلب یہی سمجھ رکھا ہے کہ کیسر ی کپڑے پہن کر گھومنا ، نعرے بازی کرنا ، اقلیتوں پر ظلم ڈھانا، مسجدوں پر حملے کرنا ، مسلمانوں کو پریشان کرناہے ، جبکہ رام راج کے بارے میں انکی ہی کتابوں میں یہ کہا گیا تھا اسوقت ایودھیا میں خوشحالی تھی ، لوگ مل جل کر رہا کرتے تھے اور دشرتھ ہویا رام کبھی کسی کو پریشان نہیں کیاتھا۔ لیکن یہاں سب کچھ الٹا ہورہاہے ۔ مودی جی اس وقت جس رام راج کی بات کررہے ہیں وہ انکے مذہب کے برعکس ہے جس کا خمیازہ انہیں خود ہی اٹھانا پڑسکتاہے ۔