تاریخی گائوں کمسی میں اب تک نہیں بن پائی اردوہائی اسکول،ذمہ دار کون؟

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔تاریخی گائوں میں شمار ہونے والے کمسی جو شیموگہ ضلع کا اہم گائوں ہے یہاں پر سرکاری اردو ہائی اسکول نہ ہونا یہاں کے لوگوں کو تعلیم سے روکنے کی اہم وجہ بن گئی ہے۔انگریزوں کے زمانے سے اس گائوں کی شناخت اجاگر ہے،جس وقت شیموگہ شہرکی کوئی حیثیت نہیں تھی اُس دورمیں کمسی کو اہم گائوں ماناجاتاتھا،اور اُس وقت میسورو عبدالرحیم مرحوم  نے یہاں پر پہلے اپنے صَرف سے اسکول کی شروعات کی بعدمیں یہاں پر سرکاری اردو اسکول عمل میں آئی۔قریب100 سال کی تاریخی پس منظر رکھنے والے اس اسکول سے ہزاروں بچے تعلیم حاصل کرچکے ہیں،لیکن آج تک اس گائوں میں اردو ہائی اسکول عمل میں نہیں آسکی ہے،اس کی کیا وجہ ہے یہ بات بھی واضح نہیں ہو پارہی ہے۔اس گائوں میں کم وبیش400 سے زائد مسلم گھرانے موجودہیں ،اس کے علاوہ تقریباً چار گائوں ایسے ہیں جہاں پر اردو پڑھنے والے طلباء ہیں،مگر ابتدائی تعلیم کے بعد یہاں کے طلباء اعلیٰ تعلیم کیلئےیاتو آئینور گرام پنچایت کا رُخ کرتے ہیں یا پھر اسی گائوں میں موجود کنڑا ہائی اسکول میں داخلہ لیتے ہیں۔کنڑامیڈیم سے تعلیم حاصل کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرتے ہوئے یا تو یہ طلباء ناکام ہوتے ہیں،ایسے میں یہاں اردو ہائی اسکول کی اشد ضرورت ہے۔واضح ہوکہ اس تعلق سے پیش رفت کرنے کیلئے نہ تو مقامی لوگ تیارہورہے ہیں نہ ہی محکمہ کےافسران توجہ دے رہے ہیں۔