چامراج پیٹ عیدگاہ کے تعلق سے تنازعہ پیدانہ کریں:ضمیراحمد

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔چامراج پیٹ عیدگاہ میدان کے تعلق سےسیاسی اغراض کومدِ نظر رکھتے ہوئے تنازعہ نہ بنایاجائے،جب تک میری جان رہے گی اُس وقت تک عیدگاہ میدان کو کچھ نہیں ہوگا،اب جس طرح سے اس میدان کو کھیل کے میدان کے طورپر استعمال کیا جارہاہے،اسی طرح سے آنے والے دنوں میں بھی میدان کو کھیل کودکیلئے استعمال کیاجاسکتاہے۔اس بات کااظہار کرناٹک کے سابق ریاستی وزیر و رکن اسمبلی ضمیراحمد خان نے کیاہے۔انہوں نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ 12 جولائی کو چامراج پیٹ بند کیلئے آواز دی گئی ہے او رکہاجارہاہے کہ کھیل کے میدان کو بچایا جائے ،مگر سوال یہ ہے کہ یہ کھیل کا میدان کہاں جارہاہے؟جس طرح سے پہلے کھیلوں کیلئے اس عیدگاہ میدان کو استعمال کیا جارہا تھا اُسی طرح سے آنے والے دنوں میں بھی اس عیدگاہ میدان کو کھیلوں کیلئے دیگر ایام میں استعمال کیا جاسکتاہے۔1871 میں یہ عیدگاہ بنایاگیاتھا،1907 میں تشکیل دئیے جانے والے سینٹرل مسلم اسوسیشن(سی ایم اے) کے ماتحت یہ عیدگاہ لیاگیا ، 1965 میں کرناٹکا وقف بورڈکی تشکیل کے بعد سی ایم اے نے اس زمین کو وقف بورڈ کے ماتحت رجسٹرکیااور اسی کے نام سے گیزیٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے ۔ اس میدان میں نہ کھیلنے کیلئے نہ تو وزیر اعلیٰ ،ایم ایل اے یا پھر وقف بورڈنے ہدایت دی ہے،کسی نے بھی اس تعلق سے اعتراضات درج نہیں کئے ہیں تو تنازعہ کیوں پیدا کیا جارہاہے۔اسی سال سے چامراج پیٹ عیدگاہ میدان میں یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے موقع پر ترنگا میں خود لہرا ہونگا، ترنگا لہرانے کیلئے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ بقر عیدکے موقع پر اس میدان میں ہونے والے بکرابازار کی وجہ سے آس پاس کے لوگوں کو پریشانی ہونے کی بات سامنے آئی ہے اور بچوں کو کھیلنے کیلئے تکلیف ہونے کی بات بھی کہی جارہی ہے،اس تعلق سے متبادل انتظامات کئے جائینگے۔