ضمنی انتخابات نے کانگریس میں سدرامیا کا مقام اونچا کیا!

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

بنگلورو: سندھگی اورہانگل میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد کانگریس لیڈر سدرامیا کی گرفت کانگریس میں مزید بڑھ چکی ہے اور ہائی کمان میں انکی واہ واہی ہونے لگی ہے۔ سندھگی اورہانگل اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخابات کے تعلق سے امیدواروں کے انتخاب کیلئے بڑے پیمانے پر جدوجہد ہوئی تھی۔ سندھگی کے جے ڈی ایس رکن اسمبلی آنجہانی ایم سی مناگولی کے بیٹے اشوک مناگولی کو ٹکٹ دینے کے تعلق سے ریاستی سطح کے لیڈروں نے متحدہ طور پر اپنی رائے پیش کی تھی لیکن دوسری پارٹی سے آنے والے لیڈر کو ٹکٹ نہ دینے کیلئے مقامی سطح پر مخالفت کی گئی تھی۔ اس مخالفت کو نظرانداز کرتے ہوئے سندھگی کی ٹکٹ دے دی گئی تھی۔ اسی طرح سے ہانگل اسمبلی حلقے کی ٹکٹ کیلئے بڑے پیمانے پر چرچہ ہوئی تھی۔ 1978سے 2018 تک کے اسمبلی انتخابات کیلئے مسلسل کانگریس کے امیدوار منوہر تحصیلدار کو ٹکٹ دینے کیلئے مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسکے لئے کے پی سی سی کے ریاستی صدر ڈی کے شیوکمار نے بھی تائید کی تھی۔ مگر 2018 کے اسمبلی انتخابات میں صرف 2 فیصد ووٹوں کی کمی سے شکست پانے والے شرینواس مانے کی تائید میں سدرامیا نے آواز اٹھائی تھی اورٹکٹ کی تقسیم کیلئے 3 مرحلوں میں ہونے والی نشست میں منوہر تحصیلدار کو ٹکٹ نہ دینے کیلئے سدرامیا نے کے پی سی سی کو ہدایت دی تھی۔ اس پر منوہر تحصیلدار ناراض ہوگئے تھے ، انکی ناراضگی کو دور کرنے کیلئے انہیں مقامی ایم ایل سی کے انتخابات میں ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا گیااور شرنیواس مانے کو ٹکٹ دی گئی تھی۔ اسی دوران سدرامیا کو ہائی کمان نے دہلی بلایا تھا اور سدرامیا کی مشورہ لیاگیا تھا۔ سدرامیا نے ہانگل اسمبلی حلقے کی یقین دہانی کروائی تھی، جبکہ سندھگی کے تعلق سے اپنا منفی مشورہ دیا تھا۔ ڈی کے شیوکمار کی طاقت اورسوجھ بوجھ کو سندھگی میں صرف ہدایت دی گئی تھی۔ اس طرح سے سدرامیا کا امیدوار کامیاب ہوا جبکہ ڈی کے شیوکمار کی تائید شدہ امیدوار کو شکست حاصل ہوئی ہے۔ ایک طرف سندھگی اور ہانگل میں ضمنی انتخابات کے امیدواروں کو کامیابی دلوانے کیلئے جدوجہد جاری تھی تو دوسری طرف ضمیر احمد نے سوکھی گھاس پر آگ لگانے کا کام کرگئے تھے۔ ضمیر احمد نے تشہیری مہم کے دوران یہ کہہ دیا تھا کہ اگلا وزیر اعلیٰ سدرامیا ہی ہوںگے۔ ضمیر احمد کے اس بیان سے ڈی کے شیوکمار کے خیمے میں ہلچل مچ گئی تھی۔ اس پرسدرامیا نےفوری طور پر پانی ڈالنے کا کام بھی کیااور کہا کہ اس وقت ہماری ترجیح انتخابات پر ہونی چاہئے۔