شیموگہ:کوروناکی وباء سے ابھی لوگ گھیرے ہوئے ہیں،ایسے میں ایک نئی بیماری عذاب بن کر لوگوں کو متاثر کرنے لگی ہے۔محض20 دنوں میں ملک کے مختلف مقامات پر بلاک فنگس کی وجہ سے 3 ہزار سے زائد افراد بلاک فنگس نامی بیماری سے متاثر ہوئے تھے،اس کے زیادہ تر معاملات دہلی،مہاراشٹر،گجرات اور اترپردیش میں دیکھے جارہے تھے،لیکن کرناٹک میں بھی اس بلاک فنگس کےمعاملات سامنےآرہے ہیں۔بنگلورومیں دودن قبل 7/معاملات کو درج کیاگیاتھا،اسی طرح سے شیموگہ میں بھی دو مریضوں کی نشاندہی کی گئی ہے،جن کی حالات تشویشناک بتائی جارہی ہے۔اطلاعات کے مطابق بلاک فنگس اُن مریضوں کونشانہ بنارہاہے جو کورونا سے صحت یاب ہوکر ہیں۔بلاک فنگس کا سائنسی نام” موکور مائکوسیس” ہے۔شیموگہ میں اس مرض سے متاثر ہونے والے دو مریضوں کو میگان اسپتال میں علاج کیاجارہاہے۔جو لوگ اس مرض کا شکار ہوتے ہیں،انہیں سرمیں درد،چہرے پر سوجن،ناک میں سائنیز کی علامتیں دکھائی دیتےہیں،اور بخارمیں بھی یہ مریض مبتلا ہوجاتے ہیں،اگر یہ فنگس پھیپڑوں کو متاثر کرتاہے تومریض کو کھانسی،سینے میں درد اور سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہےاوریہی فنگس معدے کو متاثر کرتاہے تو مریض کو پیٹ میں درد،قئے اور دہیریا میں مبتلا کرنے کے علاوہ گیس کی تکلیف میں بھی گھیرتاہے اور یہ تمام علامتیں اس قدر شدید ہوتی ہیں کہ مریض درد کی شدت کو سنبھال نہ سکتے ہوئے دم توڑدیتاہے۔ضلع انتظامیہ نے ان تمام علامتوں میں سے کسی بھی علامت کو محسوس کرنے والوں سے گذارش کی ہے کہ وہ فوری طور پر ڈاکٹروں سے رجوع کریں۔دریں اثناء کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدرامیانے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیاکہ حکومت بلاک فنگس سے متاثر ہونےو الے مریضوں کا علاج سرکاری اخراجات پر کرےا ورمریضوں کو تمام ترسہولیات سےآراستہ کرے۔
