بلند کردار قوم

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

ازقلم : مدثر احمد شیموگہ ، 9986437327
دنیا تعلیم کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، جو قومیں صدیوں سے تعلیم سے دور رہیں اور جن کے یہاں سوائے غلامی کرنے کے علاوہ اور کوئی مقصد ہی نہ تھا آج وہی قومیں تعلیم کے میدان میں آگے آنے لگی ہیں ، اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہوئے اعلیٰ عہدوں پر فائزہورہے ہیں ، دنیا کے مختلف علوم میں مہارت حاصل کررہے ہیں اور تعلیم کو زندگی کا حصہ بناچکے ہیں ۔ لیکن جس قوم میں تعلیم کو حاصل کرنا فرض قرار دیا گیا ہے، دنیا پر خلافت قائم کرنے اور دنیا میں حق کو عام کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے وہی قوم تعلیم سے دور ہے ۔ ایسانہیں ہے کہ مسلمانوں میں سب کے سب تعلیم حاصل کرنے کے لئے مالی اسباب کا شکار ہیں اور نہ ہی انکے پاس وسائل کی کمی ہے ۔ اگر واقعی میں مسلمانوںکی دولت دیکھنی ہے تو انکی شادیوں کو دیکھیں ، چھلّے چھٹّیوں کے فنکشن دیکھیں ،دعوتیں دیکھیں ، عیدوں میں مہنگے مہنگے ملبوسات دیکھیں ، رسم و رواج کو دیکھیں کہ کس طرح سے وہ لوگ اپنی دولت لوٹاتے ہیں ۔ کس طرح سے شادیوں میں پیسوں کا خون کیا جا رہاہے اور کس طرح سے نام و نمود کی خاطر حلال کو حرام بنارہے ہیں ۔ اگر انکے پاس پیسے نہیں ہیں تو وہ صرف اور صرف تعلیم حاصل کرنے کے لئے نہیں ہیں ۔ انہیں اسکول و کالجوں کی فیس ادا کرنے میں غربت آجاتی ہے ، بچوں کی کتابیں دلوانے کے لئے انکے پاس پیسے نہیں ہوتے ، اچھے تعلیمی اداروں کا انتخاب کرنے کے لئے وہ مفلس ہوجاتے ہیں ، بچوں کی بہتری کے لئے تربیتی کورسس کروانا انہیں مہنگا پڑجاتاہے اور غربت کا رونا رونے لگتے ہیں ۔ آج ہر ماں باپ اپنے بچوں کو مہنگے کپڑے ، مہنگے جوتے ، مہنگے موبائل ، مہنگی موٹر بائک دلاسکتے ہیں لیکن مہنگی تعلیم دلانا انکے لئے درد ناک عذاب سے کم نہیں ہے ۔ ماں با پ ہر ہفتے ویک اینڈ پر ہوٹلوں میں کھانا کھا سکتے ہیں ، سال میں ایک دو دفعہ پکنک یا ٹور پر ہزاروں روپئے خرچ کرسکتے ہیں لیکن خرچ نہیں کرسکتے ہیں تو تعلیم کے لئے جس سے انکے بچوں اورانکے آنے والی نسلوں میں سدھار آسکتاہے ۔ سینکڑوں ایسے والدین دیکھے ہیں جنہوں نے محض چند روپیوں کی صورت دیکھ کر اپنے بچوں کو تعلیم سے محروم رکھا ، چند پیسے بچانے کی خاطر داخلہ نہیں دلوایا ، جبکہ انہیں بچوں کو بعد میں انکی ضد پوری کرنے کے لئے عیش و آرائش کے سامان دلائے ۔ کئی ایسے والدین جو صاحب استطاعت بھی ہیں وہ اپنے بچوں کے مستقبل کی پرواہ کئے بغیر پیسے بچانے کی کوشش کی جنہیں بعد میں پچھتانا پڑاہے ۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ امّت مسلمہ کا بہت بڑا پیسہ شادی بیاہ پر خرچ ہورہاہے اور وہ بھی صرف اس لئے کہ شادی بیاہ میں وہ تعریفیں بٹور سکیں ۔ حالانکہ اسلام میں نکاح کو آسان بنایا گیا ہے اور زناء کو مشکل بنایا گیا ہے لیکن یہاں نکاح کو اس قدر عیش و دکھاوے کا موقع بنادیا گیا ہے کہ وہاں پر ایک نکاح کی سنّت کو ادا کرنے کے لئے سینکڑوں حرام کام ، گناہ اور زناء کے مواقع فراہم کئے جارہے ہیں ۔ اگر چہ کہ ہر مسلمان یہ کہتاہے کہ آج تعلیم کی ضرورت ہے لیکن اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے وہ ذہنی طورپر تیار ہی نہیں ہیں ۔ اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلوائیں، انہیں تعلیم کے مقصد سے واقف کرائیں ، اعلیٰ عہدوں پر فائز کروائیں ، کامیاب تاجر بنائیں یا کسی بھی پیشے سے جوڑیں تب مسلمان کسی کے محتاج نہیں رہیں گے نہ ہی مسلمانوں کو اپنے بچوں کی شادی بیاہ پر لاکھوں کے جوڑے، بارات میں گھوڑے نہ دینے ہونگے بلکہ ایک تعلیم یافتہ انسا ن خود بخود اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا پابند ہوجائیگا ۔ یہی دین اور یہی اسلام ہےاور اسی سے مسلمانوںکو بلند کردار قوموں میں شمار کیاجائیگا۔