قوم بھوکی ہے؟

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
پچھلے دنوں بنگلورومیں ہونےو الی ایک شادی کا چرچہ خوب رہا،بتایاجارہاہے کہ اس شادی میں پانچ ہزار افراد کو کھانے کی دعوت دی گئی تھی اور 50 قسم کے پکوان مہمانوں کو کھلائے گئے تھے،اس کے علاوہ ڈرائی فروٹس کے ڈبے مہمانوں کو تحفے میں دئیے گئے جو اندازاً ایک کلو کے قریب تھے،پوری شادی کاخرچ قریب5 کروڑ روپیوں سے زیادہ بتایاگیاہے۔اس وقت اُمت مسلمہ کی مسجدیں خالی ہوچکی ہیں اور بازار مسلمانوں سے بھرے پڑے ہوئے ہیں۔اسکول ،کالج اور مدرسےمسلمانوں سے ویران ہوتے جارہے ہیں اور شادی محل آباد ہوتے جارہے ہیں۔مسلمانوں کے پاس کہنے کیلئے اسکول اور کالج تو ہیں لیکن ان کی عمارتیں اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کے پاس تعلیم پر خرچ کرنے کیلئے معقول فنڈس دستیاب نہیں ہیں۔البتہ ایک ایکردو ایکر زمین پر پھیلے ہوئے شادی محلوں اور جلسہ گاہ دیکھے جاسکتے ہیں۔مسلمانوں کے یہاں جو شادیاں ہورہی ہیں،اس میں سوائے نکاح کی سُنت کے باقی تمام کام خلافِ شریعت ہی دکھائی دے رہے ہیں۔مسلمانوں کے پاس اپنے بچوں کی پڑھائی کیلئے پیسے نہیں ہیں مگر شادی بیاہ کے خرچوں کیلئے لاکھوں روپئے موجودہیں،مسلمانوں میں برتھ ڈے،شادی کی سالگرہ،اماں باواکی شادی کی سالگرہ،خالہ کی شادی کی سالگرہ،بچے کے ختنے کے رسم ،منڈوے کا رسم،ہلدی کے رسم کیلئے خرچ کرنے کیلئے بے تحاشہ پیسہ موجودہےاور اگر پیسے نہ بھی ہوں تو قرض لیکر ان رسومات کو اداکیاجاتاہے،اگر قرضہ نہ بھی ملے تو کوئی پرواہ نہیں،سود پر کیوں نہ ہو پیسے وصول کرتے ہوئے اپنی رسومات کو پوراکیاجاتاہےا ور جھوٹی شان کا مظاہرہ کیاجاتاہے۔ان حالات میں اندازہ لگائیں کہ مسلمان ذلیل وخوارکیوں نہ ہونگے،کیوں نہ مودی یوگی جیسے لوگ ان پر مسلط ہونگے۔حال ہی میں ایک واقعہ ایسابھی دیکھنے کو ملاہے جس میں ایک باپ اپنی بچی کے داخلے کیلئے ایک کالج کارخ کیا ہواتھا،اس نے کالج کے ذمہ داروں کے سامنے یہ بات رکھی کہ اس کی مالی استطاعت اتنی نہیں ہے کہ وہ کالج کی پوری فیس ادا کرے،اس کیلئے وہ رعایت چاہتاہے۔انتظامیہ نے مجبوری دیکھتے ہوئے فیس تو آدھی کرتے ہوئے بچی کا داخلہ لے لیاتھا،اس کے کچھ دن بعد اسی شخص کےگھرمیں ایک برتھ ڈے پارٹی کا اہتمام کیاگیاتھا جس میں کئی مہمان شریک رہے۔یقین جانئے کہ یہ برتھ ڈے نہ اس شخص کے بیٹے یا بیٹی کا تھانہ ہی کسی انسان نہ تھا بلکہ ان کے گھر میں موجود پرشین بلّی کا تھا،جس کے برتھ ڈے کیلئے تقریباً15 ہزارروپئے کی دعوت،بلّی کیلئے لباس اور سجاوٹ کا سامان لگ بھگ 4 ہزار روپیوں کاخریدا گیاتھا۔اندازہ لگائے کہ قوم کی فکر کس نہج پر ہے اور کس گہرائی پر ضروریات کو پوراکررہی ہے۔جو قوم تعلیم کی اہمیت کو نہ سمجھے اور حالتِ حاضرہ پر اس کی نظرنہ رہے وہ قوم بے موت ہی ماری جائیگی اور اس کے تحفظ کیلئے آسمانی مددبھی نہیں ملے گی۔مسلمانوں کا مالدار طبقہ آج بھی حالات پر نظر رکھنے کے باوجود عام مسلمانوں کے تئیں لاپرواہ ہے ،نہ مسلمانوں میں بیداری لانے کیلئے اس کی فکر نمایاں ہے،نہ ہی کوئی حرکت نظرآرہی ہے۔کہتے ہیں کہ حرکت میں برکت ہے لیکن یہاں صرف دعوتوں میں ہی برکت نظرآرہی ہے،جس طرح سے دعوتوں میں لوگوں کو کھلایاجارہاہے وہ اس بات کا ثبوت دے رہاہے کہ قوم بھوکی ہے اور صرف کھانے کیلئے جی رہی ہے۔نہ انہیں دُنیائوی مسائل کا خیال ہے نہ ہی آخرت کی ابدی زندگی کے تئیں سوچ رہے ہیں۔ملت اسلامیہ عالیشان شادی محل بنانے کے بجائے عالیشان معیاری تعلیمی ادارے قائم کرنے کی سمت پہل کرتی ہے تو یقیناً مسلمان آباد ہونگے ورنہ کچھ ہی سال میں شادی محل بھی کھنڈر ہوجائینگے اور شادیوں کو انجام دینے والے برباد ہوجائینگے۔