کرناٹکا مائناریٹی کمیشن نے بلآخر چپی توڑی،کہاکہ معقول کارروائی کی جائے

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

بنگلورو:۔کرناٹکا مائناریٹی کمیشن جو اقلیتوں کے حقوق و تحفظات فراہم کرنے والاآزادانہ ادارہ ہےا ور ادارے کے پاس الگ سے اختیارات موجودرہتےہیں جب بھی کسی اقلیتی پر ظلم ہوتاہے یا قانون کے تحت انہیں انصاف نہیں ملتاہے تو اقلیتی کمیشن کو اس بات کاحق ہے کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے مظلوم کو حق دینے کیلئے اپنے طور سے ہی اقدامات اٹھائے،لیکن کرناٹکا مائناریٹی کمیشن کے ریاستی صدر عبدالعظیم نےمنگلوروواُڈپی میں پیش آنے والے حجاب کے مسئلہ کو حل کرنے کے تعلق سے جو تاخیرکی ہے وہ کئی طرح کے سوالات کوجنم دے رہاہے۔28 دسمبر سے اُڈپی کی سرکاری گرلس پی یو کالج میں حجاب کو لیکر طالبات احتجاج کررہی ہیں اور یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر بحث کا موضوع بناہواہے،ایسے میں کرناٹکا مائناریٹی کمیشن نے پورے33 دن بعد ایک خط لکھا ہے کہ انہوں نے اخبارات و ٹی وی میں پڑھاودیکھاہے کہ حجاب پہننے والی بچیوں کو کالج سے باہر رکھاگیاہے،کالج انتظامیہ طالبات کے ساتھ زیادتی کررہی ہے،اس لئے مائناریٹی کمیشن ریاستی حکومت کے پرائمری اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے چیف سکریٹری اس تعلق سے معقول اقدامات اٹھاتے ہوئے حجاب کے معاملے کو حل کریں،چونکہ یہ معاملہ عدالت میں داخل ہواہے،اس لئے عدالتی احکامات آنے تک یکم جون2021 یونیفارم کوڈ کیلئے جو ضوابط پیش کئے گئے ہیں انہیں بحال رکھاجائے،مزید انہوں نے کہاکہ اخبارات میں الزام لگایاگیاہے کہ کالج انتظامیہ نے طالبات کوکالج میں داخلہ نہیں دیاجارہاہے۔جبکہ دُنیا جان رہی ہے کہ اخبارات ومیڈیامیں جو باتیں آرہی ہیں وہ الزامات نہیں حقائق کی ترجمانی ہورہی ہے،لیکن مائناریٹی کمیشن نے جس طرح سےاپنے آپ کو محفوظ مقام پر رکھتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کی ہے۔