توکل اللہ پر

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر
از:۔مدثراحمد۔9986437327
صدقہ جاریہ کا ایک خوبصورت اور سچا واقعہ، جو سعودی عرب کے ایک گھر میں پیش آیا۔ جس کی برکت ایسے ظاہر ہوئی کہ دنیا حیران رہ گئی۔ یہ واقعہ درجنوں عرب ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا۔ ہم صحيفۃ الاقتصاديۃ کےے حوالے سے اسے نقل کررہے ہیں۔
انڈونیشیا سے خادمات کا سعودیہ میں آنا عام سی بات ہے۔ سعودی گھرانوں میں ہزاروں کی تعداد میں انڈونیشی خادمات کام کرتی ہیں۔ ایک سعودی گھرانے نے خادمات مہیا کرنے والے ریکروٹنگ ایجنٹ کی معرفت خادمہ بلوائی۔ خادمہ نے گھر میں کام کرنا شروع کر دیا۔گھر کی مالکن نے چند دن کے بعد غور کیا کہ خادمہ چپ چاپ اور اداس سی رہتی ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ چھپ چھپ کر روتی بھی رہتی ہے۔ سعودی عرب میں ابھی اسے ہفتہ دس دن ہی گزرے تھے۔ کسی نے اسے کچھ کہا بھی نہیں پھر یہ کیوں روتی ہے؟ ایک دن سعودی مالکن نے خادمہ کو اپنے سامنے بٹھا لیا۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگی: میری بیٹی! بتاوٴ تم ہر وقت روتی کیوں رہتی ہو؟ ہر وقت تمہاری آنکھیں سوجی رہتی ہیں۔ خادمہ نے حوصلہ پا کر اشاروں سے اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بتایا: میں ایک مدت سے سعودی عرب آنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایجنٹ کو نقد رقم اور پاسپورٹ جمع کرا رکھا تھا۔ اسی دوران میری شادی ہو گئی۔ وقت گزرتا چلا گیا۔ میری سعودی عرب آنے کی خواہش زوروں پر تھی۔ ایجنٹ کے ساتھ رابطہ تھا۔ اسی دوران خدا تعالیٰ نے مجھے بیٹا عطا فرمایا۔ میرے بیٹے کی عمر دس بارہ دن کی تھی کہ ایجنٹ نے بتایا کہ تمہارے کاغذات مکمل ہوگئے ہیں۔ تمہیں فوری طور پر سعودی عرب جانا ہوگا۔ ایک طرف بیٹا اور اس کی محبت، دوسری طرف غربت اور سعودی عرب آنے کی خواہش…میں گھریلو حالات سے مجبور تھی، اس لیے بیٹے کو چھوڑ کر سعودی عرب آ گئی۔ اب مجھے میرا بیٹا یاد آتا ہے۔ میں اس کی محبت میں دیوانی ہو گئی ہوں۔ اسے یاد کرکر کے روتی رہتی ہوں۔ سعودی مالکن نے ایک لمبی آہ بھری، کچھ سوچا۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ یہ رب کو راضی کرنے کا اور صدقہ جاریہ کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اسلام میں سب سے بہترین کام کسی مسلمان کو خوشی مہیا کرنا ہے اور پھر اس نے ایک عجیب و غریب فیصلہ کیا۔ وہ اندر گئی، پیسوں والی الماری کو کھولا۔ اس کی کتنی تنخواہ ہے؟ اس نے دو سال کی تنخواہ کا حساب کیا۔ رقم گنی اور اسے لے کر خادمہ کے پاس آ گئی۔ کہنے لگی: یہ دو سال کی تنخواہ پیشگی پکڑو۔ میں ابھی تمہاری سیٹ بک کراتی ہوں۔ تم فوراً انڈونیشیا روانہ ہو جاوٴ۔ دو سال تک اپنے بیٹے کو دودھ پلاوٴ۔ جب دو سال کا ہو جائے تو ہمیں فون کر دینا، ہم تمہارے لیے دوبارہ ویزا بھجوا دیں گے اور تم پھر سے سعودی عرب آ جانا۔ذرا غور کیجیے، اس عورت نے کتنا خوبصورت فیصلہ کیا۔ کیا یہ اس کے لیے صدقہ جاریہ نہیں؟ اس قسم کے فیصلے انسان کو انسانیت کے بلند مقام پر فائز کر دیتے ہیں اور حق تعالی کے نزدیک اس کے مرتبہ کو بہت بڑھا دیتے ہیں۔پھر دلچسپ بات یہ کہ یہ خادمہ صرف اس خاتون کیلئے بلائی گئی تھی جو خون کے کینسر میں مبتلا تھی، یہ تاکہ اس کی خدمت کرسکے۔ جب خاتون نے اسے واپس بھیجنے کا ارادہ کیا تو بیٹے نے کہا: امی جان آپ بیمار ہیں، آپ کیلئے تو اسے بلایا تھا، آپ اس کو واپس بھیجتی ہیں؟ خاتون نے کہا میں گزارہ کر سکتی ہوں اور پھر اسپتال میں اس کا معائنہ ہوتا رہتا۔ جب اگلی بار اسپتال گئی اس کی ٹیسٹ رپورٹ نیگیٹو آئی۔ اس کی مہلک بیماری کا نام ونشان مٹ چکا تھا۔ ڈاکٹر سارے حیران تھے کہ اس اسٹیج تک پہنچنے کے بعد یہ ٹیسٹ نیگیٹو کیسا آیا۔ احتیاطا دوبارہ ٹیسٹ کروائے گئے۔ مگر شافی الامراض رب کی طرف سے شفاء نازل ہوچکی تھی۔ سب مبارک باد دینے لگے۔ یہ خاتون صرف اپنے رب کا شکریہ ادا کرتی رہی۔ بے شک صدقہ ہر بلا کو ٹال دیتا ہے…!!!…
 یہ سچاواقعہ اس لئے بیان کیا گیا ہے کہ اس وقت سماج میں کئی لوگ مالدار اور صاحب استطاعت ہونے کے باوجود اپنے مال کو تجوریوں میں چھپائے رکھنے اور محفوظ کرنے کو ہی درست سمجھتے ہیں اور ضرورتمندوں کی ضرورتوں کو جانتے ہوئے بھی،مسکینوں کی مسکینی کو جانتے ہوئے بھی، بیواؤں،یتیموں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے بھی خاموش رہ جاتے ہیں جبکہ دولت کو جمع کرنا اور تجوریوں کو بھرنا سچے مسلمان کی پہچان نہیں ہے۔ اگر واقعی میں دولت اللہ کے رسولﷺکے نزدیک پیاری ہوتی،نبیﷺ اپنے اہل و عیال کے تعلق سے سوچتے تو نہ جانے عرب کا کتنا بڑا علاقہ انکی ملکیت میں شمار ہوتا،مگر پیغمبر اسلام نے مسلمانوں کو اللہ پر توکل کرنے کا سبق دیا ہے ۔ جب وہ دنیاوی معاملات میں کل کی فکر نہیں کئے ہیں تو ہم کونسے کھیت کے مولی ہیں۔ مسلمانوں کا توکل اللہ پر ہونا چاہیے نہ کہ تجوریوں اور لاکروں پر۔۔