شریعت ، حکمت، سیاست

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر مضامین نمایاں
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔9986437327
ہم یہ جو کہہ رہے ہیں یہ کڑوی سچائی ہے،اس سچائی کو وہی لوگ قبول کرینگے یا سمجھنے کی کوشش کرینگے جو سمجھنے کیلئے تیار ہیں۔کوروناکی وباء آنے کے بعد حالات کئی طرح سے بدلنے لگے ہیں،جہاں لوگ اسپتالوں میں علاج کیلئے داخل ہورہے ہیں وہیں بہت بڑے پیمانے پرلوگوں کی امواتیں بھی ہورہی ہیں،جن میں ہر مذہب اور ہر ذات کے لوگ شامل ہیں۔کوروناوباء میں مرنے والے لوگوں کی تدفین کے تعلق سے لوگوں میں اب بھی کئی طرح کے شک وشبہات ہیںاور میڈیکل سائنس کا کہناہے کہ کوروناکے مریض کی موت کے بعد اُسے دفنانے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں اورمیت کو باعزت دفن کرسکتے ہیں۔لیکن پچھلے کچھ دنوں سے یہ دیکھا جارہاہے کہ لوگ میتوں کی تدفین کے معاملے میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی لے رہے ہیں،کئی مقامات پر تنظیمیں وادارے میتوں کو دفنانے کے معاملے میں ایک دوسرے پرفوقیت حاصل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔مختلف تنظیمیں اورادارے اس بات کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ میتوں کی تدفین کریں، بعض لوگ تو غیر مسلم میتوں کی آخری رسومات اداکرنے کیلئے بھی کمربستہ ہوچکے ہیں، سوشیل میڈیا میں دیکھا جارہا ہے کہ مسلم نوجوان ، غیر مسلم لاشوںکی آخری رسومات ادا کرنے کیلئے کبھی انکے لباس میں ملبوس ہیں تو کبھی کوئی ہانڈی لیکر لاش کے آگے دوڑ رہا ہے تو کبھی دف بجا کر ہندوئوں کی رسم کو پورا کررہا ہے، کوئی شمشان گھاٹ میں لاش کو چتا پررکھ رہا ہے تو کوئی بیٹا بن کر لاش کو آگ لگارہا ہے۔ غرض کہ مسلم تنظیموں اور اداروں کے نوجوان پوری طرح سے کوشش کررہے ہیں کہ ہم ہی انسان ہیں، ہمارے میں ہی انسانیت ہے، ہمارے جتنا سیکولر کوئی نہیں ہےاورگنگا جمنا تہذیب کو برقراررکھنے کیلئے ہم اس کام کو انجام دے رہے ہیں اورکچھ نوجوان یہ پیغام دے رہے ہیں ہم ان لاشوں کی آخری رسومات ادا کررہے ہیں۔ ٹھیک ہے ان لاشوں کی آخری رسومات اداکریں، لیکن سیکولرزم کی بات اورسیکولرزم کی جڑوں کو مضبوط کرنے کا آپ دعویٰ کرتے ہیں تو اکبر سے بڑا کوئی سیکولر نہیں تھا کہ جس نے بھارت کے ہندوئوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ میں سیکولرز م کا علمبردارہوں، جب اکبر جیسا بادشاہ ہی کامیاب نہ ہوسکا تو ہم اورآپ کس کھیت کی مولی ہیں۔ حال ہی میں سوشیل میڈیا پر ایک احسان فراموش ہند و کی ویڈیو بھی دیکھی گئی جس میں وہ پہلے تو وہ کہتا ہے کہ میرے باپ کی آخری رسومات کو انجام دینے میں ان مسلمانوں نے بہت ساتھ دیا میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اورانکی تنظیم کو قابل مبارکباد سمجھتا ہوں، لیکن اس ویڈیو کے 24 گھنٹوں میں ہی ایک اور ویڈیو جاری کیا اوراس میں اس نے کہا کہ مسلمانوں کو ساتھ لینا میری مجبوری تھی کیونکہ جس شہرمیں میں ہوں وہ شہر میرے لئے نیا ہے اور یہاں میری جان پہچان کا کوئی نہیں تھا، میں اس مسلم تنظیم کی تعریف میں نہیں ہوں اورمیرے پچھلے بیان سے میں معذرت خواں ہوں۔ مولانا ابولکلام آزاد نے کہا تھا کہ اگر مسلما ن اس ملک میں ہزاروں سال بھی رہیں اوراپنی قربانیاں پیش کرتےرہیں یہاں کے ہندئو انہیں اس ملک کا نہیں مانیں گے اوریہاں کے مسلمان اپنی قوم کیلئے اپنا خون تک نچھاور کردیں تو مسلمان اس قربانی دینے والے کو اپنا قائد نہیں مانیں گے۔ بالکل یہ بات آج واضح ہے کہ مسلمان ہرطرح سے اس وباء میں انسانیت کی بنیاد پر کام کرنے کی جدوجہد کررہا ہے۔ آکسیجن سلنڈر فراہم کرنے سے لیکر مریضوں کو اسپتال پہنچانے، ضرورتمندوں کو راشن پہنچانے کا کام بھی کررہے ہیں، مسلمانوں کی یہی دریا دلی ہے کہ آج مسلمان اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کے باوجود غیروں کیلئے بھی کام کررہے ہیں، مگر جو لاشوں کے تعلق سے ہماری جدوجہد ہورہی ہے وہ نامناسب ہے، ایک دن انہیں لاشوں کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے یہ سنگھی فرقہ پرست پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیںغیر مسلم کی لاش، لاش نہیں ہوتی اوراسکی عزت نہیں کرنا چاہئے، بلکہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ غیر مسلم کی لاشوں کو اٹھانے کی ذمہ داری خود ان لوگوں کو دی جائے، جو لوگ اب تک مسلمانوں کی لاشیں گراتے رہیں ہیں انہیں انکی لاشیں اٹھانے کیلئے کہا جائے۔ اگر وہ تیار نہیں ہوتے ہیں تو اسکی ذمہ داری حکومتوں کو دیں، اتنی لاشیں اٹھانے کے بعد ، اتنی مدد کرنے کے بعدبھی حکومتیں مسلمانوں کی قربانیوں کو قبول کرنے سے انکاررہی ہیں تو مسلمان کیوں سیکولرزم کے ہی علمبردار بنیں، اگر ایسےہی مسلمان غیر مسلموں کی لاشوں کو اٹھانے کا سلسلہ برقرارکھیں گے،تو وہ دن دور نہیں کہ ہندئو کہیں گےکہ جائو مسلمانوں کو بلالائو میت اٹھانی ہے۔ جسطرح سے زمانہ قدیم سے اب تک نچلی ذاتوں کو تٹی اٹھانے کیلئے بلایا جارہا ہے اسی طرح سے مسلمانوں کو بھی لاشیں اٹھانے کیلئے یاد کیا جائےگا۔ یہ ہم منفی رائے پیش نہیں کررہے ہیں بلکہ ایک مثبت خیال پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، مسلمانوں کا کام لاشیں اٹھانا نہیں ہے بلکہ زندگی بچانا ہے۔ چلئے ہم کوشش کرتےہیں کہ لوگوں کی زندگی بچانے کیلئے تدابیر اختیارکریں۔ لاک ڈائون، سیل ڈائون کی وجہ سے جو لوگ بے کوویڈ مررہے ہیں انہیں بچائیں، جن کے گھروں میں کوویڈ کی وجہ سے میتیں نکلی ہیں ان گھروں کیلئے سہارابنیں، یتیم بچوں کیلئے تعلیم کے وسائل بنائیں، تعلیم کے اخراجات کیلئے انتظامات کریں، جو عورتیں بیواہ ہوچکی ہیں اگر وہ نکاح میں جانا چاہتی ہیں تو انکے لئے معقول انتظامات کریں، جن کے بیٹے دنیا سے چلے گئے ہیں ان مائوں کی مدد کریں ، یہ ہماری ذمہ داری ہے۔اسلام ہی سیکولرزم ہےاسکے علاوہ اورکوئی سوچ سیکولر نہیں ہوسکتی ، باربار قرآن وحدیث میں کہا گیا ہے کہ کافر ومشرک تمہارے دوست نہیں ہوسکتےاوروہ گمراہ کرنے والی قومیں ہیں، ہاں یہ بات اورہے کہ ہم بھارت میں ہیں، اس ملک کے ہرشہری کی مدد کرنی ہے، لیکن مدد کے معنی یہ نہیں ہے کہ حدود کو تجاویز کرجائیں۔جو کام حکومتوں کا ہے وہ حکومتیں کو کرنے دیں، جو کام ہماری امت کیلئے ہے وہ کریں اورانسانیت کی بنیاد پر کچھ مدد کریں، انکے مذاہب کا احترام کریں، لیکن اسی میںگھس جانا نہ تو خدمت ہے، نہ ہی شریعت ہے نہ ہی حکمت ہے۔ جب تک مسلمان شرائط کی بنیاد پر کام نہیں کرتا، اس وقت تک یہاں مسلمانوں کی اہمیت نہیں رہے گی، جسطرح سے صلح حدیبیہ میں کفار مکہ سے شرائط کی بنیاد پر کام کیا تھا، اسی طرح سے یہ ہمارے لئے بھی صلح کا وقت ہے کہ ہم شرائط کی بنیاد پر انکی مدد کریں، انکی تنظیموں اورانکے لیڈروں کو اس بات پر مجبورکریں کہ تم ہمارا ساتھ دو تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے، تبھی جاکر کچھ مثبت نتائج سامنے آئیںگے۔ دوائی دینا، کھانا کھلانا، گھربناکر دینا، یہ سب انسانی ضروریات ہیں انہیں ضرور فراہم کریں، نہ کہ میتوں کی سیاست کو حکمت کا نام دیں ۔