سازش کو ناکام بنائیں

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9984637327
ملک کے مختلف علاقوں میں اس سال کے آخر میں الیکشن ہونے جارہے ہیں اور سیاسی پارٹیاں ان انتخابات کی تیاریوں میں لگ چکی ہیں ۔ جہاں وہ اپنے ووٹروں کو لبھانے کے لئے کمر بستہ ہیں وہیں انہیں جتانے کے لئے مختلف قومیں اور ذاتوں کے لوگ اپنی اپنی ذات کے امیدواروں کو جتانے کےلئے منصوبہ بندی کررہے ہیں ۔ ایسے میں مسلمان ہی ایسی قوم ہے جو ان حالات سے نمٹنے کے لئے تیار نہیں ہے ، نہ ہی وہ امیدوار کو میدان میں اتارنے کے لئے تیاری کررہے ہیں نہ ہی الیکشن میں صد فیصد ووٹنگ ہو اسکے لئے کوئی تیاری کررہے ہیں۔ مسلمان یہ سوچتے ہیں کہ جسے ووٹ لینا ہے وہ آکر خود ان سے رابطہ کرے اور جسے ووٹ چاہئے وہی آکر انکے نام ووٹنگ فہرست میں جمع کرے ۔ پچھلے کئی سالوں سے یہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر مسلمان الیکشن کے دن چیختے چلّاتے ہوئے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ انکے نام ووٹنگ فہرست میں نہیں ہیں ، انکے نام کاٹ دئے گئے ہیں یا پھر انکے ناموں کو دوسری جگہ پر منتقل کیاگیاہے ۔ یہ ایک دو دفعہ کی بات نہیں ہے بلکہ ہر بار ایسے ہی حالات پیدا ہوتے ہیں اسکے برعکس مسلمانوں کی بڑی تعداد کبھی بھی اس بات پر توجہ نہیں دیتی ہے کہ وہ ان حالات سے نمٹنے کے لئے قبل از تیاری کرلیں۔ انکی مثال ایسی ہے جیسے کہ ضرورت سے فارغ ہونے کیلئے وقت پڑھنے پر جیسے بیت الخلاء ڈھونڈا جاتاہے ویسے ہی الیکشن کے دن اپنا نام ووٹنگ لیسٹ میں تلاش کیاجاتاہے ۔ آنے والے انتخابات کسی بھی سیاسی پارٹی کیلئے اہم ہوں یا نہ ہوں ، لیکن مسلمانوں کے لئے اہم اس لئے ہیں کہ مسلمان اپنا نام ووٹنگ لیسٹ میں محفوظ کروائیں کیونکہ آنے والے ایام میں مسلمانوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر ساز ش رچی جارہی ہے اور سازش کو انجام دینے کیلئے باقاعدہ بڑے پیمانے پر سنگھ پریوار کی نگرانی میں سرکاری ، غیر سرکاری اور تنظیمیں کام کررہی ہیں ۔ ان تمام باتوں سے ناواقف مسلم قائدین اور تنظیمیں نالے کے پانی کی صفائی ، گھروں میں گھسنے والے پانی کی نکاسی ، جذباتی تقریریں اور گل پوشی و شال پوشی کی سرگرمیوں کو انجام دینے میں مگن ہیں ۔ اس وقت بھارت کے جو حالات ہیں ان حالات پرکوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے بس سب کو فکر ہے کہ آنے والے انتخابات میں کس محلے سے کتنے مسلم امیدواروں کو کھڑا کیا جائے ، کسے ہرانے کے لئے کون سہی ہے ؟۔ کونسے اسمبلی حلقے کے امیدوار سے کتنے پیسے بٹورنے ہیں ، کس کی تائید کرتے ہوئے کس کی جلانی ہے ، یہی فکر مسلمانوں کے ذہینوں میں بھری پڑی ہے ۔ اگر مسلمان واقعی میں مستقبل میں اپنا ووٹ دینے کا حق بچائے رکھنا چاہتے ہیں تو انکے سامنے ایک ہی راستہ ہے ،وہ راستہ اگلے تین چار مہینوں میں شدید مشقت کرتے ہوئے ووٹنگ لیسٹ میں نام درج کروانے کا ۔ ووٹرکارڈ کے ساتھ آدھار کارڈ لنک کروانا اور یہ تلاش کرناکہ کس کا نام ووٹنگ لیسٹ میں ہے اور کس کا نہیں ہے ، اگر ہے تو کیا انکا نام درست ہے اور کیا انہوںنے اپنے ووٹرکارڈ کو آدھار سے جڑوایا ہے ؟۔ اگر یہ سب کام کرنے کی طرف توجہ دی جائے تو مسلمانوں کو انکا آئینی حق ادا کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اس کام کو انجام دینے کے لئے ضروری ہے کہ ہر محلّے و گلی میں ، علاقے میں ، گائوں میں و شہرمیں مسلمانوں کی تنظیمیں ، ادارے ، عمائدین ، سماجی و ملّی شخصیات آگے آئیں ۔ اپنی اپنی مسجدوں کے حدود میں کیمپ منعقد کروائیں ۔ اپنے علاقوں کے بی یل اوز اور الیکشن آفیسرز کا تعاون لیں اور پوری کوشش کریں کہ کسی بھی شخص کا نام ووٹنگ لیسٹ میں نہ چھوٹے ۔ سنگھ پریوار اس دفعہ ای وی یم کا غلط استعمال کرنے سے زیادہ سیکولر اور مسلمانوں کے ووٹوں کو فہرست سے بے دخل کرنے کا کام کریگی اور اسکا جواب ہم الیکشن کے دن نہیں بلکہ ابھی سے دے سکتے ہیں ۔