شیموگہ:۔ماہ اپریل سے اب تک شیموگہ پولیس نے اہم وارداتوں کا تذکرہ کیاہے،جس میں ڈرگس،غنڈہ گردی،چوری اور ڈکیتی کے معاملات میں چالیس سے زیادہ نوجوانوں کو تحویل میں لیاہے،مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ ہر ایک واردات میں کم ازکم ایک مسلم ملزم کا نام آرہاہے۔مسلم نوجوانوں کے کئی ایک گروہ گانجہ فروشی یا پھر گانجے کے استعمال میں مصروف ہوچکے ہیں۔چوری و ڈکیتی کے معاملوں میں بھی آدھادرجن سے زیادہ مسلم نوجوانوں کو گرفتارکیاگیاہے۔آخر سوال یہ ہے کہ کیونکر مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد جرم کی دنیا میں قدم رکھی ہوئی ہے،جبکہ ان نوجوانوں کو ان وارداتوں سے کچھ بھی تو حاصل نہیں ہورہاہے ،نہ وہ ویرپن بن پارہے ہیں نہ ہی دائود ابراہیم بن رہے ہیں،نہ وہ شیواجی کی طرح ہیں نہ ہی حاجی مستان بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔مگر مکھی کاگوشت کھاکر برہمن کی ذات خراب کرلینے کے برابر مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد جیلوں میں ٹھونسی جارہی ہے۔اس طرح کی خبروں میں محکمہ پولیس کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیاجاتاہے اور ہر نوٹیکفیشن میں کم ازکم ایک نام مسلمان کا موجود رہتاہے۔جس دورمیں دوسری قوم کے نوجوان تحقیق،تعلیم اور اچھے کارناموں کو انجام دیکر اپنا نام روشن کررہے ہیں،لیکن اسی دورمیں مسلم نوجوانوں کے نام جرم کی دنیا میں پڑھنے کو مل رہے ہیں۔ہوناتویہ چاہیے تھاکہ مسلم نوجوان راہِ حق پر کھڑے ہوکرنیک نامی کرتے اور اچھے کاموں کو انجام دیکر اپنا مستقبل سنوارتے،لیکن نوجوانوں میں یہ جذبہ پوری طرح سے ناپید ہوچکاہے۔
