بنگلورو:۔یوکرین سے واپس آنے والے18ہزار سے زائد میڈیکل طلبہ نے متبادل تعلیمی نظام نہ ملنے پر قانونی جنگ شروع کر دی ہے۔ریاستی اور مرکزی حکومتیں جنہوں نے 4 ریاستوں کے طلبہ کیلئے مناسب انتظامات کرنے کا وعدہ کیا تھا جنہوں نے جنگ زدہ ملک یوکرین میں تعلیم کو ادھورا چھوڑ دیا تھا، فی الحال نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) کے رہنما خطوط پر تنازعہ کھڑا کیاجارہاہے۔اس پس منظر میں، ہریانہ، چھتیس گڑھ، ہماچل پردیش اور کرناٹک کے طلبہ سپریم کورٹ میں عرضی داخل کریں گے، اور جنہوں نے این ای ای ٹی (نیٹ) کا امتحان مکمل کرنے کے بعد بیرون ملک میڈیکل کی تعلیم کیلئے داخلہ لیا ہے، وہ اپنے ہی ملک میں ہنگامی حالات کے پیش نظراس کورس کو جاری رکھنے کی درخواست کریں گے۔ یوکرین کے 30 سے زائد کالج، جنہیں طبی تعلیم فراہم کرنا تھی، فی الحال5.1لاکھ روپے فیس حاصل کرتے ہوئے آن لائن کلاسس چلائی جارہی ہیں۔ کلاسیں ہر سمسٹر کیلئے آن لائن منعقد کی جارہی ہیں اور طلبا کو پریکٹس بغیر آن لائن سیکھنے پرمجبورکردیاگیاہے،جس سے وہ پریشان ہیں۔ سمسٹر جولائی کے آخر میں ختم ہونگے اور نئے سمسٹر کی کلاسز یکم ستمبر سے شروع ہونگی۔ اس طرح یوکرین کے میڈیکل کالجوں کی جانب سے اب دوبارہ فیس حاصل کرنے کی اپیل کی جارہی ہے۔اس تناظرمیں طلبہ اور والدین مرکزی حکومت سے مدد کے منتظر ہیں، یوکرائن کے کالجوں سے فیس کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یوکرائن کے کالجز کو فیس ادا کرنے کے باوجود پریکٹیکل کلاسز کا انعقاد نہیں کیا گیا۔داونگیرے کی یوکرائنی طالبہ حبیبہ کے والدسید اشرف اللہ نے کہا ہے کہ اگر ہندوستانی میڈیکل کالج اتنی ہی فیس لینے کو تیار ہیں توہم یہاں وہ فیس ادارکرنے تیارہیں، حکومت کو اس کیلئے کچھ انتظام کرنا چاہئے۔کہا جارہاہے کہ جنگ زدہ ملک یوکرین سے میڈیکل تعلیم چھوڑآنے والے طلبہ پانچ مہینوں سے مرکزی حکومت کی مددمنتظرہیں مگراب تک کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے،اس طرح یوکرینی میڈیکل طلبہ کاتعلیمی مستقبل تاریک نظرآرہا ہے،18 ہزارسے زائدطلبہ کا مستقبل قینچی میں پھنس گیا ہے۔کے پی سی سی کے صدرڈی کے شیوکمار نے مرکزی بی جے پی حکومت کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ریاستی اورمرکزی حکومتوں نے یوکرین کے میڈیکل طلبہ کووطن واپس لانے کے معاملہ میں بہت زیادہ تشہیری مہم چلائی،حکومتوں کوچاہئے کہ وہ یوکرین سے واپس آئے طلبہ کیلئے اب تک کیاکیاہے اس کی فہرست جاری کریں۔ ریاستی وزیرصحت ڈاکٹرسدھاکرنے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ممالک میں زیرتعلیم میڈیکل طلبہ کویہاں میڈیکل تعلیم کوجاری رکھنے میں این ایم سی کے رہنماخطوط کے تحت کوئی گنجائش نہیں ہے، لیکن اس کیلئے متبادل نظام تعلیم فراہم کرنے کیلئے مرکزی وزارت برائے خارجہ امورکی جانب سے غوروخوض کیاجارہا ہے، وزارت کی گائیڈ لائنس کاہم انتظار کررہے ہیں۔اس پس منظرمیں یوکرین سے واپس ہوئے میڈیکل طلبہ کاحکومت سے مطالبہ ہے کہ بیرون ممالک میں جو فیس لی جارہی ہے وہی فیس باقی رکھتے ہوئے کسی مخصوص کالج میں میڈیکل تعلیم جاری رکھنا موقع فراہم کیا جائے۔
