ضلع انتظامیہ کی مقررہ فیس سے ایمبولنس ڈرائیور ناراض: لاشوں کی تعداد میں اضافہ

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

شیموگہ:۔ مردہ گھر سے لاشیں لے جانے کیلئے ایک اورمسئلہ کھڑا ہوچکا ہے۔ ایک طرف وباء سے فوت ہوچکے لاشوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے،تو دوسری طرف ان لاشوں کو انکے لواحقین تک پہنچانےکیلئے ایمبولنس ڈرائیور خاموش احتجاج پربضد ہیں ۔ ایمبولنس ڈرائیور وں کی ہڑتال کی وجہ سے حالات اوربھی بگڑتے جارہے ہیں۔ ایمبولنس کی ہڑتال کی وجہ صرف اتنی ہے کہ ضلع انتظامیہ نے ایمبولنس کیلئےجو قیمتیں وصول کرنے کی پابندی عائد کی ہے اس قیمت کو لیکر ایمبولنس ڈرائیور متفق نہیں ہیں۔ میگان اسپتال کے پوسٹ مارٹم روم سے لاشوں کو لے جانے والی سرکاری ایمبولنس آج یا کل سے نہیں بلکہ ایک عرصہ دراز سے یہاں کے اہلکار، تعینات کردہ پولیس متاثرین سے فائدہ اٹھاتے آرہے ہیںاور منافع کمارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ضلع انتظامیہ کے مقرر کردہ رقم پر تمام ایمبولنس ڈرائیور خاموش احتجاج کررہے ہیں۔ میگان اسپتال کے مارچری روم سے کورونا کے متاثرہ لاشوں کو لے جانے والی ایمبولینسوں کی بدعنوانیوں اورمن مانیوں کو روکنے کیلئے ہی ضلع انتظامیہ نے قیمتوں کی شرح طئے کی ہے۔ لیکن یہاں ضلع انتظامیہ نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ اگر کوئی ایمبولنس مقررہ فیس سے افزود رقم دینے کی مانگ کرتا ہے تو اسکی شکایت کس سےکرنی چاہئے ۔ میگان اسپتال کے اعلیٰ افسران محض بورڈ ڈال کر خاموش بیٹھ چکے ہیں۔ اب تک جو ایمبولنس اپنی مرضی کے مطابق گاہکوں کو لوٹ رہے تھے، جب سے ضلع انتظامیہ نے فی کلو میٹر کی مناسب سے شرح مقرر کی ہے توکوئی ایمبولنس لاشوں کو لے جانے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ایمبولینس والوں کی مانگ ہے کہ آخری رسومات انجام دینے والے افراد کو زیادہ قیمت دی جانی چاہئے۔اطلاعات کے مطابق گذشتہ تین گھنٹوں سےمارچری روم سے لاشیں ویسے ہی پڑی ہوئی ہیں اور کوئی ایمبولینس انہیں لے جانے کیلئے تیار نہیںہے۔ایمبولینس ڈرائیوروں نے اپنے موبائل بند کردئےہیں۔ لیکن ایمبولینس مالکان جنہوں نے اس سے قبل ضلع انتظامیہ دفترکی میٹنگ میں اس فیصلے پراتفاق کیا تھا اور اب نیا رویہ اختیار کرکے تمام کو حیرت میں ڈال رہے ہیں۔