دہلی:۔ سپریم کورٹ نے پیگاسس اسپائی ویئر کیس کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ نیز عدالت نے ماہرین کی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس آر وی رویندرن اس کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔ ان کے علاوہ سابق آئی پی ایس افسر آلوک جوشی کو بھی ماہرین کی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے ۔ جوشی سابق آر اے ڈبلیو کے سربراہ ہیں۔ماہرین کی کمیٹی میں سندیپ اوبرائے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ بی پینل میں تین ٹیکنیکل ممبرز کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔نیشنل فورنسک سائنس یونیورسٹی، گاندھی نگر کے سائبر سیکورٹی اور ڈیجیٹل فورنسک ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسراور ڈین ڈاکٹر نوین کمار چودھری، کے علاوہ امرتا وشوا ودیاپیتم، امرتاپوری، کیرالہ کے انجینئرنگ اسکول کے پروفیسرڈاکٹر پرابھارن پی، اورانڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ،بمبئی کے کمپیوٹر سائنس انجینئرنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اشون انیل گماستے بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے ہادیہ کیس میں این آئی اے کی تحقیقات کی رہنمائی کے لیے جسٹس (ریٹائرڈ) آر وی رویندرن کو بھی مقرر کیا تھا۔سپریم کورٹ نے پیگاسس جاسوسی کیس میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مرکز کو کٹہرے میں کھڑا کیا اور سخت ریمارک کیا کہ عدالت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ملک کے ہر شہری کو ان کے پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی سے بچانا چاہیے۔ پیگاسس جاسوسی کا الزام فطرتاً بڑے اثرات کا حامل ہے۔ عدالت کو حقیقت معلوم کرنی چاہیے۔ عدالت نے مرکز کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے خدشات کو اٹھا کر حکومت کو ہر بار مفت پاس نہیں مل سکتا۔ عدالتی نظرثانی کے خلاف کوئی عالمی پابندی نہیں ہے۔ مرکز کو یہاں اپنے موقف کو درست ثابت کرنا چاہیے تھا۔ عدالت نے کہا کہ مرکز کو بار بار موقع دینے کے باوجود اس نے محدود حلف نامہ دیا جو واضح نہیں تھا۔ اگر وہ واضح کر دیتے تو ہم پر بوجھ کم ہوتا۔غیر ملکی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے الزامات ہیں، تحقیقات ہونی چاہیے۔
