علی گڑھ میں 103 مدارس غیر قانونی پائے گئے سروے کی رپورٹ یوگی حکومت کو بھیج دی گئی

سلائیڈر نیشنل نیوز
علی گڑھ: ۔اتر پردیش حکومت کی جانب سے ریاست بھر میں چلنے والے تمام مدارس کی انتظامیہ سے سروے رپورٹ طلب کی گئی تھی۔ جس کے بعد ضلع مجسٹریٹ اندر وکرم سنگھ نے تحصیل سطح پر ایک ٹیم تشکیل دے کر سروے شروع کرایا تھا۔ ٹیم نے سروے مکمل کر کے رپورٹ حکومت کو بھیج دی ہے۔ مزید کارروائی کا فیصلہ حکومتی سطح سے ہی کیا جائے گا۔دراصل علی گڑھ ضلع انتظامیہ کی طرف سے بھیجی گئی سروے رپورٹ میں ضلع کی 5 تحصیلوں میں کل 103 مدارس غیر قانونی پائے گئے ہیں۔ اتر پردیش مدرسہ بورڈ میں رجسٹریشن کے بغیر چلائے جارہے تھے۔ جن مدرسوں میں تحقیقات کی گئی ان میں ایک مدرسہ فیضانِ قرآن بھی شامل ہے۔فیضان قرآن مدرسہ چلانے والے محمد مقصود عالم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سروے ٹیم آئی تھی اور حکومت سے 11 سوالات پوچھے گئے تھے۔ زمین کیسی ہے؟ کرائے کی زمین پر چلا رہے ہیں یا اپنی خریدی ہوئی ہے؟۔ اگر زمین خریدی ہے تو کس طریقے سے خریدی گئی؟ مدرسے میں کتنے بچے ہیں؟ آپ کس حد تک تعلیم دے رہے ہیں؟ آپ ہندی، انگریزی میں تعلیم دے رہے ہیں یا نہیں؟ آپ قومی ترانہ گاتے ہیں یا نہیں؟ 26 جنوری اور 15 اگست مناتے ہیں یا نہ نہیں۔آپ جو مدرسہ چلا رہے ہیں اس میں آپ کے فنڈز کہاں سے آتے ہیں؟ ہم نے اپنے پاس موجود تمام معلومات بتا دیں۔ ایسے میں ہماری سوسائٹی 2009 کی تھی جسے 2014 میں رینیو  کرانا تھا لیکن ہم ایسا نہ کر سکے۔ انہوں نے ہمیں کہا کہ آپ جلد از جلد اسے رینیو  کر الیں۔ تاکہ حکومت کی طرف سے آپ کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔علی گڑھ کے ضلع مجسٹریٹ اندر وکرم سنگھ نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ کے ذریعہ کئے گئے مدارس کے سروے میں 103 مدارس غیر رجسٹرڈ پائے گئے ہیں۔