کاروار:۔حکومت ہر رکن اسمبلی کو ٹیلی فون بل کے طورپر عوامی ٹیکس سےجمع ہونے والے پیسوں سے ماہانہ 20ہزار روپیوں کےمطابق پانچ سال کیلئے 12لاکھ روپئے خرچ کرتی ہے ۔ارکان اسمبلی بہت ہی سستی قیمت کے موبائیل استعمال کرتےہیں ، آج کے جدید زمانے میں ، پچھلے زمانےمیں دی جانے والی سہولیات کو جاری رکھنا کہاں تک صحیح ہے۔ یہ سوال کاروار کے سماجی کارکن مادھو نایک نے اُٹھایا ہے۔ریاست میں کل 224ارکان اسمبلی ہیں۔ سال 2018کے ’کرناٹکا ودھان سبھا ارکان کی سہولیات‘ کے مطابق فی رکن اسمبلی ماہانہ 20ہزارروپئے کا حساب لگایا جائے تو 224ارکان اسمبلی کا سالانہ خرچ 44.80لاکھ روپئے ہوتاہے۔ ان کی پانچ سالہ مدت کار میں کل 26.88کروڑروپئے خرچ کئے جاتے ہیں۔ سرکار، عوامی ٹیکس کے رقم سے ارکان اسمبلی کے فون بل کے لئے اتنی خطیر رقم استعمال کرتی ہے۔ عام عوام بھی موبائیل استعمال کرتےہیں۔ آج کے مسابقاتی دور میں موبائیل کسی طرح بھی استعمال کریں ، کتنے ہی کال کریں یا مسیج کریں سالانہ 2000روپئے خرچ ہوتےہیں ۔ سماجی کارکن مادھو نایک نے سوال کیا ہے کہ سرکاری تحویل والی بی ایس این ایل کی نرخ پر نظر دوڑائیں تو سالانہ 321روپئے سے 1999روپئے تک ان لمیٹیڈ کال والے ریچارج پلان موجود ہیں۔ ان سب کی جانکاری رکھنے کے باوجود سرکار عوامی ٹیکس کا پیسہ اس طرح بے دریغ خرچ کرنا کہاں تک صحیح ہے ؟ مادھونایک کا کہنا ہے کہ میں یہ نہیں کہہ رہاہوں کہ ارکان اسمبلی کو دیا جانے والا بل رد کریں ۔ بلکہ عوامی ٹیکس کے پیسہ سے فون بل استعمال کرنےو الے چند ارکان اسمبلی عوام سے رابطہ کرنا چھوڑئیے عوام کی طرف سے موصول ہونے والے کال تک اٹھاتے نہیں ہیں۔ جس کی تازہ مثال کاروار کی رکن اسمبلی روپالی نائک ہیں ، وہ عوام کے کال کبھی ریسیو نہیں کرتیں۔ اکثر ان کا موبائیل ناٹ ریچیبل رہتاہے یا سوئچ آف رہتاہے۔ معاملہ جب ایسا ہے تو پھر سالانہ 2.40لاکھ روپئے کے تحت پانچ سال کے لئے 12لاکھ روپئے دئیے جانے کا کیا مطلب ہے ؟انہوں نےکہاکہ یہ صرف ارکان اسمبلی کے فونوں کے بل کا حساب ہے ، ارکان پارلیمان کا حساب کتاب الگ ہے۔ ویسے ارکان اسمبلی کو فون بل کے علاوہ دیگر بھتہ کے طورپر 55ہزارروپئے ہرماہ دئیے جانے کی بھی مادھو نائک نے معلومات دی۔
