ویکسین حاصل کرنے کا گلوبل ٹینڈرکمیشن بٹورنے کا ذریعہ ہے: ڈی کے

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

بنگلورو:۔ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) صدر ڈی کے شیوکمار نے ریاستی حکومت پریہ الزام عائدکیاکہ کمیشن بٹورنے کے لئے ریاستی حکومت نے کووڈ۔19ویکسین عالمی ٹنڈر کے ذریعہ حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت کے لئے کورونا وباء ایک تہوار ہے جس میں رقم بٹوری جائے۔انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ عالمی ٹنڈر ایجنٹوں کے ذریعہ کمیشن بٹورنے کا ایک ذریعہ ہے۔ کیا یہ سب ہم نہیں جانتے؟ شیوکمار نے بتایا کہ ایک سو کروڑ روپئے کا مجموعی فنڈ قائم کرنے کانگریس کے تمام اراکین اسمبلی اور پارلیمان کے تمام اراکین اسمبلی اور پارلیمان نے منظوری دے دی ہے۔اس فنڈ سے ہم ویکسین حاصل کریں گے اور حکومت کو یہ دکھائیں گے کہ ویکسین کس طرح عوام کو لگوایا جاتا ہے۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ دیگر ریاستیں ویکسین کے لئے کتنی قیمت ادا کررہی ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ حکومت کورونا لاک ڈاؤن میں توسیع کے ساتھ معاشی پیکیج کا بھی اعلان کرنا چاہئے۔ ایک اخباری کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ کورونا حکومت کا ہی وبائی مرض ہے۔ اس جان لیوا مرض کا کوئی مذہب، ذات پات اور پارٹی نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ مختلف اضلاع اور دیہی علاقوں میں یہ وباء تیزی سے پھیل رہی ہے۔کورونا علاج کروا کر ان کا کورونا ٹسٹ نگیٹیو آنے کے بعد بھی کئی لوگ فوت ہورہے ہیں۔کل ایسے کئی معاملات ٹی وی چینلوں اور سوشیل میڈیا پر دیکھنے کے بعد لوگوں میں دہشت پھیلی ہوئی ہے۔ اس سلسلہ میں وہ ڈاکٹروں سے مشورہ کے بعد وزیراعظم مودی کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ابھی سے یہ خبریں گشت کررہی ہیں کہ تیسرے مرحلہ کے کووڈ میں زیادہ بچے متاثر ہوں گے، اس لئے کانگریس نے پنچ سوترا نامی پروگرام تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔شیوکمار نے کہا کہ کھاد کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں۔کھاد پیدا کرنے والے کارخانوں کو بند نہ کرنے وہ مرکزی وزیر سدانندا گوڈا سے درخواست کریں گے۔اگر ان کارخانوں کو بند کردیا گیا تو کھاد کی پیداوار کم ہوجائے گی اور کھاد کی قیمتو ں میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔انہوں نے بتایا کہ پھولوں کے کاشتکاروں کو ابھی مارکیٹ دستیاب نہیں۔سبزیوں،پھلوں کے کاشتکاروں کو بھی اپنی فصلوں کی مناسب قیمت نہیں مل رہی ہے۔اس لئے تمام کسانوں کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان کرنے کاانہوں نے حکومت کرناٹک سے مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے کارخانوں، ہوٹلوں اور دیگر شعبوں پر بھی اثر پڑا۔ان کی بحالی کو یقینی بنانے پر حکومت فوری اقدامات کرے۔ پچھلے سال کورونا کے دوران اعلان کردہ20لاکھ کروڑ روپئے کا پیکیج اب تک کسی کو مہیا نہیں ہوا ہے۔سویتا سماج، کسانوں، بنکروں، ڈرائیوروں، ٹھیلہ گاڑی والے فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والے کسی کو بھی اب تک کوئی معاوضہ نہیں ملا ہے۔یہ سب بوگس اعلانات ہیں۔ اب تک راحت کن کن لوگوں کو دی گئی ہے اس کی ایک فہرست جاری کرنے کا انہوں نے مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال کووڈ مریضوں کے علاج کے لئے خریدے گئے بستروں، سینی ٹائزر، ماسک، پی پی ای کٹوں کے معاملہ میں زبردست گھپلہ ہوا تھا۔ اب کوووڈ ویکسین کی خریداری میں بھی زبردست گھپلہ ہورہا ہے لیکن اس سلسلہ میں ریاستی حکومت نے کوئی اطلاع ہی نہیں دی۔انہوں نے بتایا کہ ریاست میں 700نرسنگ کالج ہیں، نیم میڈیکل کالجس ہیں، آنگن واڑی ورکرس ہیں، آشاورکرس ہیں، کووڈ کے علاج میں ان کا استعمال کرکے ہم پورے ملک میں مثالی کام کرسکتے ہیں۔