مونگیری لال کے حسین سپنے !!!

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر مضامین

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔9986437327
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بی یس یڈی یورپا نے کورونا کی وجہ سے نافذ کردہ لاک ڈائون سے متاثر ہونے والے غریب و متوسط طبقے کو راحت دینے کے لئے 1250 کروڑروپئوں کے خصوصی پیکئج کا اعلان کیاہے او ر اس اعلان کو جہاں گودی میڈیا بڑھا چڑھا کر پیش کررہاہے وہیں عام لوگ اس پیکیج کا مذاق اڑا رہے ہیں اور لوگوں کا کہناہے کہ وزیر اعلیٰ نے جو خصوصی پیکیج جاری کیاہے اس سے متاثر ین کا پیٹ بھرنے کی بات تو دور ہونٹ بھی بھیگنا مشکل ہے اور وزیر اعلیٰ نے ریاست کی عوام کو بھیک دےکر دوسری ریاستوں کے سامنے شرمسار کیاہے۔دراصل وزیر اعلیٰ نے جو خصوصی پیکیج دینے کا اعلان کیاہے اس میں کہاگیاہے کہ مزدوروں کو 2 ہزار روپئے اور پیشہ وارانہ مزدوروں و فنکاروں کو 3 ہزار روپئے کی امداد دی جائیگی اور اگر اس 2000 ہزار روپئے کو مہینے کے تیس دنوں سے تقسیم کیا جاتاہے تو 66.60 روپے فی دن کے حساب سے معاوضہ دیا جارہاہے ، کوئی بھی اس دوہزار روپئے لینے کے چکر میں اپنا وقت ضائع نہیں کریگا کیونکہ جتنی آسانی کے ساتھ وزیر اعلیٰ نے مختلف نوکری پیشہ اور مزدوروں کو یہ رقم دینے کی بات کہی ہے اس سے کہیں زیادہ کئی گنا مشکل اس رقم کو حاصل کرنا ہے کیونکہ حکومت کاغذ مانگتی ہے اور سب جانتے ہیں کہ مزدور کے پاس دووقت کی روٹی کمانے کی فکر کے علاوہ کاغذ بنانے کی فکر نہیں ہوتی ۔ مثال ڈرائیور اور میکانک کی ہی لیں ، ڈرائیونگ کرنے والے کے پاس لائسنس اور بیڈج ضرور ہوتاہے لیکن وہ رجسٹریشن کہاں کروائے گا ، اسی طرح سے میکانک کی بات کریں تو گیراج کا مالک اپنی گیریج کا لائسنس ضرور کرواتاہے اور جس کے پاس گیریج ہو وہ 2000 روپئے کا محتاج نہیں اور جو اسکاملازم ہو اسکے پاس نہ شناختی کارڈ ہوتاہے نہ ہی کو رجسٹریشن سرٹیفیکٹ ، کیسے ممکن ہے کہ لوگ 2 اور 3 ہزار روپئوں کے لئے لاک ڈاؤن میں دستاویزات کے پیچھے بھاگتے رہیں گے ، دراصل کرناٹک کی بھاجپاحکومت پوری طرح سے مودی جی کے نقش و قدم پر چل رہی ہے ، جس طرح سے پچھلے سال نرملاسیتا رمن نے ملک کے لئے 20 لاکھ کروڑ روپیوں کے خصوصی پیکج کا اعلان کیا تھااوراس 20 لاکھ کروڑ روپیوں میں سے ایک روپیہ بھی عام آدمی کے کھاتے میں جمع نہیں ہواتھا اور جس طرح سے وزیر اعلیٰ یڈویورپا نے پچھلے سال آٹو رکشا ڈرائیور ، ٹیکسی ڈرائیور اور دیگر شعبوں کے مزدوروں کو 5 ہزار روپئے دینے کا وعدہ کرتے ہوئے اب تک ایک روپیہ بھی نہیں دیا ہے بالکل اسی طرح سے اس بار بھی یہ اعلان اعلان ہی رہ جائیگا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ حکومت کی ان چکنی چپٹی باتوں پر عام لوگ اب بھی گمراہی کا شکار ہورہے ہیں اور عوام سمجھ رہی ہے کہ واقعی میں یڈویورپا جی عوام کی مدد کے لئے آگے آئے ہیں ۔ کئی سال پہلے دوردرشن میں مونگیری لال کے حسین سپنے نام کا ایک ڈرامہ آتا تھا اس میںسیریل کا ہیرو بیٹھے بیٹھے ہی حسین سپنے دیکھاکرتا تھا، اب بالکل مودی جی اور یڈویورپا دونوں ہی عوام کو مونگیری لال کے حسین سپنے دکھارہے ہیں اور لوگوں کا جینا محال کرچکے ہیں ۔ جس طرح سے وزیر اعظم نے کہا تھاکہ آتم نربھر بھارت بنائینگے وہ پورا ہورہاہے ، لوگ بھوکے ہوتے ہیں تو غیر سرکاری تنظیمیں مدد کے لئے آگے آرہے ہیں ، لوگ بیمار ہوتے ہیں تو نجی اسپتالوں کا سہارا لے رہے ہیں ، لوگ بے روزگار ہوتے ہیں تب بھی اپنی زندگی آپ جینے کی کوشش کرتے ہیں اور جب لوگ مرتے ہیں تب بھی وہ اپنی موت کا سامان خود تیار کرکے جانے کے لئے مجبور ہورہے ہیں یا رضاکار انہیں قبروں میں اتا رررہے ہیں ۔ہماری اتنی رائے ہے کہ حکومت کے وعدوں پر بھروسہ نہ کریں ، اگر آپ حکومت کے وعدوں و دعوئوں پر بھروسہ کرتے ہیں تو اپنی زندگی کا بھروسہ چھوڑ دیں ۔ مشورہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو محفوظ رکھیں ، احتیاط برتیں اور اپنی مستقبل کے لئے خود تیاریاں کریں ۔