ہبلی:۔’’انجنیئرس ہمیشہ سماجی ضروریات کی تکمیل میں پیش پیش رہے ہیں۔ چنانچہ انہیں فن تعمیر کاماہر اور ملک وسماج کا معمار جیسے القاب سے یاد کیاجاتاہے۔ لیکن ایک اچھا ، قابل وباصلاحیت انجنیئر بننے کے لئے سخت محنت، ذہنی قابلیت، لیاقت اور مشاہدہ درکارہے۔ طلباء ان تمام صفات کو پروان چڑھائیں اور ملک کی ترقی میں نمایاں رول اداکریں ‘ ‘۔ ان خیالات کا اظہا ریم۔یس۔ مُلا پرنسپال ٹیپو شہید پالی ٹیکنک ہبلی نے صدارتی خطاب میں یہاں ادارۂ میںمنعقدہ انجنیئرس ڈے کے موقع پر طلباء واساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ مزید کہا کہ انجنیئرس ڈے بطور خراج عقیدت سر ایم۔ ویشویشوریاکی یوم پیدائش کے دن پرمنایاجاتاہے۔ سرایم وشوشوریا اپنی ساری زندگی ہندوستانی عوام اور ملک کی خاطر وقف کردی اور آج ہندوستان میں شعبۂ انجنیرنگ سے جڑی ہوئی تمام ترقیات انہیں کی مرہونِ منت ہے۔ پرنسپال یم۔یس۔ مُلا نے مزید کہا کہ آل انڈیا کونسل فار ٹیکنکل ایجوکیشن دہلی کی جانب سے ملک بھر میں تقریباً آٹھ سو انجنیئرنگ کالجوں کے چند کورسس کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کیا گیا ہے ، جوکہ لمحہ فکر ہے ہر اُس فرد کے لیے جس کا تعلق شعبۂ انجنیرنگ سے ہے۔ مُلک میں صنعتی ترقی کے باوجو دتیکنکی کالجوں میں طلباء کی مانگ میں گراوٹ کے عوامل وجوہات ، اسباب اور سدِ باب کے احاطہ کے لیے انجنیرس ڈے ہمیں دعوت فکر دیتاہے۔ مذید کہا کہ یہ حقیقت اپنی جگہ مستند ہے کہ ملک کی ترقی میں انجنیرس کی نمایاں خدمات ناقابلِ فراموش ہیں اور نیز ملک کو مذید تر قی یافتہ بنانے میں انجنیرس اپنے اندر کافی اہلیت ومادہ رکھتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صنعتی تقاضوں کو سمجھا جائے اور اس کے مطابق لائحہ عمل تیار کیاجائے تاکہ آنے والے سالوں میں شعبۂ انجنیرنگ سے جُرے افراد مُلک کی ترقی میں ا پنا منفردکلیدی رول اداکرسکیں۔ا س مو قع پر مہما ن خصوصی یس ۔ یس ۔ شمبوجی پروفیسر کے۔ ہیچ۔کے۔ انجنیرنگ کالج دھارواڑنے کہا کہ طلباء کا صرف سند یافتہ ہونا کسی تابناک مستقبل کا ضامن نہیں ہوسکتا۔ اچھے مارکس کے علاوہ ان تمام ضرورتوں کو پورا کرنا لازم ہے جو کہ آج کی انڈسٹریز کی ضرورت ہے۔ طلباء میں بات چیت کا سلیقہ، مسائل کو حل کرنے کی اہلیت ودیگر خصوصیات جو صنعت وحرفت کا جزہیں، فقدان پایاجاتاہے، ان تمام باتوں کو اپنے اندر پروان چڑھائیں ۔مذید کہا کہ آج کل فنیشنگ اسکولوں کا چلن عام ہے جہاں پر طلباء کو صنعتی ضروریات کے تحت تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ نصابی کتب وصنعتی مانگ کے درمیان خلاء کو پُر کرسکیں ۔آگے کہا کہ طلباء مرکزی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے پروگرام اسٹارٹ اپ انڈیا کا فائدہ اٹھائیں جو خود کفیل بننے کی طرف نشان دہی کرتے ہیں۔ پروگرام سے دوسرے شعبہ جات کاصدو ر رویندر سنگھ عطار ، چندر شیکھر توپدر، ایم۔ ہیچ ۔ دھارواڑ، عبدالرزاق مُلا اور عابد حسین کتور نے بھی خطاب کیا اور بتایا کہ انجنیرس قوم کے معمار ہیں ۔ چنانچہ یہ اپنی ذمہ داری بخوبی سمجھیں اور ایمانداری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیں ۔ پروگرام کا آغاز سراج احمد ہاویری کی تلاوت قرآن ، کنڑی ترجمہ سے کیاگیا اور کرن کمار منٹو نے نظامت کی۔اس موقع پر پرنسپال یم۔یس مُلّا کو اسٹاف کی جانب سے تہنیت پیش کی گئی اور کہاگیا کہ انکے 38سال ٹیچنگ پروفیشن میں قریباً23سال سے یہ بحیثیت پرنسپال ادارہ کی ذمہ داری کو انجام دیتے آرہے ہیں اور چونکہ انکے وظیفہ یاب ہونے میں کچھ ماہ باقی رہ گئے ہیں اور اسال منعقدہ ہوا انجنیئرس ڈے پرنسپال یم۔ اے۔مُلّاکی سروس اور سرپرستی کاآخری اجلاس ہے۔ پرنسپال یم۔ یس۔ مُلّا نے کہا کہ اللہ کا شکر واحسان ہے کہ مجھے اتنے عرصہ درازتک ادارہ کی خدمت کا موقع دیا اور کہا کہ بانیان ادارہ ٹیپوشہید پالی ٹیکنک جناب شیخ محمد اکبراور جناب نظام الدین اے۔ واچمیکر کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا اور شمالی کرناٹک کے معروف ادارہ کی ذمہ داری مجھ کر سونپی اور بانیان ادارہ کا ہر قدم پہ تعاون شامل رہا۔
