شیموگہ :۔ شیموگہ شہر کے موجودہ قبرستانوں میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے جہاں پر مرکزی سُنی قبرستان اور سوائی پالیہ قبرستان میں پرانی قبروں کو دو سے تین بار کھود کر میتوں کی تدفین کی جارہی ہیں وہیں پر پرانے قبرستانوں پر حفاظت کے نام پر قبرستانوں میں ہی دکانیں قائم کرتے ہوئے مسلمانوںنے اپنی لاپرواہی کا جیتا جاگتا ثبوت پیش کیاہے جبکہ بہت پرانے قبرستانوں کو دوبارہ استعمال میں لانے کیلئے شریعت نے گنجائش فراہم کی ہے لیکن ان قبرستانوں کو استعمال میں لانے سے گریز کیا جارہاہے اور خود مسلمان ہی حیلے بنارہے ہیں ۔ شہر کے امیر احمد سرکل سے منسلک آثار محلہ قبرستان ، گارڈ ن ایریا قبرستان ، حضرت شاہ علیم دیوان درگاہ کا قبرستان ، حضرت بدالدین شاہ قادری درگاہ کا قبرستان اور امام باڑہ کا پرانہ قبرستان بہت پرانے قبرستانوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان قبرستانوں میں کون کون دفن ہیں اسکا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے لیکن ان قبرستانوں کو دوبارہ استعمال کرنے سے شہر شیموگہ کے لوگ گریز کررہے ہیں اور اس طرف توجہ دینا ہی نہیں چاہ رہے ہیں ۔ حالانکہ ان قبرستانوں کے دستاویزات پختے ہیں اور اس سے کسی کو پریشانی نہیں ہوسکتی ۔ باوجود اسکے یہ ہوا گرم کی جاتی رہی ہے کہ آثار محلہ قبرستان ، شاہ علیم دیوان درگاہ کا قبرستان ، گارڈن ایریاکا قبرستان شہر کے بیچ میں رہنے کی وجہ سے اعتراضات آسکتے ہیںاس لئے یہاں تدفین نہیں کی جاسکتی ۔ جبکہ آثار محلہ ( رسول مارکیٹ ) سے منسلک جگہ پر غیر قانونی دکانوں کا قبضہ ہے اور باقی جو جگہ بچی ہوئی ہے ان پر تجارتی مراکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی عام و خاص کی جانب سے ہورہی ہے اور یہ کہا جارہاہے کہ شہر کے کئی مسلمانوں کو اس قبرستان پر دکانیں بنا کر دینے سے روزگار کے مواقع مل سکتے ہیں اسلئے اسے تجارتی مراکز بنانے کیلئے استعمال کرینگے ۔ گارڈن ایریا قبرستان کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے ، پہلے اس قبرستان کے اطراف کچھ دکانیں لگاکر قبرستان کی چوکیداری کا حوالہ دیا گیا تھالیکن اب آدھا قبرستان دکانداروں اور گوداموں کا ہوچکاہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب اوقافی املاک کو قیامت تک منشائے وقف کے تحت ہی استعمال کرنے کا حکم اسلام میں ہے تو کیوں نہیں قبرستانوں کو قبرستان بننے نہیں دیا جارہاہے اور قوم کے علماء ، رہبر ، نمائندے سمیت دانشوران اس سلسلے میں غورو فکر نہیں کررہے ہیں ؟۔ کیا قبرستانوں کو ہڑپنے کا مافیا جنم لے رکھا ہے ؟۔ ایک طرف خود مسلمان ہی قبرستانو ںکا استعمال کرنے سے گریز کر رہے ہیں تو دوسری طرف اگر کوئی غیر مسلم یا حکومت کی جانب سے ایک انچ بھی قبرستانوں کی جگہ پر نظر پڑتی ہے تو اس پر بوال کھڑا کیا جاتاہے ۔ جس وقت شیموگہ میں قبرستانوں کی قلّت ہے ، آٹو کامپلکس کاقبرستان تنازعات کا شکار ہے ، گوپال کا قبرستان سخت مٹی کی وجہ سے استعمال میں نہیں ہے ، چکل کا قبرستان شہر سے بہت دور ہے اور جو زمین باقی ہے وہ اس علاقے کیلئے کافی ہے ، سوائی پالیہ کا قبرستان بھرتی ہوچکاہے ، سولے بیل کا قبرستا ن بھی چھوٹاہے تو ایسے میں قبرستانوں کو قبرستان کے طورپر استعمال کرنے میں کیا حرج ہے اور کون انہیں استعمال کرنے سے روک رہاہے ۔ پرانے قبرستانوں کو دوبارہ استعمال کرتے ہوئے انہیں محفوظ کرنے کے بجائے اس پر دکانیں آباد کرنا کونسی عقلمندی کا کام ہے اور چوکیداری کے نام پر دکانداری کونسے دین کا حصّہ ہے ؟۔ قبرستانوں کو قبرستان کے علاوہ دوسرے مقاصد کیلئے استعمال نہ کرنے کیلئے فتوے بھی جاری ہوچکے ہیں اور تمام مکاتب فکر کے علماء کی متفقہ رائے بھی ہے کہ قبرستانوں کی بے حرمتی نہ کریں اور نہ ہی ان کا استعمال دوسرے مقاصد کیلئے کریں ۔ جب اللہ کے رسولﷺ نے قبر پر ٹیک لگاکر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے تو یہاں ٹھیلے لگانے کی بات ہورہی ہے ۔
