پانچ برسوں میں شیموگہ اور دکشن کنڑا میں سب سے زیادہ فسادات

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

کاروار:۔ گذشتہ 5 برسوں میں ریاست بھر میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے معاملات میں دکشن کنڑا اور شیموگہ اضلاع ریاست کرناٹک میں سر فہرست ہیں تو اترکنڑا ضلع فرقہ وارانہ فسادات سے دور مگر پولس والوں پر حملہ کرنے میں اول نمبر پر ہے۔ریاستی حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ 5برسوں میں فرقہ وارانہ فسادات کےمتعلق 242کیس درج ہوئے ہیں جس میں شیموگہ ضلع میں 57اوردکشن کنڑا ضلع میں 46کیسس شامل ہیں۔ اس طرح یہ دونوں اضلاع فرقہ وارانہ فسادات میں پہلے مقام پر ہیں۔ بقیہ اضلاع کی بات کریں تو باگلکوٹ میں 26، داونگیرہ میں 18 اور ہاویری میں 18معاملات درج ہوئے ہیں۔ اترکنڑا، کلبرگی ، رام نگر، منڈیا، کوپل اضلاع فرقہ وارانہ فسادات سے دور پائے گئے ہیں۔البتہ فسادات کو روکنے کے دوران اور دیگر معاملات میں پولس پر حملہ کرنے میں اتر کنڑا سب سے آگے پایاگیاہے۔ ریاست بھر میں ایسے 3489ملزمین میں اترکنڑا ضلع کے 802ملزمین ایسے پائے گئے ہیں جن پر پولس اہلکاروں پر حملہ کرنے کا الزام ہے۔ پتہ چلا ہے کہ ان میں سے اکثر ہوناور کےپریش میستا کی نعش ملنے کے بعد ہوئےاحتجاج کے دوران پولس پر حملہ کرنے والے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ریاست میں پچھلے تین برسوں میں 4فرقہ وارانہ قتل ہوئےہیں۔ منگلورو شہر میں 1،دکشن کنڑا ضلع میں 1،گدگ (نرگند)میں 1اور شیموگہ میں 1قتل ہواہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کے دوران ہوئے نقصان کو لےکر شیموگہ میں 31کیس درج ہوئےہیں۔فسادات اور احتجاج وغیرہ کی روک تھام میں مصروف پولس اہلکاروں پر جسمانی حملے کئے گئےہیں۔ ذرائع کی مانیں تو 5برسوں میں ریاستی افسران سمیت 380پولس اہلکاروں پر جسمانی حملے ہوئے ہیں۔ان میں 107پولس افسران، 49سب انسپکٹرس، 96ہیڈکانسٹبل، 128کانسٹبل شامل ہیں ۔ اسی طرح اترکنڑا میں 802،دکشن کنڑا میں 501،بنگلورو شہر میں 493اور داونگیرہ میں 465کیس درج ہوئےہیں۔معاملات کو لے کر اب تک 3489ملزموں کے خلاف قانونی کارروائی کئے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔