دہلی:۔سابقہ یو پی اے حکومت نے سال2006 میں وزارت اقلیتی بہبود کی تشکیل دی تھی جسے موجودہ مرکزی حکومت نے منسوخ کرتے ہوئے وزارت کو سوشیل جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ منسٹری میں ضم کردیاہے۔اس سلسلے میں ڈکن ہیرالڈ میں خبر شائع ہوئی ہے۔اطلاعات کے مطابق ضم شدہ وزارت کے منصوبے جاری رہیں گے،لیکن وزارتِ اقلیتی بہبودی نے اس تعلق سے تفصیلات دینے سے انکار کیاہے۔محکمہ اقلیتی بہبودی کے علیحدہ وزارت کی ضرورت نہ محسوس کرتے ہوئے این ڈی اے حکومت نے یہ فیصلہ لیاہے،اس تعلق سے یوپی اے حکومت کی تنقید بھی مسلسل کی جاتی رہی ہے اور یو پی اے حکومت پر الزام لگایاگیاتھاکہ یوپی اے حکومت نےیہ اقلیتوں نے خوش کرنے کیلئے اس وزارت کی تشکیل دی تھی۔کانگریس کےراجیہ سبھا کے رکن پارلیمان سید ناصرحُسین نے ا س تعلق سے بتایاکہ یہ فیصلہ سماج کوتوڑنے کیلئے کیا گیا ہے ۔یوپی اے حکومت نے اقلیتوں کی فلاح وبہبودی کیلئے عمل میں لایاگیاتھا لیکن بی جے پی ہر موقع پر اقلیتوں کو نشانہ بناکر اپنا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔اقلیتوں کے معاملات کیلئے تشکیل شدہ وزارت کو منسوخ کرنا آئینی بنیادوں کے خلاف ہے،اس طرح کا فیصلہ کرنے کے بجائے اس محکمہ کو مزید فنڈس دیتے ہوئے محکمہ کی فلاح و بہبودی کیلئے اقدامات اٹھائے جاتے تھے تو بہتر تھا۔واضح ہوکہ مختارعباس نقوی کی وزارت کی معیاد ختم ہونےکے بعد محکمہ اقلیتی بہبودی کی وزارت کسی کو بھی نہیں سونپی گئی تھی اور اس وزارت کی اڈیشنل ذمہ داری منسٹری آف اومنس اینڈ چلڈرنس ویلفیر کو سونپی گئی تھی۔
