سپاری کی برآمدگی کو منسوخ کرنے کاشتکاروں نے کیا احتجاج

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ : مرکزی حکومت کی جانب سے سپاری کو بیرونی ممالک سے برآمد کرنے کا جو فیصلہ لیا گیا ہے اس فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ یہاں کے سپاری کے کاشتکاروں نے کیاہے ۔ کاشتکاروںنے اس سلسلے میں آج ڈپٹی کمشنر دفتر کے بالمقابل احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سپاری کی فصلوں کو لگنے والی بیماری سے ہونے والے نقصان کے لئے معاوضہ دیا جائے اور سپاری کی فصل کو بہتر بنانے کے لئے تحقیقی مرکز قائم کیا جائے ۔ ہسیرو سینا، راجیہ رائترا سنگھا ، سپاری کاشتکاروں کی زمین کی جانب سے منعقدہ اس احتجاج میں کیا گیا کہ مرکزی حکومت بھوٹان سے 17 ہزار میٹرک ٹن کچی سپاری برآمد کرنے کے لئے منظوری دی ہے ، اس سے کاشتکاروں کو بڑے پیمانے پر نقصان ہوگا، امسال 17 ہزار میٹرک ٹن تو کل کے دن 50 ہزار میٹرک ٹن سپاری کی برآمدگی ہوسکتی ہے ، امپورٹ ڈیوٹی عائد نہ کرتے ہوئے سپاری کو برآمد کرنے پر حکومت کی نہ تو آمدنی ہوگی نہ ہی یہاں کے کاشتکاروں کو معقول منافع ہوگا۔ یم آئی پی کی شرط عائد کئے بغیر برآمد کرنے سبھی کو نقصان ہے ۔ ہمارے ملک میں ہی کافی مقدارمیں سپاری کی کاشتکاری کی جاتی ہے ، ساتھ ہی یہاں کی سپاری کو دوسرے ممالک کو بھیجا جاسکتاہے ،باوجود اسکے امپورٹ کرنا نامناسب ہے ۔ پہلے ہی کرناٹک کے وزیر داخلہ اور اریکانٹ ٹاسک فورس کے صدر ارگا گنیانیندرا نے مرکزی حکومت سے ملاقات کے لئے وفد لے جانے کی جوبات کہی ہے ہم اس کا استقبال کرتے ہیں ، اسکے لئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور فوری طورپر امپورٹ کو روکنے کے لئے مرکزی حکومت پر دبائو ڈالنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ سپاری کی فصلوں کو کیڑا لگ رہاہے اور اس بیماری کے خاتمے کے لئے تحقیقی مرکز کے قیام کی ضرورت ہے اس سمت میں فوری طورپر حکومت اقدامات اٹھائے ۔احتجاج میں رائترا سنگھا کے ریاستی صدر ہیچ آر بسواراجپا، سیہادری اریکانٹ کوآپریٹیوسوسائٹی کے ہیچ ین وجئے دیو ، سوریا نارائن ، تی نا سرینیواس وغیر ہ موجود تھے ۔