غریبوں کا مسیحا مرحوم جبار خان ہونلی ایک انقلاب کا نام تھا 

اسٹیٹ نیوز
تعزیتی جلسہ میں شہر ہبلی کے دانشوران کے تاثرات 
ہبلی:۔7؍اکتوبر 2022 شہر ہبلی دھارواڑ کی صبح کا آغاز ایک بڑے ہی رنج وغم کی خبر سے شروع ہوا وہ یہ کہ 7؍اکتوبر 2022؁ء کی صبح 6-00 بجے شہر ہبلی کی ایک عظیم شخصیت ، غریبوں کے دلوں کی آواز ، ایک مخلص اور انقلابی شخصیت الحاج جبار خان ہونلی سابق صد رانجمن اسلام ہبلی اور سابق وزیر ریاست کرناٹک اس دارِ فانی سے کو چ کرگئے۔ شہر ہبلی کے دانشوران اور محبانِ جبار خان ہونلی نے ایک تعزیتی جلسہ کا اہتمام فرمایا جس میں شہرہبلی کے دانشوران ، سیاسی اور سماجی شخصیات اور معززین شہر نے شرکت فرمائی ۔ تعزیتی جلسہ کا انعقاد ہوٹل میٹرو پالس ہبلی میں ہوا جس کا آغازمولانا نیاز عالم کی تلاوت خداوندی سے شروع ہوا۔ افتتاحی خطاب فرماتے ہوئے سابق سکریٹری انجمن اسلام ہبلی عبدالوہاب ملانے فرمایا کہ مرحوم جبار خان ہونلی جو ’’جناب‘‘ کے نام سے مشہور تھے ایک سادہ اور بے باک شخصیت تھی ، جو ہر لمحہ ملت کی فلاح وبہبودی کیلئے اور قوم کی تعلیمی میدا ن میں ترقی کے لئے فکر مند رہاکرتی تھی۔ مرحوم کی پیدائش یکم مارچ 1942ء کوہرے کیرور ضلع ہاویری میں ہوئی اور بچپن سے ہی ایک غریب خاندان جس میں ان کی ماں بچوں کو قرآنِ مجید پڑھا کر گذارا کرتی تھی۔ ایسے ماحول میں اپنی تعلیم کو مکمل کرتے ہوئے ایک اسکول ٹیچر بنے ۔ ٹیچرکی ملازمت کرتے ہوئے LLB کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سیاسی میدان میں قدم رکھا ۔ بحیثیت صدر انجمن اسلام ہبلی گرانقدر خدمات انجام دئے ہیں۔ موجودہ انجمن کے بیشتر تعلیمی عمارات کی تعمیر انہیں کے دور میں ہوئی ہیں۔ مختلف تعلیمی کورسس کولانے میں مرحوم کا کلیدی رول رہاہے۔ شہر ہبلی میںفرقہ وارانہ ماحول کو سازگار بنانے میں اور برادران وطن کے ساتھ ہم آہنگی تعلقات کو قائم رکھنے میں اللہ تعالیٰ مرحوم کو ایک فن سے نواز تھا۔ خصوصاًملت کے حساس معاملات کو بڑی ہی حکمت عملی کے ساتھ حل فرماتے تھے۔ اپنے سیاسی میدا ن میں MLC، MLA   اور ریاست کرناٹک کے وزیر بن کر اپنی خدمات انجام دی ہیں۔ محترم مولانا حافظ عثمان غنی صاحب نے فرمایا کہ مرحوم کی پہلی ملاقات شہر مکہ معظمہ میں ہوئی تھی اور مرحوم نے مجھے مخاطب ہوکر فرمایا تھا کہ حافظ جی دعا کریں کہ ہماری بار بار ملاقات اسی شہر میں ہواکرے ،مرحوم کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن مجید کی آیات ، اور اشعار کی روشنی میں خراج عقیدت پیش فرماتے ہوئے دعا ء مغفرت فرمائی۔ انجمن اسلام ہبلی کے سابق صدر این۔ڈی۔ گدگکر نے فرمایا کہ میں اپنی تجارت میں مشغول تھا۔ مرحوم مجھے ایک دن مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تجارت اور اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر قوم وملت کیلئے کام کرناچاہئے ۔ چنانچہ ان کی بات مان کر میں انجمن میں آنے کا فیصلہ کیا اور بحیثیت صدر قوم کی خدمت کرنے کا استفادہ حاصل کیا۔ مرحوم کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ مرحوم بڑے ہی سادہ مزاج اور دور اندیش شخصیت کے مالک تھے۔ عبدالحسیب (رکن شوریٰ جماعت اسلامی ہند کرناٹک) تعزیتی خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ گذشتہ 55 ؍ سال سے میری اور مرحوم ہونلی صاحب کی رفاقت تھی اور ایمرجنسی 1977ء میں ،میں مرحوم کو سیاست میں داخلہ دلوانے میں میر ارول رہاہے جناب ہونلی صاحب باحکمت اور ایک مدبر سیاست دان تھے، کچھ موقعوں پر اختلافات بھی ہوجاتے تھے مگر اختلافات کے بعد ملی مسائل کے حل کرنے کیلئے مشورے طلب کرنا مرحوم کا طرہ امتیاز تھا۔ سابق وزیر حکومت کرناٹک ہنومتپّاالکوڈ صاحب نے فرمایا کہ ہونلی صاحب صرف مسلمانوں کے قائد نہیں تھے بلکہ بزبان کنڑاانہوںنے فرمایاکہ وہ غیر مسلموں اور انسانیت کے قائد تھے۔ غیر مسلم غربا کیلئے مکانات کی فراہمی اور کئی کولونیس بناکر غریبوں کی مددکی ہے ۔ سابق صدر انجمن اسلام ہبلی اور  Ex. MLC  اسمعیٰل کالے بڈھے صاحب نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اکثر MLA  اپنی ذات کے فائدے کے لئے ہوتے ہیں مگر مرحوم ہونلی صاحب ملت کے MLA   تھے۔ ملت کے مسائل کو یکسوئی کے ساتھ حل کرناان کی مہارت تھی اور ہر وقت ملت کی بقاء کیلئے اورتعلیم کے فروغ کیلئے فکر مند رہا کرتے تھے۔ اقلیتی کمیشن حکومت کرناٹک کے سابق چیرمن ڈاکٹر عبدالکریم نے فرمایا کہ جبار خان ہونلی صاحب ایک انقلاب کا نام تھا۔ مسکینوں اور غرباکے لئے مفت مکانات کی فراہمی اور فلاح وبہبودی کے سینکڑوں کام انجام دئے ہیں۔ شہر ہبلی مرحوم واحد شخص تھے جنہوںنے غربا کے لئے کئی کالونیس (Colonies)   کا قیام کیاہے۔ جناب محی الدین خان پٹھان صاحب مرحوم ہونلی صاحب کو غریبوں کا مسیحا قرارد یااور ان کی تعلیمی خدمات کو دہراتے ہوئے فرمایاکہ ہم انجمن اسلام ہبلی سے اپیل کرتے ہیں کہ موجودہ اولڈ ہبلی تعلیمی کامپلیکس کوجناب جبار خان ہونلی تعلیمی کامپلیکس کے نام سے موسوم کیاجائے۔ انجمن اسلام ہبلی ہوسپیٹل بورڈ کے سابق چیرمن اشرف علی بڑے ہی مغموم انداز میں خراج ِ عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ مرحوم ہونلی صاحب کم وبیش 4؍سال بسترپر تھے مگر ہروقت انہیں قوم کی فکر لاحق تھی۔ Dialysis مسلسل ہواکرتے تھے مگر اپنی طبیعت کو خاطرمیں نہ لاتے ہوئے بھی مجھے طلب کرتے اور انجمن کے مسائل اور ملت کی ترقی کے متعلق گفتگو فرماتے۔ انہوںنے ہونلی صاحب کے صدر کے دور میں ہونے والے بہت سارے واقعات کا ذکرکرتے ہوئے مرحوم کی حکمت ، دانشمندی، سادگی کا تذکرہ کیااور بحیثیت صدر انجمن اسلام ہبلی ایک کامیاب صدر قرار دیااور بڑے جذباتی اورمغموم ہوکر مرحوم کے حق میں دعافرمائی۔ تعزیتی جلسہ کی صدارت پیرطریقت تاج الدین قادری پیراں نے فرمائی انہوںنے اپنے والد کے زمانے سے مرحوم کے تعلقات کا ذکر فرمایا اور عملی طورپر مرحوم کے اقدامات اور ان کی خدمات کا تذکرہ کیا۔ مرحوم کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مرحوم ہونلی صاحب بیت المال اور انجمن کی رقم کے تعلق سے بڑے ایماندار تھے اور ایک ایک پیسہ کا حساب رکھتے تھے۔ ہیرے کیرورمیں مسجد کی تعمیرمیں مرحوم کے رول کا ذکر کیا وار فرمایا کہ غریبوں کی امداد کرنا مرحوم کے قلب کی تسکین کا سامان ہوا کرتاتھا۔ محترم پیراں مرحوم کی حق میںدعا ئے مغفرت فرمائی اور پورے سامعین نے آمین کہا اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کیلئے دعائیں کی گئی۔ تعزیتی اجلاس میں مرحوم کے فرزند زبیر احمد کے علاوہ شہر ہبلی کے معززین بڑی تعداد میں شریک رہے۔