شرمناک؛ انسپکٹر نے پلایاپیشاب :دلت نوجوان کاالزام

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

چکمگلورو:۔یہاں کے کروگوند دیہات میں گونی بیڑو تھانے کے افسرنے دلت نوجوان کو تشدد کا شکار کرتے ہوئے پیشاب پلانے کی بات سامنے آئی ہے۔یہ الزام خود متاثرہ نوجوان نے لگایاہے۔ کروگوندادیہات کی ایک خاتون اور اُس کے شوہر کے درمیان جھگڑا ہواتھا،اس معاملے میں گونی بیڑوتھانے پولیس سب انسپکٹر ارجن نے بغیر کسی شکایت کے اسی دیہات کے رہنے والے دلت سماج سے تعلق رکھنے والے پونیت(22) پر شک جتاتے ہوئے 10 مئی کو گونی بیڑو تھانے لے آئے تھے ، اس دوران پونیت پر دبائو ڈالاگیاتھاکہ وہ اس بات کو قبول کرلے کہ اُس کے ناجائز تعلقات اُس خاتون کےساتھ ہیں،لیکن پونیت نے اس بات کو قبول کرنے سے انکارکیاتو پولیس انسپکٹرنے پونیت کو اُلٹا لٹکاکر اس کی پٹائی کی اور اس کی ذات کو گالیاں دی،جب اس نے پانی مانگاتو پولیس تحویل میں موجود ایک دیگر ملزم کو کہہ کراُس کے منہ میں پیشاب کروایاگیا،اس تعلق سے پونیت نے ایس پی ،آئی جی اور ڈی آئی جی کو لکھے ہوئے خط میں شکایت کی ہے۔پونیت نے اپنے خط میں بتایاہے کہ اُسی دن رات دس بجے کو اُسے اُس کے گھر بھیج دیاگیاتھا،10 مئی کو کسی بھی طرح کی شکایت اس کے خلاف نہ ہونے کے باوجود پولیس سب انسپکٹرنے اسے112 پولیس ویان میں بلاکر اس کے ساتھ زبردستی کی ہے۔شکایت موصول ہوتے ہی چکمگلوروکے ایس پی نے پولیس سب انسپکٹر ارجن کا تبادلہ اپنے ہی دفتر میں کرلیاہےاور تحقیقات کے نام پر ایک ڈی وائی ایس پی کو تعینات کرنے کی بات کہی گئی ہے۔اس پرمقامی دلت تنظیموںنے ایس پی پر الزام لگایاہے کہ وہ پولیس سب انسپکٹر کو بچا رہے ہیں،خود ان پر ہی الزام لگنے کے باوجود انہیں خدمات سے برطرف کرنے کے بجائے اپنے دفتر میں خدمات انجام دینے کا موقع دیاہے۔ایس پی ،آئی جی،ڈی آئی جی اور ہیومن رائٹ کمیشن میں شکایت درج کروانے کے باوجود اب تک کسی بھی طرح کی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔متاثرہ نوجوان نے اس سلسلے میں اخباری نمائندوں کو بتایاہے کہ اگرایس پی متعلقہ افسرکے خلاف کارروائی نہیں کرتے ہیں تو شدید احتجاج کیاجائیگا۔سوال یہ ہے کہ جو افسران قانون کے دائرے میں رہ کر دلت،پسماندہ اور اقلیتوں کے تحفظ کے ذمہ دارہیں وہی قانون کے حقوق پامال کررہے ہیں۔