’’ ہندوستان کا موجودہ ابھرتا نظامِ تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کا مرہون منت  ‘‘۔پروفیسر یم۔ایس۔ مُلا

اسٹیٹ نیوز
ٹیپو شہید پالی ٹیکنک ہبلی میں ’’قومی یومِ تعلیم ‘‘پروگرام   کا انعقاد
’دُنیا میں کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی تشکیل میں تاریخ کا ہاتھ ہوتا ہے اور کچھ ایسی جو   اپنے ہاتھوں سے تاریخ کی تشکیل کرتی ہیں۔ مولانا آزاد کا شمار بھی ایسی ہستیوں میںہے جو تاریخ گر اور تاریخ ساز کہی جاسکتی ہے۔ ہمارا موجودہ اُبھرتا ہوا نظام تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کا مرہون منت ہے جسکی بنیاد مولانا آزاد نے 1947؁ء میں رکھی تھی اور مولانا آزاد کی تعلیمی خدمات کی اعتراف میں 11؍نومبر جوکہ مولانا آزاد کی پیدائشی تاریخ ہے۔ جسے یومِ قومی تعلیم سے منسوب کیاگیاہے۔  مزید کہا کہ مولانا آزاد ایک مفکرِ ، مدبّر ،مفسر ،مصنف، بلند پایہ خطیب ، مجاہد آزادی، بیباک وبے خوف صحافی اور سیاستدان کے ساتھ ساتھ ماہر تعلیم بھی تھے۔ مولانا آزاد نے لارڈ میکالے کی بنائی ہوئی تعلیمی پالیسی کے برخلاف جو تعلیم برائے ملازمت پرزور دیتی تھی کہا کہ نظام تعلیم کا دائرہ اسقدر مضبوط ہونا چاہیئے کہ جو طلباء کی ہمہ جہتی تربیت کرسکے۔ اور جو نظامِ تعلیم انسانی قدروں وانسانی احساسات کو نظر انداز کرتا ہو اور صرف سائنس اور ٹیکنالوجی پر اپنا انحصار کرے، ایسا نظام تعلیم انسانی سماج پر مُضر اثرات چھوڑیگا ‘‘۔ ان خیالات کا اظہار  ریسورس  پرسن پروفیسر ایم۔ایس۔ مُلاّ، و ظیفہ یاب پرنسپل ٹیپو شہید پالی ٹیکنیک ہبلی نے یہاں منعقدہ یومِ تعلیم پروگرام میں طلباء واساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا اور بتایا کہ بیسویں صدی کے آغاز میں اس بات کا رجحان بڑھنے لگا کہ کسی اہم موضوع کی اہمیت افادیت کو اجاگر کرنے کے لیے کسی مخصوص دن کو مختص کرنا اور پھر اس دن کو کسی اہم شخصیت سے منسوب کرنا، جس کی خدمات اُس میدان میں نمایاں رہی ہوں اور اس طرح ان ایام کو قومی وبین الاقوامی سطح پر منانے کی روایات چل پڑی۔ چنانچہ قومی یومِ تعلیم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور اس کو منعقد کرنے کا مقصد یہی ہے کہ مُلک میں تعلیم کی روشنی پھیلے اور عوام کو تعلیم کی اہمیت سے روشناس کیاجائے اور بتایا 11؍ستمبر  2008ء کو مرکزی حکومت نے یہ ریزرویشن پاس کیاجس میں بطور تمہید لکھا گیا کہ سماج کے مختلف طبقوں سے بار ہا اور مستقل یہ مطالبہ کیاجارہا ہے کہ 11؍نومبر جو کہ مجاہد آزادی، ماہر تعلیم اور ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کی یومِ پیدائش ہے اسے شایانِ شان انداز میں منایاجائے اور اس مطالبہ کو مُلک کی کئی ایک ریاستی حکومتوں نے تائید کی ہے۔ چنانچہ مرکزی حکومت نے یہ فیصلہ کیاہے کہ 11نومبرکو پورے مُلک میں مولانا آزاد کی یاد میں ’’قومی یومِ تعلیم ‘‘ کے طور پر منایاجائے۔ لہٰذ ا  منسٹری آف ھومن ریسورس ڈولپمینٹ نے یہ طے کیا کہ مُلک کے عظیم سپوت کی یاد میں بطور خراج عقیدت 11نومبرکو تعلیم کے موضوع پر سمینار ، سمپوزیم کا انعقاد کیاجائے اور عوام کو تعلیم کی اہمیت سے واقف کرایاجائے اور تعلیمی اداروں جو ہر سطح کے ہوں ان احکامات کو عمل میں لائیں ۔مزید کہا کہ آج ہندوستان کا ہمارا جدید نظام تعلیم مولانا آزاد کی کوششوں کا ثمرہ ہے۔ لیکن یہ ہمارا المیہ ہے کہ مولانا آزاد کو اس طرح یاد نہیں کیاجاتا جو کہ حقیقتاًدرکار ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی اداروں سے منسلک ہر فرد مولانا آزاد کی تعلیمی خدمات کو طلباء برادری کو واقف کرائے ۔ اور بتایا کہ  ادارہ ٹیپوشہید پالی ٹیکنک ہبلی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہر سال یہاں قومی یومِ تعلیم کو بڑے پیمانے پر منایاجاتاہے تاکہ مولانا آزاد کی شخصیت اور انکی تعلیمی خدمات کو صحیح معنوں میں خراج عقیدت پیش کی جاسکے۔ اس موقع پر مہمان خصوصی  ڈاکٹر کرن کمار، پرنسپال ،نیو انیگلیش   اسکول  ھبلی نے بتایاکہ مولانا آزاد بحیثیت وزیر تعلیم اُس وقت اور مستقبل کی تعلیمی ضروریات اور ہائر ایجوکیشن میں پائی جانے والی خامیوں اور ان کا سدباب اور معیاری تعلیم کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کئی ایک کمیشن قائم کئے جیسے کھیر کمیشن، یونیورسٹی ایجوکیشن کمیشن، یونیورسٹی ایجوکیشن گرانٹس کمیشن، سکینڈری ایجوکیشن کمیشن، انڈین کونسل فارمیڈیکل ریسرچ سینٹر ، جیسے اداروں کو قائم کیا۔ مو لانا  آزاد نے انڈین اینسٹیوٹ آف سا  یٰنس بینگلور،  اینڈین کونسل  فار اگریکلچر  ریسرچ سینٹراور دہلی یو نور سٹی کو مستحکم کرنے میں اہم رول ادا کیا۔مولانا آزاد کا بڑا کارنامہ یہ بھی ہے کہ 1951 ء میں آل انڈیا کونسل فار ٹیکنکل ایجوکیشن کو قائم کیا۔ آج مُلک بھر میں جو انجنیرنگ اور ٹیکنکل کالجوں کا جال پھیلا ہوا نظرآتاہے وہ اسی کونسل کی دین ہے جو مولانا آزاد کی کوششوں اور ان کی دور اندیشی کا نتیجہ ہے۔ اور اسی کونسل کی کوششوں سے ملک کا سب سے پہلا آئی ۔آئی ۔ٹی مرکز 1951ء میں کھرگپور کا سنگ بنیاد مولانا آزاد نے خود اپنے ہاتھوں سے رکھا تھا۔آخر میں کہا کہ  ہماری قومی تعلیمی پالیسی 1986؁ء جو بعد میں 1992؁ء اور 2016؁ء میں نظر ثانی کی گئی۔ دراصل اسکا نظریہ مولاناآزاد نے 1947؁ء میں پیش کیاتھا۔ مولانا کا موقف رہا کہ تعلیم بچے کا پیدائشی حق ہے اور طلباء قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ اور حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ بچوں کی بنیادی تعلیم وتربیت کا اہتمام کرے۔ بقول مولانا آزاد ؔ مُلک کا خزانہ سرکاری بینکوں میں نہیں بلکہ پرائمری اسکولوں میں پایاجاتاہے۔  اپنے صدارتی  خطاب  میں  رویندر سنگھ  عطار،پرنسپل ٹیپو شہید پالی ٹیکنیک ہبلی نے کہا کہ مولانا آزاد نے اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں انتہائی بلند مقام پالیا تھا جس کا احاطہ مشکل ہے۔ مولانا آزاد تاعمر ہندو مسلم اتحاد کے علم بردار رہے۔ 1923ء میں کانگریس اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مولانا آزاد نے کہا کہ آسمان سے فرشتے اتر آئیں اور قطب مینار کی بلندی سے یہ اعلان کریں کہ ہندومسلم اتحاد کا خاتمہ کیاجائے اور سوراج 24گھنٹوں میں میں دیاجائے گا میں اس سوراج کو قبول نہیں کروں گا لیکن میرے ہندو مسلم اتحاد کے موقف سے ایک انچ بھر بھی انحراف نہیں کروں گا ،سوراج کا نہ ملنا صرف ہندوستان کو متاثر کرسکتاہے جب کے ہندو مسلم اتحاد کا خاتمہ، انسانی دنیا وانسانیت کے خاتمہ کی طرف پیش قدمی ہے۔  مذید کہا کہ جب ہندوستان کے پہلے پنچ سالہ منصوبہ کا مسودہ تیار کیاگیا تو اسمیں معاشی وصنعتی پالیسوں پہ خصوصی توجہ دی گئی تھی اور تعلیمی پالیسی کو یکسر نظرانداز کیاگیاتھا۔ یہ مولانا آزاد کی شخصیت رہی جو ایوان میں یہ بات رکھی کہ صنعتی ومعاشی پالیسیوں سے زیادہ اہم تعلیمی پالیسی کی ضرورت ہے ۔ ملک کی ترقی وخوشحالی کے لیے اچھے افرادکی ضرورت ہوگی جو کہ معیاری تعلیمی درسگاہ ہوں سے ہی دستیاب ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ مولانا آزاد کی اس دلیل تو مان لیاگیا اور تعلیم کا مرکزی بجٹ دو کروڑ سے پندرہ گنا بڑھا کر تیس کروڑ کردیاگیا۔ آخر میں کہا کہ مولانا آزاد کی تعلیمی خدمات کا ذکرہر سطح کے تعلیمی اداروں میںکیاجانا چاہیئے اور بتایا کہ مولانا آزاد کی شخصیت کے بارے میں ہندوستان کے پہلے صدر جمہوریہ نے کہا تھا ہندوستان کا سب سے بڑا کتب خانہ مولانا آزاد کا ذہن وفکر ہے۔اس پروگرام میں دیگر ہاٰی اسکولس کے میر مدرس شرینواس والی،حاجرہ ترنم،گنگادھر بانی،آر۔ین۔گٹنور،ا لتیش۔ جی نے شرکت کی۔شعبہ جات کے دیگر صدور، چندرشیکھر توپد، یم۔ایچ۔ دھارواڑ، مسعود  جونیدی ، بالیش ہگینور،  ایم ایس سو منکٹی اور دیگر اسٹاف اور طلبا شر یک رہے۔ پروگرام کا آ غاز تلاوت قران مجید سے کیا گیا جسے سراج احمد  ہاویری نے مع کنڑا ترجمہ ادا کیا۔ کرن کمار منٹور نے پروگرام کی نظامت کی۔ تجمل حسین میسور ، نے استقبالیہ کلمات کہے۔