مسلمانوں کے ریزرویشن کو منسوخ کرناآئینی طور پر ناممکن ہے : سابق جسٹس ناگ موہن داس

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

شیموگہ : مسلمانوں کے ریزرویشن کو منسوخ کرنا ناممکن ہے اسکے لئے کئی آئینی رکاوٹیں ہیں اس بات کااظہار کرناٹکا ہائی کورٹ کے سابق جسٹس ناگ موہن داس نے کیاہے ، انہوںنے آج شہر میں منعقدہ سمپوزیم بعنوان ” دستور اور سماجی انصاف ” میں بطور مہمان خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے ریزرویشن کو ختم کرنے کی بات حکومت کی جانب سے نہیں ہورہی ہے نہ ہی حکومت یہ کام کرسکتی ہے لیکن مطالبہ کرنے والے لوگ سماج دشمن طاقتیں ہیں جو اپنے مفادات کے لئے اس طرح کے ایجنڈوں کو بحث کے لئے لاتے ہیں ۔ مزید انہوںنے کہا کہ یس سی یس ٹی ریزرویشن کے جائزے کے لئے مجھے ذمہ داری دی گئی تھی جس کی وجہ سے میں نے صرف وہی کام کیاہے ، اگر حکومت مجھے دوسرے ذات و طبقات کے لئے موقع فراہم کرتی تو میں اس کام کو بھی انجام دے سکتاتھا۔ جسٹس ناگ موہن داس نے مزید کہا کہ ریزرویشن سب کے لئے ہے ، اس سے اچھی پیش رفت بھی ہوئی ہے ، جن طبقات کو سماجی انصاف نہیں ملاتھا انہیں ریزرویشن کے ذریعے سے کچھ حد تک انصاف ملاہے لیکن اسے پوری طر ح سے انصاف ملنا باقی ہے ، جو لوگ مشکلات سے گزر رہے ہیں انہیں ریزرویشن دینا ہی سوشیل جسٹس ہے ، اس وقت بھی مختلف طبقات ، ذات اور مذاہب کے لوگ مشکلات سے گزررہے ہیں انہیں سماجی انصاف دینے کے لئے ریزرویشن دینا ہوگا۔ رنگ ، مذہب ، ذات اور جنس کی بنیاد پر تعصب اب بھی اس دنیا میں موجود ہے ۔ اس سے سیاسی ، معاشی اور سماجی و ثقافتی شعبوںپر اثر پڑرہاہے ۔ بھوک ، غربت اور استحصال سے متاثر لوگ ہیں انکے حق کے لئے آواز اٹھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ انہیں سماجی انصاف مل سکے ۔ ملک میں 4635 ذاتیں ہیں ، ہر ذات کا ایک پیشہ ہے ، لیکن پیشہ بدلنے ، ذات بدلنے سے روکنے کا رحجان بڑھ رہاہے ۔ عدم مساوات کو دور کرنے کیلئے اس زمین پر گاندھی ، بدھا اور پھولے جیسے لوگوں نے جد وجہد کی تھی جس کا اثر آج بھی اس زمین پر باقی ہے ۔ سماجی انصاف کو کمزور ہونے نہیں دینا چاہئے ۔ مزید انہوں نے کہاکہ ریزرویشن کامقصد اُسی وقت پوراہوگا جب ریزرویشن پانے والے ذاتوں کو روزگار سے جوڑا جا ئیگا ۔ اس وقت ریزرویشن کیلئے44 ذاتیں جدوجہد کررہی ہیں،ایس سی ایس ٹی ریزرویشن کوبڑھانے کیلئے حکومت نے منظوری دی ہے، لیکن اسے جاری کرنا مشکل ہے، کیونکہ تمام محکمے اور سرکاری کمپنیاں نجی کاری کا شکارہورہی ہیں اور کم وبیش ہر محکمے میں ٹھیکے پر کام کرنےو الے ملازمین کی تعداد زیادہ ہے۔ ریاست میں5.2 لاکھ عہدوں کو پُر کرنا باقی ہے،جب تک ان عہدوں کو پُر نہیں کیاجاتااُس وقت تک ریزرویشن کامقصد پورا نہیں ہوگا،جو لوگ ریزرویشن میں اضافہ ہونے سے خوش ہیں وہ غلط فہمی کا شکارہورہے ہیں،اصل خوشی اُسی وقت مل سکتی ہے جب اُنہیں روزگار سے جوڑا جائیگا۔ اس موقع پر کتاب کا رسم اجراء کرنے والے بسوا کیندرا کے بسوامرلوسدھرونے بات کرتے ہوئے کہا کہ دستور کا مقصد ہی مساوات کو برقرار رکھنا، حقوق دینا اور فرائض کی یاددہانی کرانا ہے اسی طرح سے بسویشورا کی باتیں بھی سماجی انصاف کو یاددلاتی ہیں ۔ ناانصافی ، تشدد کی مخالفت کرتی ہیں اسے سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر سیلوامنی ، سدھن گوڈا پاٹل موجود تھے ۔پروگرام کی صدارت ڈاکٹر دھننجئے سرجی نے انجام دی جبکہ نظامت اڈوکیٹ شاہراز مجاہد صدیقی نے نبھائی ۔ تمہیدی کلمات اڈوکیٹ شری پال کے ذمہ رہی ۔