احمد آ باد؛۔گجرات اسمبلی انتخابات 2022 کے لئے انتخابی مہم دلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔ کانگریس، اے آئی ایم آئی ایم اور عام آدمی پارٹی پر الزام لگاتی رہی ہے کہ یہ دونوں پارٹی بی جے پی کی ’بی‘ ٹیم ہیں اور گجرات میں بی جے پی کی مدد کرنے کے لئے میدان میں اتریں ہیں۔ جیسے جیسے ووٹ ڈالنے کی تاریخیں قریب آ رہی ہیں ویسے ویسے ریاست میں انتخابی گرمی بھی اپنے شباب پر پہنچ رہی ہے۔ایسے میں ایک دلچسپ تبدیلی سامنے آئی ہے۔وہ تبدیلی احمد آباد شہر کی باپو نگر اسمبلی سیٹ میں سامنے آئی ہے۔ اس اسمبلی سیٹ پر اسدالدین اویسی کی پارٹی نے جس امیدوار کو میدان میں اتارا تھا وہ کانگریس میں شامل ہو گیا ہے۔ اب اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی اس کو لے کر ناراض ہیں۔واضح رہے کہ باپو نگر اسمبلی سیٹ سے اے آئی ایم آئی ایم کے امیدوار شاہنواز خان نے اپنے حامیوں کے ساتھ کانگریس سے ہاتھ ملایا ہے۔ ریاستی کانگریس صدر جگ دیش ٹھاکر نے ہفتہ کو گجرات ریاستی کانگریس ہیڈکوارٹر میں ان کو کانگریس میں شامل کیا۔اویسی نے شاہنواز خان کے کانگریس میں شامل ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایک چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شاہنواز خان کے لیے ریلی بھی کی تھی۔ واضح رہے اسدالدین اویسی خود گجرات میں 17 ریلیاں کریں گے۔ اے آئی ایم آئی ایم نے احمد آباد میں پانچ امیدوار کھڑے کیے ہیں۔شاہنواز کے کانگریس میں شامل ہونے سے اویسی کی پارٹی کو زبردست دھچکا لگا ہے اور اس کا اثر گجرات کی کئی سیٹوں پر واضح نظر آئے گا۔ کانگریس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسے بطور مجلس امیدوار کھڑا ہونے کا مطلب بی جے پی مخالف ووٹوں کی تقسیم ہے ،جس کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔
