حکومت کانیا فرمان ، محض نویں اور دسویں جماعت کو ملے گی اسکالر شپ، باقی ہونگے محروم
شیموگہ : سب کا ساتھ سب کا وکاس کی بات کرنے والی مودی حکومت نے اب سیدھے مسلمانوں کے تعلیمی نظام پر نشانہ لگاتے ہوئے اقلیتوں کو جاری کی جانے والی اسکالر شپ پر قینچی چلادی ہے جس کی وجہ سے کرناٹک کے 8 لاکھ سے زیادہ طلباء متاثر ہونے جارہے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق مرکزی حکومت نے پہلی تا دسویں جماعت میں زیر تعلیم طلباء کو ین یس پی کے تحت جاری کی جانے والی اسکالر شپ میں ترمیم کرتے ہوئے صرف نویں اور دسویں جماعت کے طلباء کو ہی اسکالر شپ دینے کا فیصلہ لیا ہے ۔ پری-میٹرک اسکالرشپ، جو کہ ابھی تک میٹرک سے نیچے کے طالب علم کو ملتا تھا، اسے نویں اور دسویں درجہ تک محدود کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ جانکاری مرکزی حکومت کے ذریعہ جاری ایک نوٹس میں دی گئی ہے جس کے بعد مسلم تنظیمیں فکرمندی کا اظہار کر رہی ہیں۔ اس نوٹس کے بعد خصوصاً ایسی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے جو مسلمانوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہی ہیں، یا پھر اسکول ڈراپ آؤٹ کی شرح کم کرنے میں کوشاں ہیں۔دراصل مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور نے جاری نوٹس میں کہا ہے کہ درجہ اول سے آٹھویں تک تعلیم کو ’ایجوکیشن ایکٹ 2009‘ کے ذریعہ لازمی قرار دیا گیا ہے اور ہر بچہ کو ان درجات میں حکومت مفت تعلیم فراہم کرے گی۔ اس لیے اب ان درجات کے بچوں کو پری میٹرک اسکالرشپ نہیں دی جائے گی۔ اس نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرکزی وزیر برائے سماجی انصاف و تفویض اختیارات اور قبائلی امور کی وزارت نے مذکورہ درجات کے بچوں کو اسکالرشپ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت برائے اقلیتی امور نے بھی پری میٹرک اسکالرشپ صرف نویں اور دسویں درجہ تک محدود رکھے گی۔قابل ذکر ہے کہ پری میٹرک اسکالرشپ پہلی تا چھٹویں جماعت تک کے بچوں کو دیا جاتا تھا۔ اس کے تحت 500 روپے سالانہ داخلہ فیس اور 350 روپے ٹیوشن فیس کی شکل میں دی جاتی تھی۔ اسکے علاوہ چھٹی جماعت سے دسویں جماعت کے بچوں کو 600 روپے ماہانہ دیا جا رہا تھا۔ یہ اسکیم یو پی اے حکومت میں 08-2007 میں مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کے پیش نظر ان میں تعلیم کے فروغ کے لیے شروع کی گئی تھی جس سے دیگر اقلیتیں بھی مستفید ہو رہی تھیں۔
