کوککر بیچنا پڑا مہنگا،تحقیقات کیلئے دونوجوانوں کو پولیس نے لیا تھا تحویل میں،گھروالے پریشان،سوشیل میڈیامیں گمشدگی کابیان

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔منگلورومیں ہونے والے کوککر دھماکے نے اب عام لوگوں کو پریشان کررکھاہے۔شیموگہ میں ایک ایسا معاملہ پیش آیاہے جو گھریلو سامان بیچنے والےدو نوجوانوں کیلئے آفت کا پیغام لیکر آیاتھا۔کئی سالوں سے کوککر اور گھریلو سامان دیہاتوں میں جاکر فروخت کرنےو الے شہرکے دو نوجوان اچانک لاپتہ ہوگئے تھے،اس تعلق سے گھر والے پریشان ہوکر ان کی تلاش میں نکلے،لیکن یہ نوجوان شیموگہ کے کوٹے پولیس تھانے میں پائے گئے۔دراصل نیومنڈلی کے ساکن عمران پاشاہ اور شاہدپچھلے طویل عرصے سے کوککر اور گھریلو سامان دیہاتوں میں فروخت کرنے کا کام کررہے ہیں۔کل دوپہر کوبھی یہ لوگ اپنی ویان میں گھریلو سامان لیکر تجارت کیلئے نکلے تھے،اس کے بعد قریب 30.12 بجے دونوں کا موبائل فون سویچ آف ہوگیاتھا ۔موبائل فون کے سویچ آف ہوتے ہی دونوں کے گھروالے پریشان ہوگئے اور ان کی تلاش میں نکل پڑے۔اس تعلق سے دوڈاپیٹے پولیس تھانے میں شکایت دی گئی تھی۔لیکن دونوں کو کوٹے پولیس نے اپنی تحویل میں لے رکھا تھا۔بتایاجارہاہے کہ پولیس کوگمان تھاکہ ممنوعہ تنظیم پی ایف آئی سے شاہد کاتعلق ہے،اس لئے وہ لوگ شاہد اور عمران کو اپنی تحویل میں لیاتھا،ساتھ ہی ان کے پاس کوککر بھی ملنے کی وجہ سے ان پر شک زیادہ ظاہرہونے لگا۔سوشیل میڈیامیں ان کی گمشدگی کی خبریں تیزہونےکے بعد ان دونوں کو کوٹے پولیس تھانے میں ہونے کی بات ظاہر ہوئی ۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر کوککررکھنےوالاشخص دہشت گردہے،اگر کوککر دہشت گردی کا سامان ہے تو اس پر پابندی کیوں نہیں لگائی جارہی۔پولیس جس طرح سے کارروائی کررہی ہے اُس سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کوککرلینے کیلئے آدھارکارڈ کو لازم قراردیاجائیگا اور جن کے گھرمیں پریشر کوککرہے اُنہیں پولیس کو اطلاع دینی ہوگی۔پولیس کی اس حرکت پر اعلیٰ افسران انہیں شاباشی دینگے یا پھر ان کی بے وقوفی پر دھتکاریں گے یہ دیکھنا ہوگا۔