شولاپور : کرناٹکا میں ضم ہونا چاہتے ہیں 11 دیہات

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

شولاپور:۔ شولاپور ضلع میں اکل کوٹ تعلقہ کے کم از کم 11 دیہاتوں نے ریاست کرناٹکا میں اپنے آپ کو ضم کو کرنے کی تجویز پاس کی ہے ۔کرناٹکا میں انضمام کے خواہشمند گاوں والوں کا کہنا ہے کہ مہاراشٹرا حکومت ان کے لئے سڑکیں ، پینے کا پانی ، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہے ۔ ان کے دیہاتوں میں کوئی ترقی نہیں ہو رہی ہے اور انہیں پوری طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ جبکہ کرناٹکا کی حکومت نے اپنے سرحدی علاقوں میں موجود دیہاتوں میں بہت زیادہ ترقی کی ہے ۔ان لوگوں نے اپنے اپنے دیہاتوں میں گرام پنچایت میٹنگیں منعقد کرکے اپنے دیہاتوں کو کرناٹکا میں ضم کرنے کی تجویز منظور کی ۔ اکل کوٹ تعلقہ کے الگے اور دیگر دس گاوں کے افراد نے شولاپور ڈسٹرکٹ کلیکٹر ایک میمورنڈم کو پیش کیا ۔ اسی دوران مہاراشٹرا پولیس نے ان دیہاتوں میں رہنے والے کنڑیگاس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے پولیس سے پیشگی اجازت حاصل کیے بغیر احتجاجی مظاہرے اور نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے گاوں کرناٹکا میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ کنڑیگاس کے سینئرلیڈر اشوک چنداگری نے بتایا کہ کرناٹکا کی سرحد کے قریب مہاراشٹرا میں بسنے والے کنڑیگاس اپنے مسائل کے تعلق سے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں ۔ مہاراشٹرا کی سرحد والے اس علاقے میں تقریباً 60 دیہات ایسے ہیں جو کرناٹکا میں ضم ہونا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بومئی سے ملاقات کا انتظام کرنے کی مانگ رکھتے ہوئے جلد ہی وہ لوگ بیلگاوی ڈی سی ، ایس پی اور سٹی پولیس کمشنر کو میمورنڈم سونپنے والے ہیں ۔