دہلی :میانمار میں طویل عرصے سے جبر کا سامنا کرنے والے روہنگیا مسلمانوں سے متعلق ایک رونگٹے کھڑے کردینے والی خبر منظرعام پر آئی ہے۔ تقریباً 200 روہنگیا مسلمان ایک ماہ تک انڈمان سمندر میں بھٹکنے کے بعد سوموار کو انڈونیشیا پہنچے ہیں۔ اس سفر کے دوران کمزوری اور پانی کی کمی کی وجہ سے 26 افراد ہلاک ہوئے۔ اس سفر میں جو مسافر بچ کر انڈونیشیا پہنچ گئے ہیں، وہ اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ وہ بمشکل چل پا رہے ہیں۔روہنگیا مہاجرین انڈونیشیا پہنچنے کے بعد مقامی مسجد میں رات گزار رہے ہیں۔ ایک زندہ بچ جانے والے مسافر رسیت نے بتایا کہ سفر کے دوران تقریباً 26 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جسے سمندر میں ہی پھینک دیا گیا۔ہر سال مونسون کے اختتام کے ساتھ ہی ہزاروں روہنگیا مسلمان میانمار اور بنگلہ دیش میں غیر قانونی پناہ گزین کیمپوں سے بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ انسانی اسمگلروں کے ذریعے ملائیشیا اور انڈونیشیا جانا پسند کرتے ہیں۔ لیکن اکثر یہ لوگ اقوام متحدہ کے اعلان کردہ انسانی پنگ پانگ میں پھنس جاتے ہیں۔ جہاں سے انہیں واپس بھیج دیا جاتا ہے۔انڈونیشیا کے آچے کے ساحل پر پہنچنے والے پناہ گزینوں کے ایک گروپ نے بتایا کہ ملائیشیا کی جانب سے جہاز کو اترنے کی اجازت دینے سے انکار کے بعد انہوں نے کئی ہفتے ساحل پر گزارے۔ مقامی حکام کے مطابق اس کشتی میں تقریباً 174 افراد سوار تھے۔ بنگلہ دیش سے آنے میں 40 دن لگے اپنے خاندان کے بغیر سفر کرنے والے 14 سالہ عمر فاروق نے بتایا کہ بنگلہ دیش چھوڑنے کے 10 دن بعد ہمارا راشن ختم ہوگیا۔ اسی دوران کشتی کا انجن سات دن بعد خراب ہوگیا۔ جب ہم ملائیشیا پہنچے تو انہوں نے ہمیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔فاروق نے بتایا کہ جب وہ بنگلہ دیش سے نکلے تو ان کے پاس صرف سات دن پینے کا پانی اور 10 دن تک کھانا تھا۔ لیکن ہمیں یہاں تک پہنچنے میں کل 40 دن لگے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق گزشتہ دو ماہ میں انڈونیشیا پہنچنے والی یہ چوتھی کشتی ہے۔ ساتھ ہی UNHCR نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بحر ہند میں ایک کشتی ڈوبنے سے تقریباً 180 پناہ گزینوں کی موت ہو گئی ہے۔روہنگیا کی حالت 2017 سے قابل رحم ہے۔ 2017 میں میانمار میں وحشیانہ فوجی کریک ڈاؤن کے بعد سے روہنگیا پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ تقریباً دس لاکھ روہنگیا میانمار اور بنگلہ دیش کی سرحدوں کے قریب کیمپوں میں رہتے ہیں۔کیمپوں میں ملازمتوں کی کمی اور تعلیم کے چند مواقع کی وجہ سے ہزاروں لوگ اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر سمندری راستوں سے انڈونیشیا چلے جاتے ہیں۔ کیمپوں سے بھاگنے کی ایک وجہ میانمار کی حکومت کے زیر انتظام کیمپوں میں واپس نہ آنا ہے۔انڈونیشیا پہنچنے والے ایک روہنگیا نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں ہماری زندگی مشکل تھی۔ ہمارے گھر سے باہر نکلنے پر بھی پابندی تھی۔ بچوں کو اسکول جانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔
