بی جے پی کے ساتھ کے جے پی نہ ہوتی تو سدرامیا سی ایم نہ بنتے:ایشورپا

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔بی جے پی میں تکرار ہوکر اگر کے جے پی وجودمیں نہ آتی تو سدرامیا کو وزیر اعلیٰ بننے کا موقع نہ ملتا،اس لئے سدرامیا کو چاہیے کہ وہ یڈی یورپاکی فوٹو گھرمیں رکھ کر ان کی پوجا کریں۔اس بات کااظہار رکن اسمبلی کے ایش ایشورپانے کیاہے۔انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی کے پھوٹنے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا،اس وقت بی جے پی کے تمام لیڈران متحد ہیں،ریاست میں بی جے پی کواکثریت ضرور ملے گی۔اگلاوزیر اعلیٰ کون بنے گا یہ کسی سوامی کے کہنے سے طئے نہیں ہوتا بلکہ عوام کے طئے کرنے سے سی ایم بنایاجاتاہے۔عوام بی جے پی کے حق میں ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اگلے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی ہی حکومت بنے گی۔امیت شاہ کے دورے کے دوران ڈی کے شیوکمار نے تنقیدکی ہے ،امیت شاہ یہاں حکومت کرنے نہیں آئے تھے،ایک دفعہ اگر راہل گاندھی بھارت جوڑوکیلئےآئے تھے تو کیا اس سے بھارت جڑ گیاہے۔بھارت جوڑوکے بہانے راہل گاندھی بھارت کی سیرکررہے ہیں اور اُنہیں بھارت دیکھنے کا موقع ملاہے،اس کیلئے میں خوش ہوں۔امیت شاہ دہلی میں رہ کرہی ہر چیز پر غورکررہے ہیں،دہشت گردانہ سرگرمیوں کو قابومیں لانے میں کامیاب ہوئے ہیں،یہی سدرامیا اپنے دورِ اقتدارمیں کیوں نہیں دہشت گردوں پر قابونہیں پائے تھے،اُس وقت ڈی کے شیوکمار خاموش کیوں تھے؟۔ہم امن قائم کرنے کیلئے کام کررہے ہیں جبکہ کانگریس بدامنی پھیلانے کیلئے دہشت گردوں کا ساتھ دے رہی ہے۔اگلے اسمبلی انتخابات میں لوگ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ کانگریس کو بھگا دینگے۔