فلسطین کی موجودہ صورت حال

مضامین
اس وقت ہر کوئی فلسطین پر لکھ رہا ہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ کچھ لوگ بے سر پیر کی باتیں لکھ رہے ہیں۔ ذیل میں اختصار کے ساتھ کچھ ضروری باتیں لکھی جارہی ہیں تاکہ صحیح صورت حال سامنے آسکے۔یہ بات واضح رہے کہ فلسطین کی واقعی صورت حال ہم اردو اخبارات یا واٹس اپ مسیج کی مدد سے  نہیں کر سکتے ۔ اس کے لیے ہمیں بہت سارے حقائق کو مدنظر رکھناہوگا۔فلسطین کے مسلمانوں کی مدد سب سے زیادہ سعودی اور ترکی ہی کررہے ہیں(سعودی کروڑوں ڈالرز سالانہ دے کر اور ترکی سال بھر رفاہی خدمات انجام دیکر) ۔اس کے بعد قطر ،کویت اور ملیشیا وغیرہ کا نمبر آتا ہے ۔البتہ فلسطین کے مسلمانوں کی مدد میں کچھ تحفظات اور مجبوریاں بھی ہیں۔فلسطین چاروں طرف سے یہودی سلطنت اسرائیل سے گھرا ہوا ہے،سوائے مغرب میں سمندر کے،اور اس سمندر پر بھی اسرائیلی کوسٹ گارڈز تعینات ہیں۔ اگر سعودی یا ترکی اعلانیہ اسرائیل پر حملہ کردیں تو چند گھنٹوں میں فلسطین کو اسرائیل تباہ کردیگا۔ اور باہر سے کوئی مدد نہیں کر پائیگا۔ اسرائیل کے پاس دہائیوں سے ایٹم بم موجود ہے جب کہ سعودی اور ترکی کے پاس ایٹم ابھی تک نہیں ہے۔ سعودی کی فوجی قوت بہت کم زور ہے، گذشتہ کچھ ہی سالوں سے سعودی نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا ہے ۔ سعودی کو اگر اسرائیل پر حملہ کرنا ہے تو اس کو اچھی اور ٹرینڈ فوج چاہیے اور جدید اسلحے چاہیے جو اس کے پاس نہیں ہے ۔
ابھی مدد کرنے والے ممالک فلسطین کے مسلمانوں کو کھانا کپڑا اور دوائیں بھیج کر مدد کرتے ہیں۔ مدد کا سامان لیکر جو گاڑی یا فلائٹ جاتی ہے وہ بھی اسرائیل کے حدود میں داخل ہوکر اور اس کی اجازت سے ہی جاتی ہے۔ فلسطین کے مسلمانوں کی مدد جاری رکھنے کے لیے یعنی ان کو زندہ رکھنے کیلئے ترکی مجبور ہے کہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم رکھے ۔ واضح رہے کہ ترکی کے سفارتی تعلقات اردگان یا ان کی پارٹی کے برسراقتدار آنے سے پہلے سے قائم ہیں۔ اردگان اس کو اس لیے باقی رکھے ہوئے ہیں تاکہ امداد کا سلسلہ قائم رکھا جاسکے۔ اور سعودی کا اسرائیل سے باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن سختی نہیں ہے ، ڈپلومیٹک تعلقات  اور نرم رویہ اسی لیے ہے تاکہ سعودی امدادی سامان بھیج سکے اور مدد جاری رکھ سکے۔
فلسطین میں 80 فیصد لوگوں کے پاس دوکان یا بزنس نہیں ہے اور وہ سعودی، ترکی ، قطر، کویت اور ملیشیا کے بھیجے ہوئے سامانوں پر گزارا کرتے ہیں۔ یہ مسلسل جنگ کی حالت میں ہیں بلکہ ایک طرح سے میدان جنگ میں ہیں۔
  وہ لوگ جو  ڈھنگ سے اپنا گھر بھی نہیں چلا سکتے وہ فلسطینی اتھارٹی، اور مسلم حکومتوں پر تبصرہ کرنے سے پہلے ذرا وہاں کی ہنگامی صورت حال پر اپنی جانکاری بڑھائیں۔۔
 مسلم ممالک جو فلسطین کی مدد کرنے کی پوزیشن میں ہیں وہ کررہے ہیںاور بہت کچھ کررہے ہیں۔یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ترکی سعودی سمیت سبھی مسلم ممالک کو عالمی کردار نبھانا چاہیے اور اسرائیل، امریکا جو کہ اس کا محافظ اور سرپرست ہے کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن  میں خود کو ڈھالنا چاہئے۔ مگر کاش۔مسلم ممالک اس پوزیشن میں ہوتے۔ اس کے لیے ابھی مسلم ممالک کو اچھی خاصی تیاری کرنی ہوگی۔ اس تیاری کیلئےابھی بہت وقت درکار ہے۔خدارا حقیقت پسند بنیں۔ ہم لوگ فی الوقت فلسطین والوں کے لیے دعا کرسکتے ہیں،  یا واقعی حوصلہ اور عزم کریں تو اسرائیلی، امریکی مصنوعات، جیسے کہ مشروبات اور غذائی سامان کا بائیکاٹ کرکے انھیں معاشی نقصان پہونچا سکتے ہیں۔اس کیلئےہمیں اپنے منہ اور پیٹ پر کنٹرول کرنا ہوگا اور علاقائی مصنوعات سے اپنی ضرورت پوری کرنی ہوگی۔ وہاٹس ایپ۔واٹس ایپ کھیل کر فلسطین معاملے کے اکسپرٹ بننے، اور نیوز پیپر میں اپنا نام چھپوانے کے خواہشمند افراد سے میری درخواست ہے کہ پہلے ان حقائق پر غور کریں پھر اپنے دماغی گھوڑے دوڑائیں۔
انداز بیاں گرچہ بہت خوب نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات
از:۔اسجد شیموگہ۔7899197860