تل ابیب:۔ اسرائیل کی آثار قدیمہ کی اتھارٹی کے حوالے سے ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ یہ انڈے ثابت نہیں بلکہ شتر مرغ کے انڈوں کے چھلکے ہیں، جو ماہرین کو ایک قدیمی آتش دان کے قریب سے ملے۔شتر مرغ کے انڈوں کے ان چھلکوں کے بارے میں ماہرین کا اندازہ ہے کہ وہ چار ہزار سال سے لے کر ساڑھے سات ہزار سال پرانے ہیں اور اس لیے بہت اچھی حالت میں ہیں کہ وہ بظاہر ہزاروں سال ریتلے ٹیلوں کے نیچے دبے ہوئے پڑے رہے۔آثار قدیمہ کے اسرائیلی محکمے کے ڈائریکٹر امیر گورزالکزینی کے مطابق انڈوں کے ان چھلکوں کو قدرتی طور پر بہت اچھی حالت میں محفوظ رکھنے میں متعلقہ خطے کے انتہائی خشک موسم نے کلیدی کردار ادا کیا۔ماہرین کے مطابق اس دریافت سے ماہرین کو یہ سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی کہ اس خطے میں ہزاروں برس پہلے رہنے والے خانہ بدوش کس طرح کی زندگی گزارتے تھے۔ اس دور میں اس خطے میں شتر مرغ بہت بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے۔ اس خطے میں ان عظیم الجثہ پرندوں کی اپنے قدرتی ماحول میں پائی جانے والی نسل 19 ویں صدی میں ناپید ہو گئی تھی۔گورزالکزینی نے بتایا کہ ماضی میں اس حوالے سے ملنے والے قدیمی شواہد کے مطابق مشرق وسطیٰ کے اس خطے میں شتر مرغ کے انڈے انسانی خوراک کے ذریعے کے علاوہ مختلف طرح کی اشیائے تعیش، زیورات اور پانی کے برتن تیار کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتے تھے۔گورزالکزینی نے بتایا کہ صحرائے نجف سے ملنے والے شتر مرغ کے ان آٹھ انڈوں کا آئندہ تفصیلی مطالعہ تو لیبارٹری میں کیا ہی جائے گا، تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ انڈوں کے یہ چھلکے جہاں سے ملے، وہاں وہ ایک خاص ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ شتر مرغ کے ایک انڈے میں اتنی غذائیت ہوتی ہے، جتنی مجموعی طور پر مرغی کے تقریباً 25 انڈوں میں۔ یہ دریافت کتنی اہم ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ماہرین کی جس ٹیم نے کھدائی کے دوران انڈوں کے یہ چھلکے دریافت کیے، ان کی سربراہ لارین ڈیوس نے کہاکہ میری رائے میں تو انڈوں کے ان چھلکوں میں سے ہر ایک اپنی اہمیت میں کم از کم بھی اتنا قیمتی ہے، جتنا کہ اس کے وزن کے برابر سونا۔‘‘جنوبی اسرائیل میں ماہرین کو ہزاروں برس پرانی یہ باقیات صحرائے نجف کے علاقے میں نیتزانا نامی مقام سے کچھ ہی فاصلے پر ملیں، جہاں سے موجودہ مصری ریاست کی سرحد بہت قریب ہے۔ یہ جگہ جغرافیائی طور پر کادیش بارنیا نامی اس نخلستان سے بھی دور نہیں، جس کا مسیحیوں کی مقدس کتاب بائبل میں کئی جگہ ذکر ملتا ہے۔تاریخی حوالے سے یہ صحرائی نخلستان اپنے بڑے قیمتی آبی وسائل کی وجہ سے بنی اسرائیل کے ان باشندوں کے لیے سفر کے دوران پڑاؤ کا ایک بہت اہم مقام تھا، جو مصر سے کنعان جا رہے تھے۔
