داونگیرے:۔ریاست میں تعلیمی بیداری پھونکتے ہوئے قوم ملت ہی نہیں انسانیت کی خدمت کے جذبہ کے تحت پیغمبر اعظم کے فرمان کے مطابق انسانوں کو علم کی دولت سے مالا مال کرنے کہ علم ہے تو انسان اپنی راہ خود متعین کرسکتاہے اس میدان میں کامیابی سے ہمکنار ڈاکٹر ممتاز احمد خان کی شخصیت دور حاضر کی ایک عبقری شخصیت رہی جس دور میں انہوں الاآمین کی بنیاد ڈالی اور ترچی سے بنگلورو میں آکر اتنا بڑا کام وہی کرسکتا ہے جس کو اللہ کی خاص عطا و عنایتین شامل حال ہو ان کی پوری ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے ان خیالات کا اظہار سابق سنڈیکیٹ ڈائرکٹر و پلانگ کمیشن ممبر حکومت کرناٹک ڈاکٹر سی آر نصیر احمد نے ڈاکٹر ممتاز احمد خان کی رحلت پر تعزیت کرتے ہوئے۔ مزید انہوں نے کہا 1999ء میں ڈاکٹر ممتاز احمد خان نے تین دن شہر داونگیرے میں قیام کیا کہ یہان ضلع میں الاآمین کے ماتحت تعلیمی خدمات کو وسیع کرتے ہوئے کام کیا جائے اس وقت سابق وزیر تعلیم ناگمہ کیشومورتی سے انہوں نےتقریباََ ایک گھنٹہ گفتگو کی اس وقت ساتھ رہتے ہوئے اندازہ ہوا کہ عام انسان نہیں یہ تو رب کی عنایتوں کا خاص بندہ جس نے اپنے کمالات کا استعمال ملک اور قوم کے مستقبل کو روشن کرنے کیلئے کیا ڈاکٹر ممتاز احمد خان کی رحلت سے تعلیمی میدان میں جو خلاء پیدا ہوا اس کو پر کرنا ممکن نظر نہیں آتا انہوں نے کہا وہ دن اچھی طرح یاد ہیں کہ سماجی خدمات سے متاثر 2019ء میں بابائے تعلیم ممتاز احمد خان اوارڈ سے نوازتے ہوئے سابق مرکزی وزیر خورشید عالم خان کےہاتھوں اعزاز سےنوازہ اس وقت حافظ کرناٹکی بھی ساتھ رہے مرحوم ڈاکٹر ممتازخان ہمیشہ حافظ کرناٹکی کی تعلیمی میدان میں خدمات کو سراہا کرتے تھے اور اکثر کہا کرتے میرے بعد ملک و ملت تین مخلص اور تعلیم کے معاملے بیدار ذہین اور سوچ رکھنے والی شخصیت اس ادارے کی باگ ڈور سنبھالےحافظ کرناٹکی کی تعلیمی خدمات سے ڈاکٹر صاحب متاثر رہے آ۔ج ہمارےدرمیان سے ایک ایسی شخصیت دار فنا سے دار بقاء کی طرف انتقال کرگئی جوریاست ہی بلکہ پورے ملک میں تعلیمی سرگرمیوں کیلئےمشل راہ ہیں جن کی بدولت آج پوری ریاست لاکھوں فیضاب بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں اللہ ان کی مغفرت کرے اہل خانہ و وابستگان کو صبر جمیل اورملک ریاست و الاآمین تحریک کو ان کا نعم البدل عطا کرے ڈاکٹر ممتاز احمد خان کی شخصیت نے ریاست میں جو تعلیمی انقلاب برپاکیا قوم اس وقت اسی مرض کا شکار رہی اور ان کی خدمات کا دائرہ محدود نہیں بلکہ ریاست میں ہر طبقہ کو انہوں سیراب کیا وہ ہر محاذ پر ڈاکٹر ہی رہے۔
