چنگیری:۔ریاست ہی میں جنم لینے والی کنڑزبان کو زیادہ اہمیت دیتے ہوئے اس کی حفاظت اور بقاء کیلئے جدوجہد کرنا چاہیئے۔کنڑیگا ہم کرناٹک ہی میں کنڑا زبان کو اقلیتوں کی طرح رہنا دُکھ کی بات ہے۔اِن خیالات کا اظہار تعلقہ کے پانڈومٹے ویرکتا مٹھ کے ڈاکٹر گروبسوا سوامی نے کیا ،وہ یہان بسوا پِریا پی یو کالیج میں تعلق کنڑا ساہتیہ پریشد کی جانب سےمنعقد دتی وپن نیاسہ اجلاس کا افتتاح اور صدارت کرتے ہوئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دوسری ریاستیں ہماری ریاست پرمسلسل زور زبردستی بنائے ہوئے ہیں اُن کی روک تھام کے لئےکنڑا محافظ تحریکیں نا ہوتی تو خوف تھا ،کنڑیگا تحریکوں اور منتخب عوامی نمایندوں کو چاہیئے کہ ذاتی مفادات اور اپنی پارٹی بازی سے اُوپر اُٹھ کر منظم طریقے سے کنڑازبان کی بقاء کے لئے کام کرنا ہوگا،پانچ ہزار سال پُرانی تاریخ رکھنے والی کنڑازبان اپنی تہذیب ،تمدن ،و ثقافت ،رکھتی ہے ،سایتہ پریشد کے اجلاسوں کے ذریعہ ہماری ریاستی تہذیب تمدن و ثقافت کو آیندہ نسلوں تک پہنچانا اور نوجوان نسل کو کنڑازبان کے چاہنے والے بنانا ہوگا،تعلق کنڑاساہتیہ پریشد صدر یل جی مدھوکمار نے کہا کہ کنڑا زبان گھر گھر ہر گھر کی زبان ہونی چاہیئے،اپنے گھر کی حفاظت ہماری اپنی ذمہ داری ہو،ریاست کے ہر گھر میں کنڑا زبان کی شمع روشن ہوتب جاکے ہم کنڑا زبان کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ،اجلاس میں اُبرانی ہوبلی کنڑاساہتیہ پریشد صدر کے یم منجپا، وظیفہ یاب معلم کے جی شیو مورتی ،پانڈومٹے چندرپا،پروفیسر شیوکمار ،جی چنسوامی ،بسواپِریا پی یو کالیج پرنسپل مدن ساگر وغیرہ شریک رہے۔
