شیموگہ:عالمی وباء کورونا سے ریاست کے صفائی کرمچاریوں کی صحت کیلئےضروری حفاظتی اقدامات کیلئے پہلے ہی تمام ریاستی عہدیداروں کو ہدایت کی گئی ہے اورضلعی سطح پر ضروری سامان کی خریداری کرکے تقسیم کرنے کیلئے بھی تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی گئی ہے۔ ان باتوں کا اظہار صفائی کرمچاری کمیشن کے ڈسٹرکٹ صدر ایم شیونا نے کیا ہے۔اس سلسلے میں انہوں نےآج میونسپل کارپوریشن ہال میںمنعقدہ نشست میں پیش رفت کاجائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی ضلع میںصفائی کارکنوں کی صحت کا معائنہ کیا جاچکا ہے اوراس ضمن میں بہت سارےسدھار بھی لائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی محنت ومشقت کے مطابق انہیں دئے جارہےصبح کےناشتے کا معیار بھی بہتر ہونا چاہئے اس کیلئے حکومت سے تجویز پیش کی گئی ہے کہ وہ معیاری ناشتے کیلئے مالی امداد میں اضافہ کرے۔انہوں نے مزید بتایاکہ سال 2013 میں میانویل سکیاوینجرسے خدمات نہیں لینے کیلئے قوانین جاری ہوچکے ہیں لیکن افسوس ہے کہ ایک معاشرتی تباہی کے باوجود آج بھی یہ نظام زندہ ہے۔ ریاست میں 5000 سے زیادہ اسکیاوینجر افراد کی شناخت کی جاچکی ہے اور انہیں معاشرتی تحفظ اور حکومت کی طرف سے ضروری سہولیات مہیا کرنے کا مطالبہ بھی جارہا ہے۔انہوں نےکہا کہ مقامی اداروں میں معاہدے کی بنیاد پر یا مستقل کارکنوں کے ساتھ عام شہریوں جیسا برتاؤ کرنےکیلئے حکومت سے تمام ترسہولیات فراہم کرنے کیلئے حقیقی کوششیں کی جارہی ہیں۔ حال ہی میں بھدراوتی میں قتل کیے گئے صفائی کرمچاری کے اہل خانہ سے ملاقات کی گئی ہے اور لواحقین کو پہلی قسط کے4 لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی کی جاچکی ہے۔بقیہ دوسری قسط کے 4 لاکھ روپے کو جلد ہی جاری کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مقامی صفائی ادارے کی جانب سے بنایا جانے والاگروپ انشورنس جس کی رقم تقریباً ~2 لاکھ روپے ادا کرنا ہوتا ہے۔ لیکن بھدراوتی کےمقامی ذمہ داروں کی لاپرواہی کی وجہ سے اس کارکن کے لواحقین کوگروپ انشورنس کا معاوضہ نہیں مل سکےگا۔ انہوں انتباہ کیا کہ خدمات میں کوتاہی اور غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرنےوالےمتعلقہ عہدیداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔اس نشست میں میئر سنیتا انپا ، ڈپٹی میئر کے شنکرگنی ، دھیراج ، کمیشن سکریٹری آر رما اور میونسپل کمشنر چدانند وٹارے بھی موجود تھے۔
