خواتین اسلام بے پردگی کاشکار ! کون ذمہ دار؟

مضامین
از:۔ مفتی محمدشمس تبریزقادری علیمی. بہار۔9939252222
اسلام بلاشبہ ایک مکمل نظام حیات ہے جو انسان کے فطری تقاضوں کا احترام بھی کرتاہےاوران کی تکمیل کا اہتمام بھی کرتاہے۔اللہ رب العزت نے انسان اول حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہی کے ساتھ بطوراحسان لباس کابھی ذکرفرمایاکہ یہ اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔’’اے اولادآدم !بیشک اتاراہم نے تم پر لباس جوڈھانپتاہے تمہاری شرمگاہوں کواورباعث زینت ہے‘‘ ۔ لباس انسان کے لئے سترچھپانے کاذریعہ بھی ہے اوراس سے زینت اورحسن وجمال میں بھی اضافہ ہوتاہے لیکن احکام الٰہیہ سے بغاوت کرنے والاانسان بالکل ہی عقل سے پیدل اورعقل کا اندھا ہوتاہےوہ کیاجانے کہ حسن وجمال کسے کہتے ہیں اورزیب وزینت کس طرح حاصل کی جاسکتی ہے۔اسی لئے اس احمق نے بجائے لباس کے عریانیت ،ننگے پن کواپنایا،اوراسی کوحسن وجمال سمجھ بیٹھا ، مغربی تہذیب نے عریانیت کوعروج بخش کرانسان کی جو توہین کی ہے،اللہ کی پناہ !نظرپڑجائے تودیکھ کرگھن آتی ہے اوران کی بدنصیبی پرماتم بھی کرنے کودل چاہتاہے کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی بے چارے کپڑوں سے محروم ہیں،موسم گرم ہوتوبالکل ننگے ،ٹھنڈاہوتوبھی چست اورتنگ کپڑے ۔خیریہ توان لوگوں کامعاملہ ہے جوقرآنی ارشادکے مطابق جانوروں سے بدترہیں ،وہ جانوروں ہی کی طرح زندگی بسرکرتے ہیں۔ہمیں توافسوس اپنی قوم پرہے جنہیں اللہ عزوجل اوررسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے دعویٰ کے باوجوداپنی حالت کااحساس نہ رہا،عورتوں کاپردہ ہی ختم نہ ہوا،برقعہ ہی نہ گیا،سرسے دوپٹہ بھی اڑگیا،ہاتھ ننگے ،ٹانگیں ننگی نظرآنے لگیں ، ساڑی باندھنے والی بوڑھی ،جوان سب ہی کاپیٹ لٹکتانظرآتا ہے ۔ اس پر طرہ یہ کہ اسی حال میں نمازبھی پڑھی جاتی ہے۔یہ دین کا مذاق ، احکام الٰہیہ کی توہین نہیں تواورکیاہے؟
شریعت مطہرہ میں کتنی سہولت ہے کہ لباس کے معاملہ میں کوئی ایسی پابندی عائدنہیں کی گئی،جس میں پسندوناپسندکاسوال پیداہو،نہ کوئی خاص رنگ متعین کیاگیا،نہ کوئی خاص ڈیزائن ،نہ ہی کوئی یونیفارم مقررکیاگیا،بس یہ بتادیاگیاکہ لباس جسم ڈھکنے کے لئے ہے،لہٰذاایسے کپڑے پہنوجس سے واقعی جسم ڈھک جائے اگرکھینچ تان کرکپڑے چڑھالئے اورجسم کانشیب وفرازنظرآتارہاتولباس کاکیافائدہ رہا؟ اسی طرح لباس زینت اورحسن وجمال کاذریعہ ہے پس ایسے کپڑے پہنوجس سے تمہاری  زینت میں اضافہ ہو،ایسے رنگ پہنوجن سے تمہارے حسن میں مزیدنکھارپیداہو،ایسے ڈیزائن پہنوجس سے تمہاری زینت میں اضافہ ہو،ایسے رنگ پہنوجن سے تمہارے حسن میں مزیدنکھارپیداہو،ایسے ڈیزائن پہنوجن سے تم مزیدباوقاراوربارعب معلوم ہو،پھرمردوعورت کافرق ملحوظ رکھاکہ مردوں کی زینت اورعورتوں کی زینت میں فرق ہے،مثلاعورتوں کی زینت چوڑیاں اوردیگرلوازمات ہیں،جومردوں کی زینت نہیں۔مرد کاسترجس کی حفاظت اورجس کوچھپانے کاحکم دیاگیاہے یہ ناف سے گھٹنوں تک ہے،جسم کے اس حصہ کوچھپانافرض ہے ۔ تنہائی میں بھی یہ حصہ برہنہ نہیں ہوناچاہیے حتی کہ غسل کے وقت بھی اس کاڈھانپناافضل ہے۔اگرکسی کایہ حصہ کھلاہوتواسے دیکھنابھی حرام ہے ،اس مسئلہ سے وہ لوگ سبق حاصل کریں جواپنے گھرمیں گھٹنوں سے اونچانیکریاانڈرویئروغیرہ پہنے رہتے ہیں۔
عورت کاستر:عورت کاپوراجسم سترہے۔اسی لئے اسے عورت یعنی چھپنے والی کہاجاتاہے۔وہ عورت ہی نہیں جواپنے آپ کوغیروں کی نظروں سے نہ چھپاتی ہو،ہاتھوں سے ٹخنوں تک اسے چھپاہوناچاہئے ،چہرہ بھی ڈھانپنافرض ہے۔صرف آنکھیں اتنی کھلی ہوں کہ دیکھ سکے وہ بھی نیچی نظروں کے ساتھ۔اسی لئے عورت کے لئے ایسالباس پہننے کی اجازت نہیں جس سے اس کاپوری طرح سترنہ ہوسکے ۔ (۱)عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنی زینت کوظاہرنہ ہونے دیں ،سوائے اس کے جس کے ظاہرکئے بغیرچارہ نہیں۔ (۲)اپنی اوڑھنیوں سے اپنے سینے کوڈھانپ لیا کریں ۔ (۳) زمین پر پاؤں اس طرح نہ ماریں جس سے ان کی پوشیدہ زینت وآرائش ظاہرہو۔ان تینوں امورکی پابندی ہی کانام پردہ ہے کہ عورت باہر نکلتے وقت ایساڈھیلاڈھالالباس پہنے جس سے اس کے جسم کانشیب وفرازچھپ جائے بالخصوص سینہ جوعورت کے حسن کامرکزہے اور جو مردکی نظرکواپنی طرف کھینچتاہے اسے اس طرح ڈھکناچاہئے کہ اس کا ابھارظاہرنہ ہو۔نیزاس کی چال ایسی ہوکہ اس کے زیورات کی آوازسنائی نہ دے اورنہ ہی جسم کانشیب وفرازظاہر ہونے پائے ، ورنہ برقعہ اورپردہ کاکوئی فائدہ ہی نہیں رہتا۔اسی لئے شریعت مطہرہ نے کامدار،کڑھائی شدہ خوبصورہ برقعے پہنناممنوع قراردیا، نیز صرف ایک چادراس طرح لپیٹ لینے کی بھی ممانعت کی گئی جس میں جسم کے حصے نظرآئیں  اورجسم کی حرکت تک نظرآئے۔نبی مکرم ﷺ نے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا:’’اوریہ کہ ایک ہی کپڑے میں پوٹ بن جائےیعنی صرف ایک چست چادرلپیٹ لی جائے یانہایت چست اورتنگ لباس پہناجائے نیزآقائے کریم ﷺ نے فرمایا:ایک ہی کپڑے کواس طرح لپیٹ لیاجائے کہ شرمگاہ کھلی رہے۔(منع ہے)بہرحال برقعہ ہویاچادراتنا ڈھیلاہونا چاہیے کہ اس میں چلناآسان ہواوراس کے جسم کے خفیہ اعضاء ،نشیب وفرازظاہرنہ ہوں،اسی طرح تنگ وچست اورباریک لباس مسلم خواتین کیلئے جائز نہیں ۔ ایک مرتبہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بنوتمیم کی چندعورتیں حاضرہوئیں جس کالباس باریک کپڑے کاتھا،نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’اگرتم مسلمان عورتیں ہوتویہ مسلمان عورتوں کالباس نہیں اوراگرتم غیر مؤمنات ہوتوجوچاہوکرو‘‘۔ میرے آقاﷺ کاارشادہے’’کچھ عورتیں لباس پہننے کے باوجودننگی ہوتی ہیں وہ نازواداسے جھکتی ہیں اوردوسروں کواپنی طرف مائل کرتی ہیں ،ان کے سرایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے بخت نسل کے اونٹوں کے کوہان،یہ عورتیں جنت میں نہ جائیں گی،بلکہ انہیں جنت کی ہواتک نہ لگے گی‘‘۔
اس پرفتن دورمیں میرے آقاﷺ کے ارشادپاک کوبغورپڑھیں اوراپنے معاشرہ کامشاہدہ کریں کہ کیاآپ کوتنگ وچست اورمہین کپڑوں میں ایسی عورتیں نظرآرہی ہیں جولباس کے باوجودننگی ہیں،کیاآپ کوکوئی محترمہ نظرآرہی ہیں جن کاپیٹ کھلاہواہے حالانکہ وہ سات میڑلمبی چوڑی ،قیمتی ساڑی لپیٹے ہوئے ہیں ،ذراان حسیناؤں کودیکھئے جنہوں نے اپنے سروں پربڑے بڑے جوڑے رکھے ہوئے ہیں بالکل جیسے اونٹ کاکوہان ۔توسنادیجئے ان عورتوں کومیرے نبی ﷺ کافرمان کہ تمہارے لئے جنت کادروازہ بندکردیاگیاہے تمہیں جنت کی ہوااورخوشبوتک نہ ملے گی۔اے اپنی جانوں پرظلم کرنے والی خواتین !کیافائدہ تمہارے کلمہ پڑھنے کا،کچھ توشرم کرو،جس کاکلمہ پڑھتی ہوکچھ تواس کی لاج رکھو ،آؤ ابھی وقت ہے توبہ کرلو،اللہ توبہ قبول کرنے والاہے۔ہرمسلمان عورت کے لئے پردہ اسی طرح فرض ہے جس طرح نماز،روزہ وغیرہ ۔عورت کامطلب ہے جسم کاوہ حصہ جس کاظاہرہوناقابلِ شرم وعارہو،عورت اجنبی مردکے لئے سرسے پاؤں تک چھپانے کی چیز ہے اورچھپایا اسی چیزکوجاتاہے جس کوغیروں کی نظروں سے بچانامقصود ہوتا ہے ۔اے خواتین اسلام ! پردہ تمہارے لئے قیدوبندنہیں ،یہ تمہاری ترقی میں حائل نہیں ،یہ توتمہارے رب کاتم پرخصوصی کرم ہے کہ اس نے تمہیں پردہ کاحکم دیاجواپنوں اورغیروں کی نظروں میں تمہیں با عزت بناتاہے۔ یہ تمہارالباس عزت ہے۔یہ تمہاری عصمت کی حفاظت کاذریعہ ہے۔دیکھوقیمتی چیزہمیشہ چھپائی جاتی ہے کہ کوئی لٹیرااسے نہ لے اڑے،اس پرمٹی ،پانی ،ہواکااثرنہ ہونے پائے،تم رب کے نزدیک بہت قیمتی ہو،بڑی قدروالی ہو،وہ پردہ کے ذریعہ تمہیں چھپاناچاہتاہے کہ کوئی ڈاکوتمہیں نہ دیکھ سکے ،پردہ ہی مومنہ کے تقویٰ وپرہیزگاری کاذریعہ ہے کہ تقویٰ جملہ احکام شرع کی پابندی کانام ہے۔پردہ سے بغاوت کرکے کوئی عورت کتنی ہی عبادت کرے پرہیزگارنہیں ہوسکتی ،اس طرح وہ ہمیشہ اسلام کے عطاکردہ ایک عظیم منصب سے محروم رہتی ہے۔
خواتین اسلام! پردے میں رہ کرزندگی گزارنادونوں جہان کی کامیابی ہے۔اورجوعورتیں بے پردہ رہتی ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ غورسے بے پردگی کی تباہ کاریاں ملاحظہ کریں! بے پردگی اللہ ورسول عزوجل وﷺ کی نافرمانی ہے ۔ بے پردگی ہلاکت خیزگناہ کبیرہ ہے۔بے پردگی اللہ عزوجل کی رحمت سے دوری اورلعنت کاسبب ہے۔بے پردگی جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔بے پردگی بروزقیامت اندھیرے کاباعث ہے۔ بے پردگی نفاق کی علامت ہے۔ بے پردگی ایک بُراکام ہے جواللہ عزوجل کوپسندنہیں۔ بے پردگی معاشرے میں فحاشی کے پھیلاؤ کا ذریعہ ہے۔ بے پردگی رسوائی کاباعث بنتی ہے ۔ بے پردگی شیطانی کام ہے۔بے پردگی دشمنِ اسلام کی سازش ہے ۔ بے پردگی زمانہ جاہلیت کی یادتازہ کرتی ہے۔ بے پردگی فطرت کے برعکس ہے۔ بے پردگی میں انسانی تہذیب کی تذلیل وتنزلی ہے ۔ بے پردگی بے شماربرائیوں کی اصل ہے۔بے پردگی حیا و غیرت کے خاتمے کاسبب ہے۔ بے پردگی نوجوان نسل کی تباہی کا بہت بڑاذریعہ ہے۔ بے پردگی بسااوقات خاندانوں میں پھوٹ کا باعث بن جاتی ہے۔بے پردگی آنکھوں کے زناکوفروغ دینے یں کلیدی کرداراداکرتی ہے۔
فسوس! موجودہ دورمیں بھی زمانہ جاہلیت والی بے پردگی پائی جارہی ہے یقیناًجیسے اس زمانہ میں پردہ ضروری تھاویساہی آج بھی ہے۔پیغمبراسلام سےپہلے کےزمانہ کوجاہلیت کہاجاتاہے۔اس دورکی عورتیں زیب وزینت اوربناؤ سنگھارکرکے مردوں کواپنی طرف مائل کرتی تھیں،راستوں اورچوراہوں پرچہرہ کھول کر گھوما کرتی تھیں،جب مذہب اسلام کازمانہ آیاتوسب سے پہلے امہات المؤمنین پھران کے ذریعہ مسلمانوں کی تمام عورتوں کوپردہ کاحکم دیا گیا۔اب توحالات دن بدن بگڑتے جارہے ہیں ،شرعی پردے کاتصورہی ختم ہوتاجارہاہے سچ پوچھئے توحالت ایسی ہے کہ مبالغے کے ساتھ عرض کروں تواس نازک ترین دورمیں عورت کوہزار پردوں میں چھپادیاجائے تب بھی کم ہے۔جو جسم کے پردے کا مطلقاًانکارکرے اورکہے کہ صرف دل کاپردہ ہوناچاہیے اس کا ایمان جاتارہا۔پردہ وہی نیک خاتون کرے گی جس کادل اچھا اور اللہ کی اطاعت کی طرف مائل ہوگا۔افسوس !صدکروڑ افسوس !جوان لڑکی اب چادراورچاردیواری سے نکل کرمخلوط تعلیم کی نُحوست میں گرفتار،بوائے فرینڈ کے چکرمیں پھنستی جارہی ہیں ۔اسے جب تک چادراورچاردیواری میں رہنے کی سعادت حاصل تھی وہ شرمیلی تھی اور اب بھی جوچادروچاردیواری میں ہوگی وہ ان شا اللہ عزوجل باحیا اور باپردہ ہی ہوگی۔عورتیں اوربچیاں بے پردگی کاشکارہوتی جارہیں اس کاپہلاذمہ دارہروہ باپ ہے جواپنی بچیوں کواعلیٰ عصری تعلیم اورسرکاری نوکری کے نام پر بےپردگی کے ساتھ تعلیم دلاتے ہیں ۔اوروہ عورتیں بھی ہیں جواپنی دینی تعلیم کے بجائے دنیوی تعلیم کو ترجیح دیتی ہیں۔ عورتوں کے بے پردہ ہونے میں جہاں وہ عورتیں ذمہ دارہیں وہیں اس کے والدین اورشادی کے بعداس کے شوہربھی برابرکےذمے دارہیں ۔اللہ رب العزت کافرمان ہے : ’’اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس پر سخت کرّے  فرشتے مقرّر ہیں جو اللّٰہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں (سورۂ تحریم ،آیت:۶،ترجمہ کنزالایمان) رب کے اس ارشادکا مفہوم یہ ہے کہ ہرمسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خودکواوراپنے اہل و عیال کوجہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرتارہے کہ جہنم کی آگ بڑی ہی سخت ہے۔دنیاکی آگ سے بہت زیادہ کہ دنیاکہ آگ تولکڑیوں سے ہی جلتی ہے لیکن جہنم کی آگ کافروں اور پتھروں سے جلائی جائے گی اوراس پرایسے فرشتے مقررکئے جائینگے جونہ کسی پررحم کرینگے نہ ہی کسی کی رعایت کریں گے بلکہ صرف اللہ کے حکم کے پابندہونگے۔ہرمسلمان جہنم کی آگ سے ڈرتابھی ہے ،پناہ بھی مانگتاہے اوراس سے بچنے کے لئے حتی الوسع نیکیاں بھی کرتاہے لیکن مسلمان کی ذمہ داری صرف اتنی ہی نہیں بلکہ اس پریہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے اہل وعیال کوبھی جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرے۔اسلئے والدین اورجوان بھائیوں کوچاہیے کہ اپنی بچیوں اورعورتوں کوپردہ میں رکھے او ر باپردہ ہی تعلیم دلائے ۔بے پردگی کے ساتھ تعلیم دلانے سے بہترہے کہ جاہل ہی رہیں اوراپنے ایمان پرقائم رہیں کیونکہ پردہ و حیاایمان کا حصہ ہے جسے شریعت نے فرض ولازم قراردیاہے توجوکامل مسلمان ہوگاوہ ضروراپنی عورتوں کوپردے میں رکھے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کوشریعت مطہرہ پراستقامت عطا فرما ئے ۔ آمین ۔