پچھتر سال سے ہم کونسی جمہوریت اور آزادی منارہے ہیں؟  

مضامین
26/جنوری اور15/اگست کو ہر سال برادرانِ وطن کے ساتھ برابر مسلمانانِ ہند بھی جمہوریت اور آزادی پورے جوش کے ساتھ مناتے آرہے ہیں مگر یہ کونسی آزادی اور جمہوریت ہے یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔چونکہ جمہوریت کا صحیح مطلب تو یہ تھاکہ ۱۹۴۷؁ء کے بعد سے مسلمان ہندوستان میں دوسری قوموں اور دوسرے برادرانِ وطن کے برابر ہر چیز میں حصہ دار ہوتے ، سرکاری محکموں ،حکومتی ایوانوں ، سیاسی میدانوں ،صنعتی اداروں ،اقتصادی ومعاشی جگہوں ، تعلیمی درسگاہوں،عصری دانشگاہوں اور مذہبی عبادت گاہوں میں آزادی کے ساتھ حصہ دار ہوتے۔ یہ کیا واہیات ہیکہ مسلمانوں کی سیاست نامنظور، مسلمانوں کے عصری وتعلیمی ادارے متعصب سیاسی پارٹیوں کی نظر میں کھٹکتے ہوں ،مسلم لاء اور شریعت میں دخل اندازی ہمیشہ ہوتی ہو ، ماب لیچننگ کا داؤ مسلم نوجوانوں پر آزمایاجاتا ہو ، مسلمانوں کی رہائش گاہوں ، تعلیمی اداروں ، یونیورسٹیوں کو بلڈیزروں سے زمیں بوس کردیاجاتا ہو ، سروے کے نام پر دینی درسگاہوں پر نشانہ کسا جاتاہو ،یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی بل پارلیمنٹ سے زبردستی منظور کرائی جاتی ہو ، طلاقِ ثلاثہ پر سیاسی ملمّع سازی کی جاتی ہو ،اسلامی قانون میں کسی نہ کسی بہانے دخل اندازی کی جاتی ہو، بعض انتہا پسند ہندووں اور ناعاقبت اندیش پجاریوں کو اسلام ،مسلمانوں اور دینی اداروں و یونیورسٹیوں اور مسجدوں کے خلاف کھلے عام بکواس اور جھوٹے دعووں پر حکومت کی طرف سے کھلی چھوٹ دی جاتی ہو ، مسلمانوں کے توجہ دلانے کے باوجود حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی ، اب تو بر سرِ عام یہ انتہا پسندوں کی طرف سے اعلان کیاجاتا ہے کہ کوئی سرکاری عہدہ و منصب مسلمانوں کو نہیں دیاجائیگا ،ووٹ کا حق بھی سلب کرلیا جائیگا ، بس مسلمانوں کی حیثیت ایک زندہ لعش کے مانند ہوگی کہ جس میں مکمل طور پر حِس و حرکت بند ہوگئی ہو۔جبکہ مسلمانوں کی شہادتوں ، مجاہدوں ، اوللعزم کارناموں اور ملک کو فرنگیوں کے خوںخوار پنجوں سے آزادی کی انتھک کوششوں کا بہت بڑا دخل ہے ،آج جو متعصب افراد اور طاقتیں فسطائی و تنازعاتی زبان درازی کررہی ہیں انکا فرنگیوں کو ملک سے نکالنے اور ملک کو آزادی کا پروانہ عطا کرنے کیلئے ذرّہ برابر کوئی عمل دخل نہیں تھا سب غائب تھے۔سب سے زیادہ شہید ونے والے مسلمان ،سب سے زیادہ بے گھر ہونے والے مسلمان ، وطن کی آزادی کے خاطر سب سے زیادہ معرکہ آرائی کرنے والے مسلمان ، حرّیت کے شعلوں کو تیز کرنے والے مسلمان ،عورتوں کو بیوا کرنے والے مسلمان،بچوں کو یتیم وبے سہارا چھوڑنے والے مسلمان، جائدادوں کو لٹانے والے مسلمان اور معذور و اپاہج ہونے والے مسلمان جبکہ یہ تارخی حقائق روزِ روشن کی طرح واضح ہیں اور تاریخ کے سینوں اور کتابوں سفینوں میں محفوظ ہیں۔ چوری اور سینہ زوری یہ کہ ان تایخی حقیقتوں کو آج برملا جھٹلایاجاتاہے اس سلسلۃ الذہب کی تاریخ کو تبدیل وتحریف کیاجاتاہے صاف وشفّاف بچوں کے ذہنوں میں جھوٹی تاریخ رقم کی جارہی ہے ہندو نیو جنریشن کو اسلام اور مسلمانوں سے بد ظن کیا جارہا ہے ۔ تو یہ کیسی ملک کی ڈیموکریسی اور جمہوریت ہے ؟ کیا اسی کانام آزادی ہے ؟ کیا شہیدوں، مجاہدوں اور غازیوں کا حق اسی طرح ادا کیا جائیگا ؟
اسلام ہی امن وسلامتی کا گہوارہ ہے:۔
مذہبِ اسلام جس نے ہمیشہ امن وسلامتی کا پیغام ساری دنیا کو دیاہے ،جس اسلام نے انسانیت کادرس دیاہے ،جس اسلام نے دنیا انسانیت کو اخوّت ومحبّت کا تحفہ پیش کیا ہے ،جس اسلام نے عورت کا مقام دنیا میں اونچا کیا ہے ،جس اسلام نے عورت کو نحوست سے نکال کر محبوبیت کا مقام عطاء کیا ہے ، جس اسلام نے بچیوں کو زندہ درگور کرنے سے بچایا ہے ،جس اسلام نے دنیا میں حکومت کرنا سکھایاہے ، جس اسلام نے دنیا کو ثقافت وحضارت کا سبق پڑھایا ہے اور جس اسلام نے انسانیت کو جہنّم سے نجات دلاکر جنّت میں پہنچانے کا سامان بہم پہنچایا ہے ، تو آج یہ متعصب ذہن ، متنفّر دل اور زہر آلود زبانیں کس مونہہ سے اسلام اور مسلمانوں کو شدّت پسند وانتہا پسند کہتی ہیں۔ یہ تو’’ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ‘‘کے مترادف ہوگیا جبکہ حقیقت یہ ہیکہ اسلام ہی امن اور سلامتی کا گہوارہ ہے۔
مسلم سیاست وقیادت کا راگ:
اوپر تذکرہ رہا کافرانہ قیادت و متعصبانہ سیاست کا ، اب ماتم اس بات پر ہیکہ ہماری مسلم قیادت کی سیاست اور مذہبی رہنماوں کی سیادت نے کیا گل کھلائے ہیں جس کے نتیجہ میں آج امت مسلمہ یتیم ہوچکی ، جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ، امت مسلمہ کی سادہ لوحی یہ رہی کی ان دونوں قیادتوں پر سن۱۹۴۷؁ء سے جس قدر یقین رکھاتھا اتنا ہی بڑا دھوکہ امت مسلمہ کو پہنچا ہوسکتا ہے میری یہ بات تعجب خیز اور اچھنبا سی لگتی ہو لیکن بہت ہی غور و فکر کے بعد ا س نتیجے پہنچنا پڑے گا، وضاحت و حقیقت کے سامنے آجانے کے بعد بات سمجھ میں ضرور آجائیگی۔
 ہمارے مسلم سیاسی اور مذہبی رہنما ملک کی آزادی میں ساتھ رہے اور بہت ساری قربانیاں بھی ان حضرات نے پیش کیں ، یہاں تک تو بات درست ہے مگر جب بدقسمتی سے ملک کے دو ٹکڑے ہوئے اور مسلمانوں کی اکثریت صحیح معنی میں اپنی حب الوطنی کے خاطر ہندوستان میں رہنے کو پسند کیا ، مگر ہمارے قائد حضرات نے گانگریس ، گاندھی جی اور جواہر لال نہرو کے اتنے قریب ہوگئے کہ مسلمانوں کے اسلامی تشخص کا بالکل خیال نہ کیا ملّتِ اسلامیّہ کے بجائے ان حضرات نے اپنی ذات کو مقدم رکھا ، پچھتر سالوں سے ان حضرات کے متعلقین ومتوسلین ان کی قربانیوںاور جنگ آزادی میں اور آزادی کے بعد ان کے کارناموں کو ہر میدان میں ، ہراسٹیج پر ، ہر سیمنار میں اور ہر کانفرنس میں چیخ چیخ کر سناتے آ رہے ہیں اور اس کے تذکرے کرتے ہیں عوام تو عوام علم وآگہی سے واقفیت رکھنے والا طبقہ بھی ان کے تذکروں اور چیخوں کو سن کر سر دھنتا ہے جبکہ یہ بات حقیقت وصداقت سے کوسوں دور ہے۔ اگر اْس وقت سیاسی و مذہبی قیادت مسلمانوں کا مفاد مدِّ نظر رکھتی اوراس پر کام کرتی تو آج امت مسلمہ کی یہ حالتِ زار یہ نہ ہوتی، سیاسی ، اقتصادی ،تعلیمی اور مذہبی ہراعتبارسے کیا مسلمانوں کو نظر انداز کیاجاتا ؟ صرف پچھتر سالوں میں کیا چھوٹے بڑے تیس ہزار فسادات کرائے جاتے ؟کیا مسلمانوں کو رزرویشن سے محروم کیاجاتا ؟جس طرح کانگرسی چالاک وعیّار لیڈر ہماری مذہبی وسیاسی قیادت کو جھوٹی تسلّی دیتے رہے ، انکی پیٹھ تھپکتے رہے اور ان کو لبُھاتے رہے یہ خوش فہم رہے اور یہ حضرات اپنی ذاتی حیثیت کو ترجیح دیتے رہے۔ ہم ایک موٹی مثال پر غور کرینگے تو ان حضرات کا آزادی کے بعد کیا کردار رہا سمجھ میں آجائیگا۔آزادی ک صرف دوسال بعد بابری مسجد جہاں باقاعدہ نماز باجماعت اداکی جاتی تھی امام و موذن اور دیگر اسٹاف باقاعدہ کام کررہاتھا امام صاحب نے عشاء کی نماز پڑھائی تھوڑی دیر بعدہی چند شر پسند پجاریوں نے محراب کے اندر مورتیاں لاکر رکھ دیا العیاذ باللہ۔اور اس کے بعد ہمیشہ کیلئے نماز کا سلسلہ بند ہوگیا ۔ کانگریسی لیڈران کے ساتھ بے انتہا قربت کے باجود ہمارے مسلم لیڈران نے بابری مسجد سے مورتیاں ہٹانے کیلئے کچھ نہیں کیا جبکہ معاملہ ابتدائی تھا ، خفیہ تھا عام ہندو اس معاملے سے ناواقف تھا ،ان مسلم لیڈران کی بات کانگریسی لیڈر مانتے بھی تھے مگر کسی نے بھی ادنی توجہ نہ کی جسکا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے اور جو بابری مسجد کا حشر ہوا وہ دنیا کے سامنے ہے۔حالانکہ قدآور اور بڑی اونچی مسلم شخصیات اْس وقت موجود تھیں۔ایک مسجد تک وہ حضرات بچا نہ سکے تو آج اْن حضرات کا آزادی کیلئے اعلیٰ کردار کہاں سے بیان کیاجاتا ہے ، خود مسلمانوں کا وجود تک اس ملک میں خطرے میں ہے اگر ہمارے لیڈر آزادی کے بعد ہی سے ہوش کے ناخن لیتے مسلمانوں کی اس ملک میں مضبوطی کا خیال کرتے اور اسلامی تشخص کی بحالی کی کوشش کرتے تو آج ملک میں ہماری ذلّت نہ ہوتی ۔ بڑے افسوس کا مقام ہیکہ آج بھی ایسے مشکل حالات میں ہمارے مذہبی وسیاسی لیڈروں کا کوئی ٹھوس منصوبہ امتِ مسلمہ کیلئے نہیں۔کوئی ادارہ ،کوئی تنظیم ،کوئی شخصیت اس حسّاس اور اہم موضوع کی طرف متوجہ نہیں ، موجودہ حکومت کی مسلم دشمنی پرسب خاموش ہیں آج تک کسی بھی نام نہاد مسلم لیڈر یا مذہبی قیادت نے ایوانِ حکومت میں بیٹھ کر اربابِ حکومت سے مسلمانوں کے مسائل پر روبرو بات نہیں کی ۔ صرف اخباری بیانات ، سمینار ،کانفرنس ،دہلی کا رام لیلا میدان اور بمبئی کے آزاد میدانوں میں سادہ لوح مسلمانوں کی بھیڑ جمع کرنے اور انکی اچھی طرح میزبانی کرنے کو وقت کا اہم ترین تقاضا سمجھ بیٹھے ہیں ۔خدارا وقت کے تقاضے کو سمجھیں ہماری زندگی کی کشتی جو بھنور میں پھنس چکی ہے اسے دریا پار کریں ورنہ ہمارا نیو جنریشن اور مستقبل کا نوجوان ہماری اس فحش غلطی کو کبھی معاف نہ کریگا اور ہم ہمیشہ کیلئے ہدفِ ملامت ٹھہرینگے۔کاش بیرسٹر اسد الدین اویسی جیسے بےباک لیڈر اور دو چار ہندوستان کی دھرتی پرسامنے آتے تو مضبوط امید کی جا سکتی تھی اور ملک کا نقشہ ہی بدل جاتا ہے مگر ایک فرد کی چیخ و پکار کامیابیوں تک کس طرح ہم کنار کرسکتی ہے ۔
 مذہبی جنون کو ختم کریں 
آج مسلمانوں کی سب سے اہم ضرورت یہ ہیکہ ہم اپنے تشخص کو مضبوط کریں ،  یہ ملک ڈیمکروسی اور جمہوری ہے تو دسرے مذاہب کے ماننے والوں کے برابر ہم بھی برابر کا حق اس ملک میں رکھتے ہیں اس کے باوجود ہمارے ساتھ جب امتیاز برتاجارہا ہے ہمارے وجودکو خطرے میں ڈال دیا ہے تو پہلے اس خطرے سے امت مسلمہ کو نکالیں۔سیاسی پوزیشن کو پہلے مضبوط کریں اس لئے کہ ہم نے تعلیم کے میدان کو فتح بھی کرلیا لیکن، ہماری سیاسی گرفت ڈہیلی ہوگئی تو تعلیمی صلاحیت کے باوجود ہمیں ہر محکمہ میں نمائندگی سے محروم ہونا پڑیگا ۔ ہمارے علما فضائل پر وعظ و نصیحت بند کریں ، فضائل بہت بیان ہوچکے ، صحابہ کرام کے اوللعزم و اقعات انکے اعلی کارناموں کا تذکرہ کریں ،انبیا علیہم السلام کی دینی سیاست وبادشایت کے ساتھ منصبِ نبوت کے تذکروں کو مسلمانوں کے سامنے بیان کریں ،بارہ مہینوں کی فضیلتیں بیان کرنا بند کریں ،سیاسی پوزیشن کوبے انتہا مضبوط کریں۔ چونکہ رسول اکرم ﷺ نے صر ف تٔیس سالہ مختصر وقت میں مسجد نبوی کے صُفہ کے کچے چبوترے کو جہاں علمِ دین کا مرکز بنایاتھا ساتھ میںاُسی چبوترے کو دنیاکی سیاست کا بھی مرکز بنایاتھا چنانچہ ۵۰ ہجری تک رسول اکرم ﷺ کی تیار کردہ صحابہ کی ٹیم نے آدھی دنیا پر اپنا قبضہ جمالیا تھا، دنیا ی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہے ،دنیاکی کوئی طاقت یا کوئی مذہب کا ماننے والا یا کوئی انقلابی شخصیت سامنے نہیں آئی جس نے آج تک نصف دنیا کے جغرافیہ پر اپنا تسلط جمایا ہو یہ صرف جناب رسول اللہ ﷺ کی جوتیوں کا طفیل اور ان کا صدقہ ہیکہ انکے جانباز صحابہ نے کسی مادّی قوت اوروسائل کے بغیر صرف ایمانی اسپرٹ اورروحانی طاقت کے بل بوتے پر دنیا کے آدھے جغرافیہ پر اسلامی عَلم بلند کیاتھا ،اسی کا نقشہ حفیظ جالندھری نے کھینچا ہے۔
نمازِ عجز کے سجدے تڑپتے تھے جبینوں میں
 چٹانوں سے زیادہ مضبوط دل رکھتے تھے سینوں میں 
تیغ وتیر پر نہ خنجر پر نہ بھالے پر
بھروسا تھا تو صرف اک کالی کملی والے پر
مگر افسوس کہ ہم نے آدھی دنیاپر اسلامی تسلط کو بھی دوسروں کے حوالے کردیا آج ہمیں ان نمائشی جلسوں بے سود کانفرنسوں ،سمیناروں ، اصلاح معاشرہ کی مجلسوں ، مروجہ ذکر کی محفلوں ، مروجہ دینی اجتماعات واحتفالات اور لاکھوں کی بھیڑ اکھٹا کرنے کی بدعت سے سخت پرہیز کرنے کی ضرورت ہے ،ملک میں ہم اپنا سیاسی تسلط اور اپنی مذہبی آزادی کو حاصل کرنے کی کوشش کریں اورساتھ میں برادران وطن کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوارکریں انکی تالیفِ قلب کی کوششیں کریں کہ جس سے ہمیں آزادی کی سانس ملے اور ہندوستا ن میں سکون و اطمینان کے ساتھ زندگی گزاریں ۔ واذالک علی اللہ بعزیز
از: محمد عطاء الرحمن القاسمی،شیموگہ