شیموگہ:۔شیموگہ شہرمیں کوویڈ سے متاثرہوکر اسپتال میں داخل مریض جہاں زندگی اور موت کےدرمیان ہیں وہیں ان کے رشتہ دار واقرباء جو اسپتالوں میں ان کی خدمت کیلئے آئے ہوئے ہوتے ہیں ان کیلئےلاک ڈائون کی وجہ کھانے کے مسائل بہت بڑے پیمانے پر ہورہے ہیں،کئی لوگ دن بھر بھوکے پیاسے رہ کر خود کی طبیعت کو بگاڑ رہے تھے،کچھ لوگ دوسرے شہروں سے آئے ہوئے تھے وہ اسپتالوں میں یا اسپتالوں کے باہر جو کھانا دستیاب ہورہاتھا،اس کا استعمال کررہے تھے،ان حالات میں شیموگہ شہرکے کئی مسلم تنظیموں اور نوجوانوں نےضرورتمندوں کو کھانا پہنچانے کی پہل کی۔شہرمیں یوں تو سیاسی جماعتیں بھی بڑھ چڑھ کر لوگوں کی خدمت کررہے ہیں مگرجس پیمانے پر اس مددکی ضرورت ہے وہ مددان تک نہیں پہنچ رہی تھی۔سب سے پہلے شہرکے سولے بیل کے ساکن آصف یوسف خان نے لوگوں میں کھانا تقسیم کرنے کی پہل کی۔اس کےبعد پینشن محلہ نوجوانوں اور طلباء نے مل کر رات کے وقت کھانے کیلئے انتظام کرنا شروع کیا۔ابھی ان تنظیموں کی طرف سے کام چل رہی تھا کہ انجمن اسلام کمیٹی شیموگہ نے بھی وسیع پیمانے پر ضرورتمندوں کو کھاناکھلانا شروع کیا۔انجمن اسلام کی خاص بات یہ رہی کہ انہوں نے ان لوگوں کو کھانے ڈبے یا پھر تھیلیاں دینے کے بجائے سیدھےسیدھے کھانا موقع پر ہی کھلایا جس سے کھانا ضائع ہونے سے بچ گیا۔ایسی ہی کوشش شیخ محمد حسین شاہ قادری چاریٹبل ٹرسٹ کی جانب سے بھی شروع ہوئی جس میں ٹرسٹ کے ذمہ داروں نے اسپتالوں کے علاوہ ہوم گارڈس اور اسپتالوں کے ڈی گروپ ملازمین کو بھی کھانے کے ڈبے دئیے۔شہرمیں ویسے تو کئی الگ الگ تنظیمیں اس رفاہی کام کو انجام دے رہے ہیں،مگر جو کھانے کھلانے کی خدمات مسلم تنظیموں سے ہورہی ہے اُس سے خداچاہے تو خوش ہوگا،لیکن جو لوگ کھانا کھا رہے ہیں وہ یہ محسوس کررہے ہیں کہ انہیںدعوت میں کھاناکھلایاجارہاہے۔چند ایسے نوجوان بھی ہیں جنہوں نے نہ تو اپنی شناخت ظاہرکرنے کی خواہش جتائی نہ ہی تصویر سوشیل میڈیاپرپیش کرنے کی آرزو دکھائی۔مگر یہاں جن تنظیموں کو دکھایاجارہاہے،ان کی جانب سے بھی سستی شہرت کیلئے بالکل بھی اجازت نہیں تھی،مگرخود روزنامہ نے ان کے کام کو سراہانے اور نمونے کے طو رپر پیش کرنے کیلئے اس خاص رپورٹ کو پیش کیا ہے۔
