شیموگہ:۔ادارۂ ادب اسلامی ہند، شاخ شیموگہ کے زیر اہتمام آج ملن کمیونٹی ہال میں جشن اقبال منایا گیا۔ جس میں مشہور کالم نویس محمد اعظم شاہد مہمانِ خصوصی کے طور شریک رہے۔اس موقع پر انہوں نے بات کرتے ہوئے کہاکہ علامہ اقبا ل کے اشعار آج کے دورکے حالات کی بھی عکاسی کررہے ہیں،علامہ اقبال کی شاعری منبر ومحراب، محفل و معاشرے کی اصلاح یاپھر نوجوانوں کی تربیت کےحوالے کے طورپر علامہ اقبال کے اشعار کا استعمال کیاجاتاہے۔ایوانِ پارلیمان میں بھی علامہ اقبال کے اشعارکا بھی استعمال کیاجاتاہے۔علامہ اقبال کو بلاتفریقِ مسلک ہر منبر ومحراب میں قبول کیاجاتاہے،علامہ اقبال کی فکرمیں قرآنِ کریم کاذخیرہ موجودہے۔مزید انہوں نے کہاکہعلامہ اقبال ؔ وہ عظیم شاعر تھے جن کی شخصیت اور شاعری کی مقبولیت میں عالمی سطح پر آج تک کوئی کمی نہیں آئی۔ مگرہمارے ہی ملک میں ان کے تعلق سے جو رویہ اختیار کیا گیا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے ۔ جس شاعر نے آزادی سے پہلے اس ملک کو ’’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ‘‘ جیسا قومی ترانہ دیا اور سے اس وقت ملک میں قومی ترانے کے طور پر گایا گیا،آ ج اس شاعر کی ایک بہترین نظم ’’ لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری ‘‘،اس نظم کو شمالی ہند کے مدارس میں بچوں کی زبانی گائے جانے پر ایک بڑا فتنہ کھڑا کر دیا گیا ہے۔ مہمانِ خصوصی کی تقریر سے قبل تمہیدی کلمات بیان کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹرریاض محمود نے کہا کہ علامہ اقبال ؔ نے یہ دونوں نظمیں مولانا حالی ؔ کی مسدس ( مدو جزرِ اسلام ) کے طرز پر لکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور شاعرانہ انداز میں اپنے شکایات پیش کئے ہیں جس میں اسلام کے فتوحات کا ذکر نہایت عالی شان انداز میں پیش کیا ہے۔ پھر جوابِ شکوہ کے ذریعہ شاعر نے امت کے نوجوان طبقے کو امت کے مسائل، ان کا حل اور ہماری ذمہ داریوں کا احساس جگایا ہے ۔علامہ اقبال کی شاعری ہر زاویے سے قرآن اور احادث کی تعلیمات پر مبنی ہے ۔،اس موقع پرادارۂ ادبی اسلامی کے ضلعی صدر عابدا للہ اطہر شیموگوی نےاپنے صدارتی کلمات میں کہاکہ مجھے افسوس ہے کہ نوجوان نسل ادب وثقافت سے دو رہوتی جارہی ہے،ادارۂ ادبی اسلامی کامقصد نوجوان نسل کو ادب سے جوڑناہے،اس کیلئے ہم مسلسل جدوجہد کررہے ہیں،اسی سمت میں تقریری مقابلوں کا بھی انعقادکیاگیاتھا،لیکن اساتذہ اور طلباء کی عدم دلچسپی اس بات کی دلیل ہے کہ طلباء اور اساتذہ ادب وثقافت سے دلچسپی نہیں رکھ رہے ہیں۔ مزید انہوں نےشکوہ اور جوابِ شکوہ کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کو چاہئے کہ ان نظموں کا گہرائی سے مطالعہ کریں ، پھر دیکھیں کہ کس طرح ان نظموں کی تاثیر سے انقلابی شان ہمارے کردار کا حصہ بن جاتی ہے ۔جلسے کی نظامت ادارے کے سکریٹری نعمان بیگ،استقبالیہ کلمات ڈاکٹر ریاض محمود،شکریہ کے فرائض نجات اُللہ خان نے انجام دئیے۔ اس موقع پر ضلع کے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کے اردو طلبا و طالبات کیلئے تحریری و تقریری مقابلوں کا انعقاد کیا گیا تھا۔
