چتردرگا مروگھا مٹھ کے سوامی کی گرفتاری! کیا کرناٹک کی سیاست پر پڑیگا اثر؟

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔چتردرگا مروگھا مٹھ کے سوامی شیومورتی کی گرفتاری سے مذہب کے ذریعہ لوگوں کا استحصال کرنے کا اصل چہرہ سامنے آیا ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے، وہ کم ہے‘ یہ کہنا ہے بنگلورو کے شہری شیو کمار راجہ کا، جو کہ ایک مقامی کالج میں پی جی کے طالب علم ہیں۔ جب بھی کرناٹک میں انتخابات قریب آتے ہیں۔ اسی دوران پارٹی کے سیاست دان بااثر مٹھوں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں تاکہ ان کا آشیرواد حاصل کر سکیں، جس کے نتیجے میں ان کے پیروکاروں کو ایک مضبوط پیغام جاتا ہے کہ ان کے مذہبی رہنما کس کے حق میں ہیں اور کس کے خلاف ہیں۔یہ تصویریں سیاسی طور پر مٹھ کے اثر و رسوخ اور جنوبی ریاست میں اقتدار میں آنے والے لیڈر یا پارٹی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے میں اس کے کردار کے بارے میں بہت کچھ کہتی ہے۔ کرناٹک میں بی جے پی حکومت کو اس معاملے سے نمٹنے کے لیے سختی سے چلنا پڑا۔ جبکہ اسے شرنارو کی گرفتاری سے پہلے اپنے پاؤں گھسیٹنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعہ کے چھ دن بعد پارٹی کے اندرونی ذرائع نےبتایا کہ یہ ایک انتقامی اقدام ہے۔پارٹی کے ایک ذریعے نے کہا کہ پارٹی یہ دیکھنا چاہتی ہیں کہ لنگایت برادری اس کیس پر کیا رد عمل ظاہر کرے گی؟ جو کافی سنگین ہے۔ اگر صحیح طریقے سے نہیں نمٹا گیا تو پاسکو کیس مٹھ اور بی جے پی کی شبیہ کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ پارٹی یہ سمجھنا چاہتی ہیں کہ لنگایت مٹھ کے دیگر قائدین کیسا ردِ عمل ہے۔ پہلے تو ہم نے انہیں سادھو کی حمایت کرتے دیکھا لیکن جیسے جیسے تفتیش گہری ہوتی گئی، انہوں نے خود کو دور کرنا شروع کر دیا، جو پارٹی کے لیے ایک مضبوط موقف اختیار کرنے کا اشارہ بھی ہے۔چتردرگا کا مروگراجندر مٹھ بھی ایسا ہی ایک ادارہ رہا ہے۔ چتردرگا مٹھ ایک لنگایت ادارہ ہے اور اس کمیونٹی میں بہت سے سادھو بااثر ہیں جس سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو بے پناہ حمایت حاصل ہے۔ لنگایت کرناٹک کی ووٹنگ آبادی کا 17 تا 18 فیصد کے قریب ہیں۔ جب کوئی مٹھ کا دورہ کرتا ہے، تو لوگوں کی بھیڑ جمع ہوتی ہے۔شیومورتی مروگھا شرنارو کا میٹنگ روم کرناٹک کے سابق وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ان کی فریم شدہ تصویروں سے بھرا ہوا ہے۔ اب یہ روم پروٹیکشن آف چلڈرن انسٹنٹ سیکسوئل آفنس (POCSO) کیس کے سلسلے میں تحقیقات کا مرکز بن گیا ہے۔بی جے پی نے سادھو کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے اپنی داخلی میٹنگ میں فیصلہ کیا تھا کہ اسے قانون کے ذریعے سزا دینے کی ضرورت ہے اور پارٹی رہنماؤں کو فی الحال اس کی حمایت میں کوئی بیان نہیں دینا چاہیے۔ کیس سے دوری اختیار کرنے سے پارٹی کو متوازن موقف اختیار کرنے میں مدد ملے گی۔ اگر اپوزیشن اسے آئندہ انتخابات میں انتخابی ایشو کے طور پر اٹھانے کا فیصلہ کرتی ہے، تو اس پر بعد میں غور کیا جاسکتا ہے۔